کیا ضروری ہے کہ مٹّی میں مِلا دیں مجھ کو
جرم جتنا ہے بس اُتنی ہی سزا دیں مجھ کو
میرے پندارِ جنوں کا بھی بھرم رکھ لیجے
لذتِ درد بڑھے ایسی دوا دیں مجھ کو
ترک کر دیجئے من من کے بگڑنے کی ادا
آپ کے بس کا نہیں ہے کہ بھلا دیں مجھ کو
دردِ دل مجھ سے ہے اور میں ہی دوائے دل ہوں
’’اختیار آپ کا رکھیں کہ گنوادیں مجھ کو‘‘
جان لے لیتا ہے بے وجہ تغافل دیکھیں !
کم سے کم کوئی خطا ہے تو بتا دیں مجھ کو
میں خود اپنے کو مٹانے پہ تُلا ہوں ضامنؔ
چاہنے والے مرے لاکھ دعا دیں مجھ کو
💖💕💓💜🌺🍃🍂
یاد رکھّوں کہ بھلا دوں مجھے معلوم نہیں
چشم و دل کس کو سزا دوں مجھے معلوم نہیں
اُسی غارت گرِ تسکین سے تسکین بھی ہے
بد دُعا دوں کہ دُعا دوں مجھے معلوم نہیں
جا چکا ہوں میں بہت دُور بتا دو اُس کو
کس طرح خود کو صدا دوں مجھے معلوم نہیں
صِرف قرطاس و قلم رہ گئے ماضی کے اَمیں
اِن کو رکّھوں کہ جَلا دوں مجھے معلوم نہیں
میں ہَر اِک حَرف میں خُود بِکھرا ہُوا ہُوں ضامنؔ
کون سا لفظ مٹا دوں مجھے معلوم نہیں
💖💜🌺🍃🍂🍁🌿🍃
قوم کے سارے شرپسند، محوِعمل تھے رات دن
جتنے بھی اہلِ خیر تھے، صرف دعا کیے گئے
ذکر کیا کرو نہ تم، اہلِ جہاں کے درد کا
تم جو نگاہ پھیر کر، ذکرِ خدا کیے گئے
ربِّ سخن سے یہ گلہ، بنتا نہیں ہے کیا کہ ہم
عہدِ منافقت میں کیوں، نغمہ سرا کیے گئے
کرتے ہو کیوں موازنہ، اہلِ ہوس کا ہم سے تم
ہم تو وہ لوگ ہیں جنھیں، شعر عطا کیے گئے
چارہ گرانِ جسم کو، روح کی کیا خبربھلا
مجھ کو نہیں تھا جو مرض، اُس کی دوا کیے گئے
خالقِ حسن کو بہت، فکر تھی تیرے حسن کی
ہم بہ مشیّتِ خدا، تجھ پہ فدا کیے گئے
ملتا نہ تھا کوئی صلہ، پاسِ وفا کا اور پھر
ہم نے یہ فکر چھوڑ دی، اور وفا کیے گئے
ایک بزرگ روح سے، پوچھی تھی رمزِآگہی
اُس نے کہا کہ عشق کر، ہم بہ رضا کیے گئے
شام وہ اختیار کی، حسن سے کیا اُدھار کی
باقی تمام عمر ہم، قرض ادا کیے گئے
💖💜💛
ردِّ بلا بھی تجھ کو ملے ہر بلا کے ساتھ
لگ جائے تجھ کو آگ بھی میری دعا کے ساتھ
کوئی جہت جہت نہ کوئی سمت جس کی سمت
اس سمت میں بھی چلتا رہا ہوں خدا کے ساتھ
جتنی بہارِ سبز کی میں نے ہے کی طلب
اتنے ہی زرد پتے ہیں آئے ہوا کے ساتھ
اک خوابِ کرب، خوابِ بلا چھوڑتا نہیں
آئے کوئی پری بھی کبھی اس بلا کے ساتھ
ممکن ہی ہو نہ سکتا تھا اس کا کوئی دوام
ہوتی نہ گر فنا بھی ہماری بقا کے ساتھ
عجزِ نظر سے بڑھ کے اسے اور کیا کہوں؟
اک عالمِ وجود بھی دیکھوں خلا کے ساتھ
آئیں گی خوشبوئیں بھی، بہاریں بھی لوٹ کر
صر صر اگر نہ لوٹ کے أئی صبا کے ساتھ
یاؔور مرے ہی سر پہ ہے اڑتا رہا ہمیش
آیا مگر نہ سایہ کوئی اس ہما کے ساتھ
💖💕💜
چاہیے گر، تو کیا نہیں ہوتا
دُور دِل سے خدا نہیں ہوتا
کیسے بتلاؤں تجھ کو بن مرکز
دائرہ دائرہ نہیں ہوتا
دن کو تیری خبر نہیں ہوتی
رات میرا پتا نہیں ہوتا
سب ہیں لپٹے ہزار پردوں میں
درِ پہچان وا نہیں ہوتا
کیا اٹھا پائے گا وہ مے کا مزا
جس نے غم تک پیا نہیں ہوتا
یا الٰہی ترا کرم آخر
سب پہ کیوں ایک سا نہیں ہوتا
