Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

ارے لوگو ! تمہارا کیا
میں جانوں _______ میرا خدا جانے

Offline
 

اے عدمؔ مروت اور ان حسین آنکھوں میں
یونہی خوبصورت سی ایک بدگمانی ہے

Offline
 

محبت عام سا اک واقعہ تھا
ہمارے ساتھ پیش آنے سے پہلے

Offline
 

ہوئے فاصلے
جھوٹے سلسلے
ٹوٹے ہوئے دل جائیں کہاں

Offline
 

جس طرح ٹوٹ کے گرتی ہے زمیں پر بارش"
"اس طرح خود کو تیری ذات پہ مرتے دیکھا

Offline
 

میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر
ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی

Offline
 

باب مارلے نے کہا تھا کہ تم کہتے ہو تمہیں بارش پسند ہے، لیکن جب بارش ہوتی ہے تو تم چھتری لے لیتے ہو؛ تم کہتے ہو تمہیں سورج پسند ہے، لیکن جب دھوپ آتی ہے تو تم چھاؤں تلاش کرتے ہو؛ تم کہتے ہو تمہیں ہوا پسند ہے، لیکن جب ہوا چلتی ہے تو تم کھڑکی بند کر دیتے ہو، اسی لیے مجھے ڈر لگتا ہے جب تم کہتے ہو کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔

Offline
 

چاند دھرے رہ جاتے ہیں آکاشوں پر
اک میسج سے عید مبارک ہوتی ہے
عید مبارک۔

Offline
 

کہانی کار نے سب کو بتا دیئے کِردار۔۔
مجھے بس اتنا کہا ہے کہ تم نے مرنا ہے

Offline
 

یک لمحہ دیدہ شبنم میں
عکسِ گل ہوا
ایک لمحہ سانپ بن کر
رینگتا تھا روح پر
ایک لمحہ چاندنی میں پُرفشاں
ایک لمحہ چلچلاتی دھوپ میں کوہِ گراں
ایک لمحہ نغمہ داود میں کھویا ہوا
ایک لمحہ چاہِ یوسف کی طرح سرد وسیاہ
ایک لمحہ بجلیوں کی چلمنوں سے جھانک کر
پردہ ہائے نیلگوں میں چھپ گیا
ایک لمحہ تیرگی ابر وباراں میں تھا منہ ڈھانپے ہوئے
ہائے کتنے بے ثبوت وبےثبات ہے،یہ لمحہ حیات
کوئی کوئی لمحہ پھر بھی تاابد پائندہ ہے
میرے دل کی دھڑکنوں میں زندہ ہے

Offline
 

چاہتا ہوں تمہیں اور بہت چاہتا ہوں
تمہیں خود بھی معلوم ہے
ہاں اگر مجھ سے پوچھا کسی نے
تو میں سیدھا منہ پر مکر جاؤں گا
تیرے دل سے
تیرے شہر سے
تیرے گھر سے
تیری آنکھ سے
تیرے درد
تیری گلیوں سے
تیرے وطن سے نکالا ہوا ہوں
کدھر جاؤں گا۔

Offline
 

یہ غم کیا دِل کی عادت ہے؟ نہیں تو
کسی سے کُچھ شِکایت ہے؟ نہیں تو
ہے وہ اِک خوابِ بے تعبیر اُس کو
بُھلا دینے کی نیت ہے؟ نہیں تو
کِسی کے بِن کِسی کی یاد کے بِن
جیئے جانے کی ہِمّت ہے؟ نہیں تو
کِسی صُورت بھی دِل لگتا نہیں ؟ ہاں
تو کُچھ دِن سے یہ حالت ہے؟ نہیں تو
تِرے اِس حال پر ہے سب کو حیرت
تُجھے بھی اِس پہ حیرت ہے؟ نہیں تو

Offline
 

وہ درویشی جو تج کر آ گیا تُو
یہ دولت اُس کی قیمت ہے؟ نہیں تو
ہم آہنگی نہیں دُنیا سے تیری
تُجھے اِس پر ندامت ہے؟ نہیں تو
ہُوا جو کُچھ یہی مقسُوم تھا کیا ؟
یہی ساری حِکایت ہے ؟ نہیں تو
اذیت ناک اُمیدوں سے تُجھ کو
اماں پانے کی حسرت ہے ؟ نہیں تو
تُو رہتا ہے خیال و خواب میں گُم
تو اِس کی وجہ فرصت ہے ؟ نہیں تو
وہاں والوں سے ہے اِتنی محبّت
یہاں والوں سے نفرت ہے؟ نہیں تو
سبب جو اس جدائی کا بنا ہے
وہ مُجھ سے خُوبصورت ہے؟ نہیں تو

Offline
 

ہر لفظ کے تمام معانی میں ہم بھی تھے
کیا دور تھا کہ تیری کہانی میں ہم بھی تھے
اُٹھتی ہے اک کسک تری تصویریں دیکھ کر
تازہ میں ہم نہیں ہیں، پُرانی میں ہم بھی تھے
تُو عام سا نہ جان ہمیں، اے حسین شخص
جیسا تُو اب ہے ویسے جوانی میں ہم بھی تھے
سیلابِ غم میں جانے کہاں بہہ گئے وہ دن
جب تُو بھی موج میں تھا، روانی میں ہم بھی تھے
پھر ایک روز اُس نے غزل سے دیا نکال
وہ شعر جس کے مصرعۂ ثانی میں ہم بھی تھے

Offline
 

دریا نے رخ بدلا تو اک گاؤں اجڑا
مل نہ سکے پھر دو ہمسائے اس سے کہنا

Offline
 

جنگیں شروع ہو گئیں ہیں
اس سے پہلے کہ
دنیا ختم ہو
چلو ہم دونوں
ایک دوسرے سے صلح کر لیں
زندگی کی آخری سانسیں لیں
اور اس بات کا اقرار کریں کہ
ہم نے جنگ نہیں
محبت کو چُنا ۔۔تھا

Offline
 

یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر
جاتے جاتے اُس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا

Offline
 

میں تمہیں اتنا سوچتا ہوں کہ
تم مجھے دکھائی دینے لگتے ہو

Offline
 

تم میسر جو ہوتے، تو کہتے یہ ہم بھی
بھلی شے ہے محبت، سبھی کیجئیے

Offline
 

تم بھی ایک انسان ہو، بالکل ہماری طرح، اور ہم بھی انسان ہیں، بالکل تمہاری طرح۔ خطائیں ہم سے بھی سرزد ہوتی ہیں اور لغزشیں تم سے بھی ہو سکتی ہیں۔ محبت ہم بھی کرتے ہیں، اور شاید تمہارا دکھ ہم سے کہیں زیادہ گہرا ہے، اس لیے کہ تمہیں محبت کے بدلے دکھ اور ملامت نصیب ہوئی۔ جس طرح موسم کی خشکی کبھی گلے میں خراش ڈال دیتی ہے، اسی طرح زمانے کی ایک آفت تمہارے دامن سے بھی آ لپٹی۔ تمہاری خوب صورتی کو شاید کسی کی نظر لگ گئی، اور حسد کے تیروں نے تمہیں نشانہ بنا لیا۔ بعض لوگوں کی نگاہ میں