بات گئی ہے کئی بار ترک تعلق تک
مگر میں محبت کو محبت سے بچا لیتا ہوں
"میں ہر وقت تمہاری یاد کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھا رہتا ہوں۔ تم اگر ایک ہزار دفعہ بھی مجھے ٹھکراؤ، میں تب بھی تمہاری طرف لوٹ کر آؤں گا۔"
.
یہ شعر گر یہ مصور یہ سارے بد اوقات
یہ سب خیال کی چھت پر اسی سے ملتے ہیں
.
وہ ایک بار نہیں ہے ہزار بار ہے وہ
سو ہم اسی سے بچھڑ کر اسی سے ملتے ہیں
جس کی ہم کو چاہ تھی اس شخص کے سوا
.
بزمِ احباب میں ہر شخص نے چاہا ہم کو
محبت کرتے ہوئےاس بات کا خیال رکھنا کہ
جس سے مُحبت کی جائے اسکا تابع ہونا پڑتا ہے
یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے
اب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے
.
اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے
اور محبت وہی انداز پرانے مانگے
یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی
فرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی
یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں
شمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی
کوئی خدا ہو کہ پتھر جسے بھی ہم چاہیں
تمام عمر اسی کی عبادتیں کرنی
سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے
کسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی
ہم اپنے دل سے ہی مجبور اور لوگوں کو
ذرا سی بات پہ برپا قیامتیں کرنی
ملیں جب ان سے تو مبہم سی گفتگو کرنا
پھر اپنے آپ سے سو سو وضاحتیں کرنی
یہ لوگ کیسے مگر دشمنی نباہتے ہیں
ہمیں تو راس نہ آئیں محبتیں کرنی
کبھی فرازؔ نئے موسموں میں رو دینا
کبھی تلاش پرانی رفاقتیں کرنی
بہت مصروف ہو مانا
مگر سوچو ذرا
تم بھی کبھی تھے آشنا ہم سے
تمہاری ملتجی آنکهيں
ابھی تک یاد ہیں مجھکو
بڑی بے ربط سی باتیں
ابھی تک یاد ہیں مجھکو
مگر جاناں
تمہاری آرزو تو میری چاہت ہے
یہ میرا مسئلہ ہے کہ
مجھے تم سے محبت ہے
سو اب یہ طے کیا ہے میں نے
تنہاٸی کے لمحوں میں
کہ کاسہِ محبت
توڑ پھنکیں گے
جلا دیں گے تمہیں دل سے بھلا دیں گے
ململ ریشم ، کھدر اچھا لگتا ہے
کچھ بھی پہنو تُم پر اچھا لگتا ہے
مجھ کو یونہی اچھی لگتی رہنا تم
اچھا لگنا تم پر اچھا لگتا ہے
تیری یادیں، وہ ساری باتیں
تو ہی بتا کیسے بھلاؤں؟
.
کس سے کہوں
تیرے بنا اب میں کیا کروں؟
تیری یادیں، وہ ساری باتیں
تو ہی بتا کیسے بھلاؤں؟
اب تک دلِ خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ
واقعی ہم بہت عجیب ہیں
خود اپنی خاموشیوں، تضادوں اور الجھنوں کو سمجھنے سے پہلے دوسروں کے دل پڑھنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔
کبھی خود کو بچانے کے لیے فاصلے اختیار کرتے ہیں، تو کبھی انہی فاصلوں میں خود کو کھو دیتے ہیں۔
اور شاید سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اس سارے عمل میں ہم دوسروں کو سمجھتے سمجھتے، آہستہ آہستہ خود سے ہی ناواقف ہو جاتے ہیں
سو اپنا اپنا راستہ ہنسی خوشی بدل دیا
وہ اپنی راہ چل پڑی میں اپنی راہ چل دیا
.
بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اسکی دوستی
اب اسکی یاد رات دن؟ نہیں، مگر کبھی کبھی
قسمت کو منظور یہی تھا جیتی بازی ہار گئے
لڑتے رہے ہم طوفانوں سے اور وہ دریا پار گئے
اس شہرِ محرومِ وفا میں جینا بھی کیا جینا ہے
آنکھیں ویراں، سینہ خالی جب سے وہ سرکار گئے
جنکی یاد کو دل میں بسا کر ہم نے عمر گزاری تھی
اب تو اُنکے نام پر ذندہ رہنے کے آثار گئے
اب تو اپنی محفل میں کچھ تاجر ہیں کچھ سوداگر
جن پر ہم کو فخر تھا وہ سب دوست گئے، وہ یار گئے
میرے دل کے آئینے میں جن کا نام نمایاں تھا
ان کے جھوٹے وعدے ہم کو جیتے جی ہی مار گئے
انکا دل پتھر تھا محسنؔ پتھر کو کیا ہوتا ہے
کوئی آنسو کام نہ آیا سب شکوے بیکار گئے
محبتیں بھی تو حیران ہیں کہ آئے دن
وفا کا طور طریقہ بدلتا رہتا ہے
کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم بھرنا نہیں چاہتے کیوں کے وہ آخری رابطے ہوتے ہیں اُس چیز سے جو ہم نے کھوئی ہو
۔
بشیر بدر صاحب کا شعر ہے
۔
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
مجھ کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہمنام تیرا
کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے
دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے
جو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے
تم سے محبت کرنا میرے اختیار میں نہیں تھا اور نہ کبھی میں نے ایسا ہونا چاہا تھا لیکن اب جو محبت ہو گئی ہے تو تم مجھے نا ممکن " اور " ممکن " کے وسوسوں میں مت ڈالو اور خود سوچو سیکھانے سے یا احتیاط کی تلقین کرنے سے کوئی پیچھے ہٹا ہے ؟ اور پھر میری دسترس میں تو دعا کی قوت رکھی گئی
ہے، میں آغاذ نہیں بدل سکتا مگر اختتام تو اب بھی میرے ہاتھ میں ہے، مجھے تم جہاں لا حاصل اور ادھوری محبت کا سبق دے رہے ہو وہاں تم مجھے یہ کیوں نہیں بتاتے کے میری دعائیں اس سبق کے نتیجے کو بدل بھی سکتی ہیں میں بھی پہلے تم جیسے ڈرپوک ہوا کرتا تھا ، دعا سے پہلے قبولیت
کا کم . حساب کتاب لگایا کرتا تھا کے یہ دعا قبول ہو بھی سکتی ہے یا نہیں اور اس بے یقینی کو اللہ کے فیصلوں کا احترام سمجھا کرتا تھا لیکن اب میں یقین کے اس
دوہرائے پر کھڑا ہوں جہاں میں جانتا ہوں کہ وہ دعا قبول پہلے کرتا ہے اور توفیق بعد میں دیتا ہے. اور آپ تو میری دعا کا وہ حصہ ہیں جو زبان سے ادا نہیں ہوتا، جس کا حال آنکھیں اللہ کو سناتی ہیں، آپ سے جڑی رازداریاں یا تو وہ جانتا ہے یا میں جانتا ہوں کسی اور کی پہنچ نہیں یہاں تک کیونکہ آپ دل میں رہتے ہیں اور دل کے سارے معاملات تو بس اللہ سے ہی جڑے ہوتے ہیں اور محبت کے خواب انہی کے پورے ہوتے ہیں ؟ جو ان کی تعبیر اللہ کے سوا اور کسی سے طلب نہیں کرتے۔ اس لیے آپ کی محبت آپ سے نہیں اللہ سے چاہیے اور وہ جانتا ہے کے اس کے در پہ سوالی ہاتھ خالی واپس جانے کے لیے نہیں آتے۔
اس لیے اس کو دلاتا ہوں میں غصہ تابش
تاکہ دیکھوں میں اسے اور بھی پیارا کر کے
میں کسی اور کو سوچوں تو مجھے ہوش آئے
میں کسی اور کو دیکھوں تو یہ نشہ ٹوٹے
.
اتنی جلدی تو سنبھلنے کی توقع نہ کرو
وقت ہی کتنا ہوا ہے مرا سپنا ٹوٹے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain