Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

بات گئی ہے کئی بار ترک تعلق تک
مگر میں محبت کو محبت سے بچا لیتا ہوں

Offline
 

"میں ہر وقت تمہاری یاد کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھا رہتا ہوں۔ تم اگر ایک ہزار دفعہ بھی مجھے ٹھکراؤ، میں تب بھی تمہاری طرف لوٹ کر آؤں گا۔"
.
یہ شعر گر یہ مصور یہ سارے بد اوقات
یہ سب خیال کی چھت پر اسی سے ملتے ہیں
.
وہ ایک بار نہیں ہے ہزار بار ہے وہ
سو ہم اسی سے بچھڑ کر اسی سے ملتے ہیں

Offline
 

جس کی ہم کو چاہ تھی اس شخص کے سوا
.
بزمِ احباب میں ہر شخص نے چاہا ہم کو

Offline
 

محبت کرتے ہوئےاس بات کا خیال رکھنا کہ
جس سے مُحبت کی جائے اسکا تابع ہونا پڑتا ہے

Offline
 

یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے
اب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے
.
اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے
اور محبت وہی انداز پرانے مانگے

Offline
 

یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی
فرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی
یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں
شمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی
کوئی خدا ہو کہ پتھر جسے بھی ہم چاہیں
تمام عمر اسی کی عبادتیں کرنی
سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے
کسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی
ہم اپنے دل سے ہی مجبور اور لوگوں کو
ذرا سی بات پہ برپا قیامتیں کرنی
ملیں جب ان سے تو مبہم سی گفتگو کرنا
پھر اپنے آپ سے سو سو وضاحتیں کرنی
یہ لوگ کیسے مگر دشمنی نباہتے ہیں
ہمیں تو راس نہ آئیں محبتیں کرنی
کبھی فرازؔ نئے موسموں میں رو دینا
کبھی تلاش پرانی رفاقتیں کرنی

Offline
 

بہت مصروف ہو مانا
مگر سوچو ذرا
تم بھی کبھی تھے آشنا ہم سے
تمہاری ملتجی آنکهيں
ابھی تک یاد ہیں مجھکو
بڑی بے ربط سی باتیں
ابھی تک یاد ہیں مجھکو
مگر جاناں
تمہاری آرزو تو میری چاہت ہے
یہ میرا مسئلہ ہے کہ
مجھے تم سے محبت ہے
سو اب یہ طے کیا ہے میں نے
تنہاٸی کے لمحوں میں
کہ کاسہِ محبت
توڑ پھنکیں گے
جلا دیں گے تمہیں دل سے بھلا دیں گے

Offline
 

ململ ریشم ، کھدر اچھا لگتا ہے
کچھ بھی پہنو تُم پر اچھا لگتا ہے
مجھ کو یونہی اچھی لگتی رہنا تم
اچھا لگنا تم پر اچھا لگتا ہے

Offline
 

تیری یادیں، وہ ساری باتیں
تو ہی بتا کیسے بھلاؤں؟
.
کس سے کہوں
تیرے بنا اب میں کیا کروں؟
تیری یادیں، وہ ساری باتیں
تو ہی بتا کیسے بھلاؤں؟

Offline
 

اب تک دلِ خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ

Offline
 

واقعی ہم بہت عجیب ہیں
خود اپنی خاموشیوں، تضادوں اور الجھنوں کو سمجھنے سے پہلے دوسروں کے دل پڑھنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔
کبھی خود کو بچانے کے لیے فاصلے اختیار کرتے ہیں، تو کبھی انہی فاصلوں میں خود کو کھو دیتے ہیں۔
اور شاید سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اس سارے عمل میں ہم دوسروں کو سمجھتے سمجھتے، آہستہ آہستہ خود سے ہی ناواقف ہو جاتے ہیں

Offline
 

سو اپنا اپنا راستہ ہنسی خوشی بدل دیا
وہ اپنی راہ چل پڑی میں اپنی راہ چل دیا
.
بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اسکی دوستی
اب اسکی یاد رات دن؟ نہیں، مگر کبھی کبھی

