نور ہی نور سے مکھڑے پہ وہ نوری آنکھیں اس کے انجیل سے چہرے پہ زبوری آنکھیں چھوڑ آیا ہوں کسی آنکھ میں بینائی کو اور بچا لایا ہوں چہرے پہ ادھوری آنکھیں ایک جادو ہے سبھی کا کئی منتر لیکن سبز گوں ہیں کہی نیلی کہی بھوری آنکھیں اسے پہلو میں بیٹھا کر اسے تکنے کا نشہ کس قدر ہو گئی چہرے پر ضروری آنکھیں