Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

جانے اس شخص کو یہ کیسا ہنر آتا ہے
رات ہوتی ہے تو آنکھوں میں اتر آتا ہے
میں اسکے خیال سے نکلوں تو کہاں جاؤں
وہ میری سوچ کے ھر رستے پہ , نظر آتا ھے

Offline
 

میں اس کو آنسوؤں سے لکھ رہا ہوں
کہ میرے بعد کوئی پڑھ نہ پائے

Offline
 

ہمیں ملنا تو ان آبادیوں سے دور ملنا
اسے کہنا گئے وقتوں میں ہم دریا رہے ہیں
.
بچھڑ جانے کا سوچا تو نہیں تھا ہم نے لیکن
تجھے خوش رکھنے کی کوشش میں دکھ پہنچا رہے ہیں

Offline
 

ممکن نہیں کہ ساتھ نبھائیں تمام عمر
ممکن بھی کس طرح ہو کہ دونوں ذہین ہیں

Offline
 

جب کوئی جانور تمہارے قریب آ جائے، تم سے مانوس ہو جائے، یا کوئی پرندہ پہلی بار تمہارے ہاتھ پر آ بیٹھے، تو کسی نا کسی طرح دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ تم اپنے اندر ایک گونہ فخر محسوس کرتے ہو، یوں لگتا ہے جیسے تم بہت نرم دل ہو، شفقت سے بھرپور ہو، ورنہ وہ اپنی جان کا بھروسا تم پر کیوں کرتا؟ تم مسکراتے ہو اور یوں ساکن ہوجاتے ہو کہ کہیں وہ تم سے ڈر نہ جائے یا گھبرا نہ اٹھے۔ تو کیا تم جانتے ہو، پھر ایک انسان کا تم سے مانوس ہونا اور تمھاری رفاقت میں خود کو محفوظ پانا کیا معنی رکھتا ہے؟

Offline
 

دیکھی ہے مری اُداسی اُس نے
اور دیکھ کے مسکرا دیا ہے

Offline
 

تیری الفت کے تقاضے بھی عجب انداز کے ہیں۔
اقرار الگ تکرار الگ تعظیم الگ فرمان الگ

Offline
 

گُزر تو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے

Offline
 

میرے خوابوں کو هے موسم پہ
بهرو سہ كتنا
پھول کھلیں بعد میں ھار پرولوں پہلے

Offline
 

میں یادوں کا قصہ کھولوں تو
کچھ دوست بہت یاد آتے ہیں
میں گزرے پل کو سوچو تو
کچھ دوست بہت یاد آتے ہیں
اب جانے کون سی نگری میں
آباد ہیں جا کر مدت سے
میں دیر تک جاگوں تو
کچھ دوست بہت یاد آتے ہیں
کچھ باتیں تھیں پھولوں جیسی
کچھ لہجے خوشبو جیسے تھے
میں شہر چمن میں ٹہلوں تو
کچھ دوست بہت یاد آتے ہیں
وہ پل بھر کی ناراضگیاں
اور مان بھی جانا پل بھر میں
اب خود سے بھی روٹھوں تو
کچھ دوست بہت یاد آتے ہیں

Offline
 

صادق ہوں اپنے قول میں غالب، خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کے جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

Offline
 

عورت اس لیے شادی کرتی ہے کہ تعریف کرنے کے لیے ایک بندہ مل جائے اور مرد اس لیے شادی کرتا ہے کہ تعریف کئے بغیر عورت مل جائے ویسے گھر کو جنت بنانے کے لیے شادی ضروری ہے میرا ایک دوست کہتا ہے یہ ٹھیک ہے کیونکہ مرنے کے بعد ہی جنت مل سکتی ہے دنیا کی وہ عورت جسے آپ ساری زندگی متاثر نہیں کر سکتے وہ بیوی ہے اور وہ عورت جیسے آپ چند منٹوں میں متاثر کر سکتے ہیں وہ بھی بیوی ہے مگر کسی دوسرے کی بندہ اس لیے شادی کرتا ہے کہ سکون سے رہے جو شادی نہیں کرتے ہیں وہ بھی اسی لیے شادی نہیں کرتے شادی وہ عمل ہے جس میں دو لوگ مل کر اسطرح رہتے ہیں ایک دوسرے کو رہنے نہیں دیتے ویسے شاعروں کو ضرور شادی کرنی چاہیئے اگر بیوی اچھی مل گئی تو زندگی اچھی ہو جائے گی بیوی اچھی نہ ملی تو شاعری تو اچھی ہو جائے گی

Offline
 

دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
دل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں
آج تک اپنی بے کلی کا سبب
خود بھی جانا نہیں کہ تجھ سے کہیں
بے طرح حال دل ہے اور تجھ سے
دوستانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
ایک تو حرف آشنا تھا مگر
اب زمانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
قاصدا! ہم فقیر لوگوں کا
اک ٹھکانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
اے خدا! دردِ دل ہے بخشش دوست
آب و دانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
اب تو اپنا بھی اس گلی میں فراز
آنا جانا نہیں کہ تجھ سے کہیں

Offline
 

ایک شخص نے رمضان کے دنوں میں عطا الله شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ سے مذاق کرتے پوچھا کہ حضرت!
علماء تعبیر و تاولیل میں بڑے ماہر ہوتے ہیں کوئی ایسا نسخہ بتائیں کہ انسان کھاتا پیتا رہے اور روزہ بھی نہ ٹوٹے ۔
حضرت شاہ جی کو اس کا یہ مذاق برا تو لگا لیکن شاہ جی نے اپنے مخصوص انداز میں حاضرانہ جواب دیتے ہوئے
فرمایا: یہ تو بہت آسان ہے۔
ایک شخص کو مقرر کردو جو تمہیں صبح سے شام تک جوتے مارتا رہے اور تم جوتے کھاتے رہو اور اس کے نتیجے میں آپ کو جو غصہ آئے اس غصے کو پیتے جاؤ۔
اس طرح جوتے کھاتے رہو اور غصہ پیتے رہو۔ کھانا پینا بھی ہوجائے گا اور روزہ بھی نہیں ٹوٹے گا

Offline
 

میری راہوں میں کانٹے نہ بچھاؤ
کل تمہیں مجھ سے ملنے آنا پڑ سکتا ہے۔۔

Offline
 

Out beyond ideas of wrongdoing and rightdoing, there is a field. I'll meet you there.
پتا ہے۔۔۔ ! یہاں سے بہت دور غلط اور صحیح کے اس پار ایک میدان ہے میں وہاں ملوں گا تجھے

Offline
 

اِن میں سے کوئی ہجر میں امداد کو آئے
جن، دیو، پری، خضر یا لقمان وغیرہ۔

Offline
 

انسان ان چیزوں سے کم بیمار ہوتا ہے جو وہ کھاتا ہے ۔۔۔زیادہ وہ ان چیزوں سے بیمار ہوتا ہے جو اندر ہی اندر اسے کھا رہی ہوتی ہیں ۔۔۔!
جون ایلیا صاحب نےکیا خوب لکھا ہے۔
.
وہ باتیں کھا گئیں مجھ کو
جو باتیں پی گیا تھا میں

Offline
 

میں تمھاری آنکھوں میں پیار بن کے رہتاہوں
نور بن کے بستاہوں خواب بن کے زندہ ہوں
میرے سارے خوابوں کو ان جمیل آنکھوں کے ایک گوشے میں چھپاکے رکھ لینا
اور اگر کبھی یہ خواب پھول بن کے مہکیں تو انکی خوشبوؤں میں میرے نام کے سب حرف احتیاط سے رکھنا

Offline
 

اب وہ مجھے کم یاد آتا ہے
اور یہ بات میں نے اسے سوچ کر لکھی ہے