Offline
 

قسمت کو منظور یہی تھا جیتی بازی ہار گئے
لڑتے رہے ہم طوفانوں سے اور وہ دریا پار گئے
اس شہرِ محرومِ وفا میں جینا بھی کیا جینا ہے
آنکھیں ویراں، سینہ خالی جب سے وہ سرکار گئے
جنکی یاد کو دل میں بسا کر ہم نے عمر گزاری تھی
اب تو اُنکے نام پر ذندہ رہنے کے آثار گئے
اب تو اپنی محفل میں کچھ تاجر ہیں کچھ سوداگر
جن پر ہم کو فخر تھا وہ سب دوست گئے، وہ یار گئے
میرے دل کے آئینے میں جن کا نام نمایاں تھا
ان کے جھوٹے وعدے ہم کو جیتے جی ہی مار گئے
انکا دل پتھر تھا محسنؔ پتھر کو کیا ہوتا ہے
کوئی آنسو کام نہ آیا سب شکوے بیکار گئے

Offline
 

محبتیں بھی تو حیران ہیں کہ آئے دن
وفا کا طور طریقہ بدلتا رہتا ہے

Offline
 

کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم بھرنا نہیں چاہتے کیوں کے وہ آخری رابطے ہوتے ہیں اُس چیز سے جو ہم نے کھوئی ہو
۔
بشیر بدر صاحب کا شعر ہے
۔
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

Offline
 

مجھ کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہمنام تیرا
کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے
دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے
جو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے

Offline
 

تم سے محبت کرنا میرے اختیار میں نہیں تھا اور نہ کبھی میں نے ایسا ہونا چاہا تھا لیکن اب جو محبت ہو گئی ہے تو تم مجھے نا ممکن " اور " ممکن " کے وسوسوں میں مت ڈالو اور خود سوچو سیکھانے سے یا احتیاط کی تلقین کرنے سے کوئی پیچھے ہٹا ہے ؟ اور پھر میری دسترس میں تو دعا کی قوت رکھی گئی
ہے، میں آغاذ نہیں بدل سکتا مگر اختتام تو اب بھی میرے ہاتھ میں ہے، مجھے تم جہاں لا حاصل اور ادھوری محبت کا سبق دے رہے ہو وہاں تم مجھے یہ کیوں نہیں بتاتے کے میری دعائیں اس سبق کے نتیجے کو بدل بھی سکتی ہیں میں بھی پہلے تم جیسے ڈرپوک ہوا کرتا تھا ، دعا سے پہلے قبولیت

Offline
 

کا کم . حساب کتاب لگایا کرتا تھا کے یہ دعا قبول ہو بھی سکتی ہے یا نہیں اور اس بے یقینی کو اللہ کے فیصلوں کا احترام سمجھا کرتا تھا لیکن اب میں یقین کے اس
دوہرائے پر کھڑا ہوں جہاں میں جانتا ہوں کہ وہ دعا قبول پہلے کرتا ہے اور توفیق بعد میں دیتا ہے. اور آپ تو میری دعا کا وہ حصہ ہیں جو زبان سے ادا نہیں ہوتا، جس کا حال آنکھیں اللہ کو سناتی ہیں، آپ سے جڑی رازداریاں یا تو وہ جانتا ہے یا میں جانتا ہوں کسی اور کی پہنچ نہیں یہاں تک کیونکہ آپ دل میں رہتے ہیں اور دل کے سارے معاملات تو بس اللہ سے ہی جڑے ہوتے ہیں اور محبت کے خواب انہی کے پورے ہوتے ہیں ؟ جو ان کی تعبیر اللہ کے سوا اور کسی سے طلب نہیں کرتے۔ اس لیے آپ کی محبت آپ سے نہیں اللہ سے چاہیے اور وہ جانتا ہے کے اس کے در پہ سوالی ہاتھ خالی واپس جانے کے لیے نہیں آتے۔

Offline
 

اس لیے اس کو دلاتا ہوں میں غصہ تابش
تاکہ دیکھوں میں اسے اور بھی پیارا کر کے

Offline
 

میں کسی اور کو سوچوں تو مجھے ہوش آئے
میں کسی اور کو دیکھوں تو یہ نشہ ٹوٹے
.
اتنی جلدی تو سنبھلنے کی توقع نہ کرو
وقت ہی کتنا ہوا ہے مرا سپنا ٹوٹے