Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

مجھے ان وادیوں میں سیر کی خواہش نہیں باقی
مجھے ان بادلوں سے راز کی باتیں نہیں کرنی
مجھے ان دھند کی چادر میں اب لیے نہیں رہنا
مجھے اس عالم سیخ بستگی سے کچھ نہیں کہنا
مجھے اس کار پر اسرار کا داعی نہیں بننا
میں خوابوں کے دریچوں میں کھڑا رہنے سے قاصر ہوں
میں زندہ زندگی کی ساعتوں کا ایک شاعر ہوں
مجھے اک لہلہاتے جھولتے پیکر کی خواہش ہے
مجھے ان منظروں میں ایسے اک منظر کی خواہش ہے

Offline
 

کوئی بات نہیں، اس میں بھی کوئی بہتری ہو گی

Offline
 

میں خود کو کھو چکا ہوں کسی کی تلاش میں
ممکن ہے کہ اب میرا مجھ سے کبھی رابطہ نہ ہو

Offline
 

درد اتنا تھا کہ اس رات دلِ وحشی نے
ہر رگِ جاں سے الجھنا چاہا
ہر بُنِ مو سے ٹپکنا چاہا
اور کہیں دُور ترے صحن میں گویا
پتا پتا مرے افسردہ لہو میں دُھل کر
حسنِ مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگا
میرے ویرانہِ تن میں گویا
سارے دُکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کھل کر
سلسلہ وار پتا دینے لگیں
رخصتِ قافلہِ شوق کی تیاری کا
اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں
ایک پل آخری لمحہ تری دلداری کا
درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا
ہم نے چاہا بھی مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا

Offline
 

دل نے کسی کی مان کے ہونا نہیں ہے ٹھیک
حالانکہ ان دونوں اسے رونا نہیں ہے ٹھیک
افسوس ہے کہ دشت میں وحشت نہیں رہی
دنیا ترا تو کوئی بھی کونا نہیں ہے ٹھیک

Offline
 

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر
...
کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا
کوئی آواز آتی رہی رات بھر

Offline
 

اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں
ایک پل آخری لمحہ تری دلداری کا
درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا
ہم نے چاہا بھی مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا۔۔

Offline
 

میرا رستہ تک تک کے
جب آنکھیں تھک جائیں
ہاتھوں کی لکیروں کو
مہندی سے چھپا لینا
نظروں کو جھکا لینا
دنیا سے چھپا لینا

Offline
 

وہ تو وہ اس کی شباہت نہیں ملنے والی
کسی صورت سے وہ صورت نہیں ملنے والی

Offline
 

کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا
میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا
دل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑک
کوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا
اس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گل
تو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگا
دل کی قسمت ہی میں لکھا تھا اندھیرا شاید
ورنہ مسجد کا دیا کس نے بجھایا ہوگا
گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو
آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا
کھیلنے کے لیے بچے نکل آئے ہوں گے
چاند اب اس کی گلی میں اتر آیا ہوگا
کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں
اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا

Offline
 

آٶ دیکھو میرے چہرے کے خدو خال کو اب
مان جاٶ گے محبت بھی نشاں چھوڑتی ہے

Offline
 

اہل دل اسکو دل نہیں کہتے
جو تڑپتا نہ ہو کسی کے لیے

Offline
 

ریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار
اک لمحہ کو ٹھہر میں تجھے پتھر لادوں
میں تیرے سامنے انبار لگادوں لیکن
کون سے رنگ کا پتھر تیرے کام آئے گا
سرخ پتھر جسے دل کہتی ہے بے دل دنیا
یا وہ پتھرائی ہوئی آنکھ کا نیل پتھر
جس میں صدیوں کے تحیر کے پڑے ہوں ڈورے
کیا تجھے روح کے پتھر کی ضرورت ہوگی
جس پر حق بات بھی پتھر کی طرح گرتی ہے
اک وہ پتھر ہے جو کہلاتا ہے تہذیبِ سفید
اس کے مرمر میں سیاہ خوں جھلک جاتا ہے
اک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مگر
ہاتھ میں تیشہ زر ہو تو وہ ہاتھ آتا ہے
جتنے معیار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیں
شعر بھی رقص بھی تصویر و غنا بھی پتھر
میرے الہام تیرا ذہن ِ رسا بھی پتھر
اس زمانے میں ہر فن کا نشان پتھر ہے
ہاتھ پتھر ہیں تیرے میری زبان پتھر ہے
ریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار۔۔۔

Offline
 

چشمِ سحر
یہ آنکھیں،
روشنی کی نرمی میں لپٹی ہوئی کائنات ہیں۔
ہر جھلک میں چھپی ایک خاموش دھڑکن،
ہر پلک کے جھکنے پر وقت اپنی رفتار بھول جاتا ہے۔
ان کی گہرائی میں ڈوبنا،
ایسا ہے جیسے سمندر کے سب راز
بس ایک لمحے میں سامنے آ جائیں۔
یہ دیکھتی نہیں، یہ دل کے راز پڑھ جاتی ہیں،
اور ہر عاشق، ہر دل،
ان کے سحر میں بے اختیار رہ جاتا ہے۔
یہ آنکھیں وہ پلکیں ہیں جو
دنیا کی ہر دھوپ اور ہر سایہ کو نرم کر دیتی ہیں،
اور ایک ہی نظر میں
دل کی تمام ویرانیوں کو بہار میں بدل دیتی ہیں۔

Offline
 

فلسفہ، دن، تاریخ، سائنس، سماج، عقیدہ، زبانیں، معاشی مساوات، انسان کے رنگ و عادات و اطوار، ایجاد، تقلید، امن انتشار، نین کی عظمت کے قصے، فطری بلاؤں سے اور دیوتاؤں سے جنگ، صلاح ناما لیے تیز گھوڑوں پے سوار سہمے سپاہی، نظریہ سماوات میں کانٹ نے کیا کہا اور اس کے جرابوں کی فیتوں کی ڈبیا، کیمیا کے خزانوں کا منہ کھولنے والا بابل کون تھا، جس نے پارے کو پتھر میں ڈالا، سمندر کی تسخیر اور ایٹلانٹک میں آبادیاں، مچھلیاں کشتیوں جیسی کیوں ہیں اور رافیل کے ہاتھ پر مٹی کیسے لگی، یہ سوال اور یہ باتیں میرے کس کام کی، پچھلے ایک سال سے میں اسکی آواز تک نہیں سن سکا اور یہ پوچھتے ہیں کہ ہیگل کے نزدیک تاریخ کیا ہے.؟

Offline
 

"تھی جو وہ اک تمثیل ماضی آخری منظر اس کا یہ تھا
پہلے اک سایہ سا نکل کے گھر سے باہر آتا ہے
اس کے بعد کئی سائے سے اس کو رخصت کرتے ہیں
پھر دیواریں ڈھے جاتی ہیں دروازہ گر جاتا ہے"

Offline
 

سجن بن راتاں ہوئیاں وڈیاں
رانجھا جوگی، میں جو گیانی،کملی کر کرسڈی آں
ماس جھڑے،جھڑ پنجر ہویا، کڑکن لگیاں ہڈیاں
میں ایانی،نیہوں کی جاناں،برہوں تناواں گڈیاں
کہے حسین فقیر سائیں دا، دامن تیرے میں لگی آں
.
.
اوکھے لفظاں دے معنے
سجن : محبوب
وڈیاں: لمی
سڈیاں: سدی گئی ہاں
کڑکن لگیاں ہڈیاں: ہڈیاں ناطاقتی پاروں کڑکڑ کرن لگی آں۔
ایانی: نکی عمر دی بالڑی۔
نیہوں کی جاناں: محبت نوں کیہ جاناں۔
برہوں: جدائی
تناواں: پتنگ دی ڈور۔

Offline
 

تجھ کو پانے میں مسئلہ یہ ہے
تجھ کو کھونے کے وسوسے آئیں گے
تُو ادھر دیکھ مجھ سے باتیں کر
یار چشمے تو پھوٹتے رہیں گے
ایک مدت ہوئی ہے تجھ سے ملے
تُو تو کہتا تھا رابطے رہیں گے

Offline
 

بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں
لگے گا، لگنے لگا ہے، مگر لگے گا نہیں
نہیں لگے گا اُسے دیکھ کر، مگر خوش ہے
میں خوش نہیں ہوں مگر، دیکھ کر لگے گا نہیں

Offline
 

کھو بیٹھا ہے۔
ایک اور مصرعہ ثبت ہوتا ہے:
مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوس
زلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے
اب اسی دلکش خواب میں غالبؔ کھوئے ہوئے ہیں۔ دل کی خواہش پھر سے عشق کو دعوت دے رہی ہے۔ محبوب کی آنکھیں اور نگاہیں جن پر سرمے کی رنگ کاری ہے، وہ ہتھیار بن چکی ہیں جو سیدھا دل پر تیر کی مانند گرتی ہیں، جیسے شب کے سیاہ ابریں پر چمکتا ہوا چاند ہر نظر کو سحر میں مبتلا کرے۔ جو سامنے آئے گا وہ ان نگاہوں کے وار سے بچ نہیں سکے گا۔ آنکھیں اور شراب،