دشت تنہائی کا سفر یاؔور
ختم تیرے سوا نہیں ہوتا
خواہشوں کی ہوا سنبھلنے دے
دشتِ حسرت مجھے نکلنے دے
یہ لکیریں ہی میری مجرم ہیں
اے گئے وقت ہاتھ ملنے دے
میری صحرا نوردیوں کا جنوں
میرے ہمراہ لُو میں جلنے دے
یوں نہ غنچوں کو توڑ شاخوں سے
خواہشوں کو دلوں میں پلنے دے
چند لمحوں کا ہے سفر یاؔور
دو قدم مجھ کو ساتھ چلنے دے
💖💜🌷🌈🍃🍂🍃🍂
گزرتے موسم کی اِک سحر بھی
نہ بھول پاؤں گا بھول کر بھی
نہیں اکیلے ہو تم سفر میں
فلک پہ دیکھو ہے اِک قمر بھی
پھریں گے آنکھوں کے آگے چہرے
تو یاد آئیں گے بام و در بھی
طویل ہوتا ہی جا رہا ہے
یہ جلتا صحرا بھی یہ سفر بھی
پھریں گے ہر سو مرے فسانے
ترے نگر بھی، مرے نگر بھی
جو مسکراہٹ بکھیرتے ہیں
وہ دِل میں رکھتے ہیں اِک شرر بھی
ترے ہی در پر ہمیش رہتا
جو ہوتی یاؔور پہ اِک نظر بھی
💖💜🍃🌺🍂🍁
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر”
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
گاہ جلتی ہوئی، گاہ بجھتی ہوئی
شمعِ غم جھلملاتی رہی رات بھر
کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن
کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر
پھر صبا سایہء شاخِ گُل کے تلے
کوئی قِصہ سناتی رہی رات بھر
جو نہ آیا اسے کوئی زنجیرِ در
ہر صدا پربلاتی رہی رات بھر
ایک امید سے دل بہلتا رہا
اک تمنا ستاتی رہی رات بھر
💖💛🍃🍂🍁🍀🌺
یاد کا پھر کوئی دروازہ کھُلا آخر شب
دل میں بکھری کوئی خوشبوئے قبا آخر شب
صبح پھوٹی تو وہ پہلو سے اُٹھا آخر شب
وہ جو اِک عمر سے آیا نہ گیا آخر شب
چاند سے ماند ستاروں نے کہا آخر شب
کون کرتا ہے وفا، عہدِ وفا آخر شب
لمسِ جانانہ لیے، مستیِ پیمانہ لیے
حمدِ باری کو اٹھے دستِ دعا آخر شب
گھر جو ویراں تھا سرِ شام وہ کیسے کیسے
فرقتِ یاد نے آباد کیا آخر شب
جس ادا سے کوئی آیا تھا کبھی اوؐلِ شب
اسی انداز سے چل بادِ صبا آخر شب
💖💜🌺🍃🍂🍁
سننے کو بھیڑ ہے سرِ محشر لگی ہوئی
تہمت تمہارے عشق کی ہم پر لگی ہوئی
رندوں کے دم سے آتش مے کے بغیر بھی
ہے میکدے میں آگ برابر لگی ہوئی
آباد کرکے شہرِ خموشاں ہر ایک سو
کس کھوج میں ہے تیغِ ستمگر لگی ہوئی
آخر کو آج اپنے لہو پر ہوئی تمام
بازی میانِ قاتل و خنجر لگی ہوئی
’’لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی
💖💜🍃🍂🌺
میں غازی ہوں مجھے عزم و یقیں کا شہر کہتے ہیں
مرے ہر وار کو دشمن خدا کا قہر کہتے ہیں
مجھے شعلوں کا دریا‘ بجلیوں کی نہر کہتے ہیں
سدا بڑھتا ہوں آگے پیٹھ دکھلانا نہیں آتا
میں غازی ہوں قضا سے مجھ کو گھبرانا نہیں آتا
عُقابی ہیں مری آنکھیں چمک جن میں شراروں کی
مرے ہی بازوؤں میں ہے صلابت کوہ ساروں کی
مری ہیبت سے لرزاں ہیں فضائیں کارزاروں کی
سدا بڑھتا ہوں آگے پیٹھ دکھلانا نہیں آتا
میں غازی ہوں قضا سے مجھ کو گھبرانا نہیں آتا
مری تکبیر کے آگے بموں کی گھن گرج کیا ہے
وہ ٹینکوں کی قطاریں لے کے آجائیں حرج کیا ہے
میں ہوں خیبرشکن‘ میرے یے دیوارِ کَج کیا ہے
سدا بڑھتا ہوں آگے پیٹھ دکھلانا نہیں آتا
میں غازی ہوں ‘ قضا سے مجھ کو گھبرانا نہیں آتا
پسینہ جس
کبھی کبھی تو سرِ راہ دیکھ کر ہم کو
تمھارے سر سے بھی آنچل سرک ہی جاتا ہے
تمھاری عنبریں زُلفوں کی تیز لپٹوں سے
ہمارا سینہِ ویراں مہک ہی جاتا ہے
کوئی تو بات ہے جو ہم کو مُلتفت پآ کر
بصد غرور کبھی مسکرا بھی دیتی ہو
اداے خاص سے لہرا کے، رقص فرما کے
ہمارے شعلہِ دل کو ہوا بھی دیتی ہو
کبھی بہ پاسِ تقدّس، ہماری نظروں سے
اُلجھ کے ٹوٹ گئی ہے تمھاری انگڑائی
قسم خدا کی بتاؤ بوقتِ آرایش
حضورِ آئنہ تم کو حیا نہیں آئی
ہماری شورشِ جذبات کے تخاطب پر
تمھارے ہونٹ یقینا پھڑکنے لگتے ہیں
وُفورِ شوق کی رِم جِھم سے شوخ سینے میں
کبھی کبھی تو کئی دل دھڑکنے لگتے ہیں
اب اپنے نیم تغافل سے باز آجاؤ
تمھیں غرور ہی لازم ہے سرکشی تو نہیں
ہمارے ذوقِ طلب کے جواب میں حائل
ذرا سی
نہ زلزلوں سے ہراساں ، نہ آندھیوں سے ملول
مثالِ کوہ تھے دشتِ بلا میں سبطِ رسولؐ
وہ زخمِ پاے مبارک، وہ برچھیاں ‘ وہ ببُول
وہ العَطَش کی صدائیں ‘ وہ تپتی ریت‘ وہ دُھول
شہید خاک پہ تڑپیں ‘ رِدائیں چھن جائیں
یہ امتحاں بھی گوارا‘ وہ امتحاں بھی قبول!
زمینِ کرب و بلا تجھ کو یاد تو ہو گی
لُہو میں ڈوب کے نکھری تھی داستانِ حُسینؑ
ہزار ظلم و تشدّد کی آندھیاں آئیں
کسی طرح نہ مٹا دہر سے نشانِ حُسینؑ
لَبوں پہ کلمہِ حق ہے دلوں میں ذوقِ جہاد
جہاں میں آج بھی رہتے ہیں ترجمانِ حُسینؑ
اگر حُسینؑ نہ دیتے سراغِ منزلِ حق
زمانہ کُفر کی وادی میں سو گیا ہوتا
جہاں پہ چھاگئے ہوتے فنا کے سنّاٹے
شعورِ زیست اندھیروں میں کھو گیا ہوتا
موت سے کس لیے ڈراتے ہو
زندہ رہنے کی کوئی بات کرو
چاہتے ہو اگر سحر کی نمُود
یہ چراغاں بجھا دو‘ رات کرو
💖🍃🍂🌺
ہم سے روشن ہیں محفلوں کے چراغ
رونقِ صبح و شام ہیں ہم لوگ
ہم نے تخلیقِ دوجہاں کی ہے
واجبُ الاحترام ہیں ہم لوگ
💖💜💛🍃🌺🍂
جذبہِ خام تو نہیں ہم لوگ
اس قدر عام تو نہیں ہم لوگ
ساتھ چلنے سے کیوں جھجکتے ہو
اتنے بدنام تو نہیں ہم لوگ
😍💖🌷🌺🍃
ہر رنج کو ہنس کے ٹال جاتا ہوں میں
ناکامیوں پر بھی مسکراتا ہوں میں
اللہ کی قدرت کا تو قائل ہوں مگر
اپنی تقدیر خود بناتا ہوں میں
💖🌷🌺🍃
gud aftarnon😍
سخت سردی میں ملک کے مختلف جگہوں پر کھلے اسمان تلے ڈیوٹی کرنے والے جوانوں کو اللہ اپنی حفظ امان میں رکھیں۔امین
by night duty tim on🙌
اُسے تو وعدۂِ فردا کا ہی بہانہ بہت ہے
ہمیں بنامِ وفا اُس نے آزمانا بہت ہے
نئے سفر پہ چلے ہو، اسے اتارتے جاؤ
تمہارا پیرہنِ زندگی پرانا بہت ہے
دیارِ غیر میں کیوں خفتیں سمیٹنے جاؤں
مرے لئے مری مٹی کا یہ ٹھکانا بہت ہے
میں اپنی ارضِ حسیں سے سلوک جیسا کروں
مجھے ہے اس سے محبت، یہی بہانہ بہت ہے
عدو سے دوستی کر لی تو کیا برائی ہے اس میں
مگر یہ کارِ سیاست منافقانہ بہت ہے
مجھے بھی عرش کے آدرش سے اترنا پڑے گا
کہ میری وقت کا معیار درمیانہ بہت ہے
میں اس سے صلح بھی کر لیتا، کچھ بعید نہیں
مگر وہ اپنے رویّے میں درمیانہ بہت ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain