مجھے ان وادیوں میں سیر کی خواہش نہیں باقی
مجھے ان بادلوں سے راز کی باتیں نہیں کرنی
مجھے ان دھند کی چادر میں اب لیے نہیں رہنا
مجھے اس عالم سیخ بستگی سے کچھ نہیں کہنا
مجھے اس کار پر اسرار کا داعی نہیں بننا
میں خوابوں کے دریچوں میں کھڑا رہنے سے قاصر ہوں
میں زندہ زندگی کی ساعتوں کا ایک شاعر ہوں
مجھے اک لہلہاتے جھولتے پیکر کی خواہش ہے
مجھے ان منظروں میں ایسے اک منظر کی خواہش ہے
کوئی بات نہیں، اس میں بھی کوئی بہتری ہو گی
میں خود کو کھو چکا ہوں کسی کی تلاش میں
ممکن ہے کہ اب میرا مجھ سے کبھی رابطہ نہ ہو
درد اتنا تھا کہ اس رات دلِ وحشی نے
ہر رگِ جاں سے الجھنا چاہا
ہر بُنِ مو سے ٹپکنا چاہا
اور کہیں دُور ترے صحن میں گویا
پتا پتا مرے افسردہ لہو میں دُھل کر
حسنِ مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگا
میرے ویرانہِ تن میں گویا
سارے دُکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کھل کر
سلسلہ وار پتا دینے لگیں
رخصتِ قافلہِ شوق کی تیاری کا
اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں
ایک پل آخری لمحہ تری دلداری کا
درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا
ہم نے چاہا بھی مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا
دل نے کسی کی مان کے ہونا نہیں ہے ٹھیک
حالانکہ ان دونوں اسے رونا نہیں ہے ٹھیک
افسوس ہے کہ دشت میں وحشت نہیں رہی
دنیا ترا تو کوئی بھی کونا نہیں ہے ٹھیک
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر
...
کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا
کوئی آواز آتی رہی رات بھر
اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں
ایک پل آخری لمحہ تری دلداری کا
درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا
ہم نے چاہا بھی مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا۔۔
میرا رستہ تک تک کے
جب آنکھیں تھک جائیں
ہاتھوں کی لکیروں کو
مہندی سے چھپا لینا
نظروں کو جھکا لینا
دنیا سے چھپا لینا
وہ تو وہ اس کی شباہت نہیں ملنے والی
کسی صورت سے وہ صورت نہیں ملنے والی
کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا
میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا
دل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑک
کوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا
اس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گل
تو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگا
دل کی قسمت ہی میں لکھا تھا اندھیرا شاید
ورنہ مسجد کا دیا کس نے بجھایا ہوگا
گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو
آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا
کھیلنے کے لیے بچے نکل آئے ہوں گے
چاند اب اس کی گلی میں اتر آیا ہوگا
کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں
اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا
آٶ دیکھو میرے چہرے کے خدو خال کو اب
مان جاٶ گے محبت بھی نشاں چھوڑتی ہے
اہل دل اسکو دل نہیں کہتے
جو تڑپتا نہ ہو کسی کے لیے
ریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار
اک لمحہ کو ٹھہر میں تجھے پتھر لادوں
میں تیرے سامنے انبار لگادوں لیکن
کون سے رنگ کا پتھر تیرے کام آئے گا
سرخ پتھر جسے دل کہتی ہے بے دل دنیا
یا وہ پتھرائی ہوئی آنکھ کا نیل پتھر
جس میں صدیوں کے تحیر کے پڑے ہوں ڈورے
کیا تجھے روح کے پتھر کی ضرورت ہوگی
جس پر حق بات بھی پتھر کی طرح گرتی ہے
اک وہ پتھر ہے جو کہلاتا ہے تہذیبِ سفید
اس کے مرمر میں سیاہ خوں جھلک جاتا ہے
اک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مگر
ہاتھ میں تیشہ زر ہو تو وہ ہاتھ آتا ہے
جتنے معیار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیں
شعر بھی رقص بھی تصویر و غنا بھی پتھر
میرے الہام تیرا ذہن ِ رسا بھی پتھر
اس زمانے میں ہر فن کا نشان پتھر ہے
ہاتھ پتھر ہیں تیرے میری زبان پتھر ہے
ریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار۔۔۔
چشمِ سحر
یہ آنکھیں،
روشنی کی نرمی میں لپٹی ہوئی کائنات ہیں۔
ہر جھلک میں چھپی ایک خاموش دھڑکن،
ہر پلک کے جھکنے پر وقت اپنی رفتار بھول جاتا ہے۔
ان کی گہرائی میں ڈوبنا،
ایسا ہے جیسے سمندر کے سب راز
بس ایک لمحے میں سامنے آ جائیں۔
یہ دیکھتی نہیں، یہ دل کے راز پڑھ جاتی ہیں،
اور ہر عاشق، ہر دل،
ان کے سحر میں بے اختیار رہ جاتا ہے۔
یہ آنکھیں وہ پلکیں ہیں جو
دنیا کی ہر دھوپ اور ہر سایہ کو نرم کر دیتی ہیں،
اور ایک ہی نظر میں
دل کی تمام ویرانیوں کو بہار میں بدل دیتی ہیں۔
فلسفہ، دن، تاریخ، سائنس، سماج، عقیدہ، زبانیں، معاشی مساوات، انسان کے رنگ و عادات و اطوار، ایجاد، تقلید، امن انتشار، نین کی عظمت کے قصے، فطری بلاؤں سے اور دیوتاؤں سے جنگ، صلاح ناما لیے تیز گھوڑوں پے سوار سہمے سپاہی، نظریہ سماوات میں کانٹ نے کیا کہا اور اس کے جرابوں کی فیتوں کی ڈبیا، کیمیا کے خزانوں کا منہ کھولنے والا بابل کون تھا، جس نے پارے کو پتھر میں ڈالا، سمندر کی تسخیر اور ایٹلانٹک میں آبادیاں، مچھلیاں کشتیوں جیسی کیوں ہیں اور رافیل کے ہاتھ پر مٹی کیسے لگی، یہ سوال اور یہ باتیں میرے کس کام کی، پچھلے ایک سال سے میں اسکی آواز تک نہیں سن سکا اور یہ پوچھتے ہیں کہ ہیگل کے نزدیک تاریخ کیا ہے.؟
"تھی جو وہ اک تمثیل ماضی آخری منظر اس کا یہ تھا
پہلے اک سایہ سا نکل کے گھر سے باہر آتا ہے
اس کے بعد کئی سائے سے اس کو رخصت کرتے ہیں
پھر دیواریں ڈھے جاتی ہیں دروازہ گر جاتا ہے"
سجن بن راتاں ہوئیاں وڈیاں
رانجھا جوگی، میں جو گیانی،کملی کر کرسڈی آں
ماس جھڑے،جھڑ پنجر ہویا، کڑکن لگیاں ہڈیاں
میں ایانی،نیہوں کی جاناں،برہوں تناواں گڈیاں
کہے حسین فقیر سائیں دا، دامن تیرے میں لگی آں
.
.
اوکھے لفظاں دے معنے
سجن : محبوب
وڈیاں: لمی
سڈیاں: سدی گئی ہاں
کڑکن لگیاں ہڈیاں: ہڈیاں ناطاقتی پاروں کڑکڑ کرن لگی آں۔
ایانی: نکی عمر دی بالڑی۔
نیہوں کی جاناں: محبت نوں کیہ جاناں۔
برہوں: جدائی
تناواں: پتنگ دی ڈور۔
تجھ کو پانے میں مسئلہ یہ ہے
تجھ کو کھونے کے وسوسے آئیں گے
تُو ادھر دیکھ مجھ سے باتیں کر
یار چشمے تو پھوٹتے رہیں گے
ایک مدت ہوئی ہے تجھ سے ملے
تُو تو کہتا تھا رابطے رہیں گے
بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں
لگے گا، لگنے لگا ہے، مگر لگے گا نہیں
نہیں لگے گا اُسے دیکھ کر، مگر خوش ہے
میں خوش نہیں ہوں مگر، دیکھ کر لگے گا نہیں
کھو بیٹھا ہے۔
ایک اور مصرعہ ثبت ہوتا ہے:
مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوس
زلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے
اب اسی دلکش خواب میں غالبؔ کھوئے ہوئے ہیں۔ دل کی خواہش پھر سے عشق کو دعوت دے رہی ہے۔ محبوب کی آنکھیں اور نگاہیں جن پر سرمے کی رنگ کاری ہے، وہ ہتھیار بن چکی ہیں جو سیدھا دل پر تیر کی مانند گرتی ہیں، جیسے شب کے سیاہ ابریں پر چمکتا ہوا چاند ہر نظر کو سحر میں مبتلا کرے۔ جو سامنے آئے گا وہ ان نگاہوں کے وار سے بچ نہیں سکے گا۔ آنکھیں اور شراب،
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain