ادھوری خواہشوں کے بدلے
ادھورے خواب کی تقدیرے خرید بھٹے
گنتی تو یاد نہیں مگر یاد ہیں اتنا
جو بھی ﺫخم ملے تھے سب
بہاروں کے موسم میں ملے تھے
جو نہ رویا تھا کبھی تپتی راہوں میں
اج دیوار کے سہارے بیٹھا تو بہت رویا
🍂🍂🍂جگنو کہاں تک دیکھاتے راستہ مجھے
تیرے جزبے کا شعلہ بھجا ھوا تھا🍀🍀🍀
خدا کا بندہ وہ ہیں
جو بندو کا خدا نہ بنے