ہونٹوں پہ ساحلوں کی طرح تشنگی رہی.... میں چُپ ہُوی تو میری انا چیختی رہی... اک نام کیا لکھا تیرا ساحل کی ریت پر ... پھر عمر بھر ہوا سے میری دشمنی رہی... سڑکوں پہ سرد رات رہی میری ہمسفر آنکھوں میں میرے ساتھ تھکن جاگتی رہی یادوں سے کھیلتی رہی تنہائی رات بھر خوشبو کے انتظار میں شب بھیگتی رہی وہ لفظ لفظ مجھ پہ اترتا رہا محسنؔ سوچوں پہ اسکے نام کی تختی لگی رہی محسن نقوی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain