ارے لوگو ! تمہارا کیا
میں جانوں _______ میرا خدا جانے
اے عدمؔ مروت اور ان حسین آنکھوں میں
یونہی خوبصورت سی ایک بدگمانی ہے
محبت عام سا اک واقعہ تھا
ہمارے ساتھ پیش آنے سے پہلے
ہوئے فاصلے
جھوٹے سلسلے
ٹوٹے ہوئے دل جائیں کہاں
جس طرح ٹوٹ کے گرتی ہے زمیں پر بارش"
"اس طرح خود کو تیری ذات پہ مرتے دیکھا
میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر
ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی
باب مارلے نے کہا تھا کہ تم کہتے ہو تمہیں بارش پسند ہے، لیکن جب بارش ہوتی ہے تو تم چھتری لے لیتے ہو؛ تم کہتے ہو تمہیں سورج پسند ہے، لیکن جب دھوپ آتی ہے تو تم چھاؤں تلاش کرتے ہو؛ تم کہتے ہو تمہیں ہوا پسند ہے، لیکن جب ہوا چلتی ہے تو تم کھڑکی بند کر دیتے ہو، اسی لیے مجھے ڈر لگتا ہے جب تم کہتے ہو کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔
چاند دھرے رہ جاتے ہیں آکاشوں پر
اک میسج سے عید مبارک ہوتی ہے
عید مبارک۔
کہانی کار نے سب کو بتا دیئے کِردار۔۔
مجھے بس اتنا کہا ہے کہ تم نے مرنا ہے
یک لمحہ دیدہ شبنم میں
عکسِ گل ہوا
ایک لمحہ سانپ بن کر
رینگتا تھا روح پر
ایک لمحہ چاندنی میں پُرفشاں
ایک لمحہ چلچلاتی دھوپ میں کوہِ گراں
ایک لمحہ نغمہ داود میں کھویا ہوا
ایک لمحہ چاہِ یوسف کی طرح سرد وسیاہ
ایک لمحہ بجلیوں کی چلمنوں سے جھانک کر
پردہ ہائے نیلگوں میں چھپ گیا
ایک لمحہ تیرگی ابر وباراں میں تھا منہ ڈھانپے ہوئے
ہائے کتنے بے ثبوت وبےثبات ہے،یہ لمحہ حیات
کوئی کوئی لمحہ پھر بھی تاابد پائندہ ہے
میرے دل کی دھڑکنوں میں زندہ ہے
چاہتا ہوں تمہیں اور بہت چاہتا ہوں
تمہیں خود بھی معلوم ہے
ہاں اگر مجھ سے پوچھا کسی نے
تو میں سیدھا منہ پر مکر جاؤں گا
تیرے دل سے
تیرے شہر سے
تیرے گھر سے
تیری آنکھ سے
تیرے درد
تیری گلیوں سے
تیرے وطن سے نکالا ہوا ہوں
کدھر جاؤں گا۔
یہ غم کیا دِل کی عادت ہے؟ نہیں تو
کسی سے کُچھ شِکایت ہے؟ نہیں تو
ہے وہ اِک خوابِ بے تعبیر اُس کو
بُھلا دینے کی نیت ہے؟ نہیں تو
کِسی کے بِن کِسی کی یاد کے بِن
جیئے جانے کی ہِمّت ہے؟ نہیں تو
کِسی صُورت بھی دِل لگتا نہیں ؟ ہاں
تو کُچھ دِن سے یہ حالت ہے؟ نہیں تو
تِرے اِس حال پر ہے سب کو حیرت
تُجھے بھی اِس پہ حیرت ہے؟ نہیں تو
وہ درویشی جو تج کر آ گیا تُو
یہ دولت اُس کی قیمت ہے؟ نہیں تو
ہم آہنگی نہیں دُنیا سے تیری
تُجھے اِس پر ندامت ہے؟ نہیں تو
ہُوا جو کُچھ یہی مقسُوم تھا کیا ؟
یہی ساری حِکایت ہے ؟ نہیں تو
اذیت ناک اُمیدوں سے تُجھ کو
اماں پانے کی حسرت ہے ؟ نہیں تو
تُو رہتا ہے خیال و خواب میں گُم
تو اِس کی وجہ فرصت ہے ؟ نہیں تو
وہاں والوں سے ہے اِتنی محبّت
یہاں والوں سے نفرت ہے؟ نہیں تو
سبب جو اس جدائی کا بنا ہے
وہ مُجھ سے خُوبصورت ہے؟ نہیں تو
ہر لفظ کے تمام معانی میں ہم بھی تھے
کیا دور تھا کہ تیری کہانی میں ہم بھی تھے
اُٹھتی ہے اک کسک تری تصویریں دیکھ کر
تازہ میں ہم نہیں ہیں، پُرانی میں ہم بھی تھے
تُو عام سا نہ جان ہمیں، اے حسین شخص
جیسا تُو اب ہے ویسے جوانی میں ہم بھی تھے
سیلابِ غم میں جانے کہاں بہہ گئے وہ دن
جب تُو بھی موج میں تھا، روانی میں ہم بھی تھے
پھر ایک روز اُس نے غزل سے دیا نکال
وہ شعر جس کے مصرعۂ ثانی میں ہم بھی تھے
دریا نے رخ بدلا تو اک گاؤں اجڑا
مل نہ سکے پھر دو ہمسائے اس سے کہنا
جنگیں شروع ہو گئیں ہیں
اس سے پہلے کہ
دنیا ختم ہو
چلو ہم دونوں
ایک دوسرے سے صلح کر لیں
زندگی کی آخری سانسیں لیں
اور اس بات کا اقرار کریں کہ
ہم نے جنگ نہیں
محبت کو چُنا ۔۔تھا
یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر
جاتے جاتے اُس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا
میں تمہیں اتنا سوچتا ہوں کہ
تم مجھے دکھائی دینے لگتے ہو
تم میسر جو ہوتے، تو کہتے یہ ہم بھی
بھلی شے ہے محبت، سبھی کیجئیے
تم بھی ایک انسان ہو، بالکل ہماری طرح، اور ہم بھی انسان ہیں، بالکل تمہاری طرح۔ خطائیں ہم سے بھی سرزد ہوتی ہیں اور لغزشیں تم سے بھی ہو سکتی ہیں۔ محبت ہم بھی کرتے ہیں، اور شاید تمہارا دکھ ہم سے کہیں زیادہ گہرا ہے، اس لیے کہ تمہیں محبت کے بدلے دکھ اور ملامت نصیب ہوئی۔ جس طرح موسم کی خشکی کبھی گلے میں خراش ڈال دیتی ہے، اسی طرح زمانے کی ایک آفت تمہارے دامن سے بھی آ لپٹی۔ تمہاری خوب صورتی کو شاید کسی کی نظر لگ گئی، اور حسد کے تیروں نے تمہیں نشانہ بنا لیا۔ بعض لوگوں کی نگاہ میں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain