نہیں۔
- ایک بار میں نے ان کے لئے چائے بنائی، جو دراصل میٹھے پانی کا ایک گلاس تھا، اور انہوں نے چھوٹے سے کرسی پر بیٹھ کر اسے لذیذ کہا اور بہت آرام دہ نظر آئے۔
- جب میں "گھر گھر" کھیلتی تھی، تو میں "گڑیا ماں" کو بہت سے کام دیتی تھی، لیکن "گڑیا باپ" کو کیا کام دوں، یہ نہیں جانتی تھی۔ اس لئے میں اسے کہتی کہ میں کام پر جا رہا ہوں، اور پھر اسے بستر کے نیچے پھینک دیتی۔
ایک صبح، جب میں نو سال کی تھی، میرے والد کام پر جانے کے لئے نہیں اٹھے۔ وہ اسپتال گئے اور اگلے دن انتقال کر گئے۔
میں اپنے کمرے میں گئی، اور بستر کے نیچے "گڑیا باپ" کو تلاش کیا، جب میں نے اسے پایا، تو اس کی دھول جھاڑی، اور اسے بستر پر رکھا۔
مجھے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کا جانا مجھے اتنا درد دے گا، لیکن ان کا جانا اب بھی مجھے بہت تکلیف دیتا ہے، اور مجھے ان کی بہت یاد آتی ہے۔
چٙلو
جُولٙاہٙوں کے پٙاس چلتے ہیں
جِن کی مٙحبّت میں
نٙفاسٙت ہے
کیونکہ وہ سٙارا دِن دٙھاگٙوں کو جوڑتے ہیں
تٙوڑنا تو اُنہوں نے سِیکٙھا ہی نہیں٠٠٠
وہ مجھے کیوں چاہے اور کیوں یاد کرے
بھلا یکطرفہ محبت کی بھی کوئی اوقات ھوتی ہے
اس سے زیادہ کرے بھی تو کیا
لفظوں سے آگ نہیں بجھتی
نظموں سے زخم نہیں بھرتے۔۔۔
غلطی سے چلا گیا ہوگا
شوکت تھانوی کی جب پہلی غزل چھپی تو انہوں نے رسالہ کھول کر میز پر رکھ دیا تاکہ آنے جانے والے کی نظر پڑتی رہے۔
مگر شامت اعمال سب سے پہلے ان کے والد صاحب کی نظر پڑی،
انہوں نے یہ غزل پڑھتے ہی ایسا شور مچایا گویا کہ چور پکڑ لیا ہو۔
والدہ صاحبہ کو بلا کر انہوں نے کہا آپ کے صاحبزادے فرماتے ہیں۔
ہمیشہ غیر کی عزت تیری محفل میں ہوتی ہے
تیرے کوچے میں جا کر ہم ذلیل و خوار ہوتے ہیں
میں پوچھتا ہوں یہ وہاں جاتا ہی کیوں ہے کس سے پوچھ کر جاتا ہے؟
والدہ بیچاری خوفزدہ آواز میں بولیں۔
”غلطی سے چلا گیا ہو گا"
میں چہچہانا سیکھوں گا اور ایک اداس چڑیا سے باتیں کروں گا جس کی پسند کی شادی نہیں ہوئی ہو گی .
میں اس چڑیا سے گھونسلہ بنانا سیکھوں گا کہ محبت کیسی بُنی جاتی ہے .
اسے بتاؤں گا کہ ہم انسان زمینوں پہ قبضہ کیسے کرتے ہیں پھر کیسے ان پہ امیروں کے لیے ہاؤسنگ سکیمیں بناتے ہیں .
میں اسے ایک جھونپڑی کے دکھ بتاؤں گا جس کی دیواریں شاپر کی ہوتی ہیں ۔۔۔
میں چیونٹیوں کی زبان سیکھوں گا اور ایک لنگڑی چیونٹی سے باتیں کروں گا جس کی ٹانگ تیز ہوا کے چلنے سے ٹوٹی ہو گی
میں اس چیونٹی سے اپنے وزن سے سات گنا بھاری روٹی کا چھوٹا ذرہ اٹھانا سیکھوں گا.
میں اسے بتاؤں
گا کہ ہم انسانوں کو کتنی اقسام کی بھوک لگتی ہے ، اور ہماری بھوک معدے کے سائز سے کتنی بڑی ہوتی ہے۔
میں تتلیوں کی زبان سیکھوں گا ، پھولوں سے باتیں کروں گا اور کانٹوں سے لطیفے سنوں گا ۔
میں انہیں بتاؤں گا کہ ہم انسان تم پھولوں کو حسن کے استعارے کے طور پہ استعمال کرتے ہیں ۔
اسی لیے ہمارے ہاں ہر طرح کا حسن دولت کی نذر ہو جاتا ہے۔
میں کائناتی خاموشی کی زبان سیکھوں گا اور کہکشاؤں سے باتیں کرنے کے لیے " بلیک ہولز" کے دروازوں سے گزروں گا۔
میں دُور کسی ویران سی جگہ پہ جا کر جہاں کوئی بھی نہیں ہو گا ۔۔۔
خدا کو ہر سیکھی گئی زبان میں پکاروں گا !!
کہاں ہو ۔۔۔ کیسے ہو۔۔۔ مجھ سے ملتے کیوں نہیں؟؟
اور رونے لگ جاؤں گا۔۔۔
بچوں کی زبان میں
وہ سامنے ہو تو موضوع گفتگو نہ ملے
۔
وہ لو ٹ جا ئے تو ہر گفتگو اسی سے۔
شب بخیر
۔۔۔
کیا تم جانتے ہو
کہ بچھڑنے والے دو طرح کے ہوتے ہیں
ایک وہ,
جو مر جاتے ہیں
اور دوسرے وہ,
جو مرتے تو نہیں لیکن کسی وجہ سے ہمیشہ کے لئے دور چلے جاتے ہیں!
مرنے والوں کا غم منانے کے بہت سے آسان طریقے ہیں
کوئی روتا ہے, بین کرتا ہے, تو کسی کو اپنے بال نوچ کر تسکین ملتی ہے.
یہاں تک کہ میں نے بہت سے لوگوں کو سینہ کوبی کرتے بھی دیکھا ہے.
مرنے والوں کے دکھ میں یہ کہہ دینا بھی
تسکین کا ایک پہلو ہے کہ
"کُل نفس ذائقة الموت"
موت پر کسی کا بس نہیں
لیکن
زندہ بچھڑ جانے والوں کا غم منانا ہم دنیا دار لوگوں کے لئے اتنا سہل نہیں.
ہم نہ تو مجنوں کی طرح صحرا نوردی کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے بال نوچ سکتے ہیں.
اگر دیوانہ وار بین کرینگے تو دنیا رونے کا سبب دریافت کرے گی.
اس پر یہ تسلی بھی تو نہیں کہ بچھڑنے والا خدا کی پناہوں میں واپس لوٹ گیا ہے
اگر تمہارے پاس ایسا کوئی فارمولہ ہے جس سے آہ و فغاں کئے بغیر, زندہ بچھڑنے والوں کے غم میں کمی لائی جا سکے
تو خدارا مجھے بھی لکھ بھیجو..
میں شدت سے تمہارے جواب کا منتظر ھوں
میں نے ایک دن اس سے پوچھا کہ تمھارا پسندیدہ رنگ کون سا ہے؟
کہنے لگی کہ پیلا کلر۔
محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ محبوب کی پسند سے بھی محبت کی جائے
کال میسجز پہ ایک طویل عرصہ بات چیت کے بعد آج اس سے ملاقات کا دن آ ہی چکا تھا۔
میں نے اس کی پسند کا خاص خیال رکھا تھا۔
اسے پیلا کلر پسند تھا۔
میں نے اسپیشل پیلے کپڑے سلوائے تھے اس دن کے لیے
پھر پیلی کیپ پہنی۔
پہلی گھڑی بازو پہ پہنی۔
پیلے جوتے پاؤں کی زینت بنائے۔
اور
تو اور دو تین دن تک برش نہیں کیا کہ دانتوں کا رنگ بھی اس کی پسند کا ہو جائے۔
آخر اسے دیکھ کے مسکراہٹیں ہی تو بکھریں گی
مکمل تیاری کے پیلی ٹیکسی میں بیٹھ کےجائے مقررہ پہ پہنچا تو وہ میرے پسندیدہ کلر یعنی سفید کلر کے لباس میں ملبوس پہلے سے موجود تھی
مجھے دیکھ کے حیرت سے اس کا منہ کھل گیا اور اس کے دانت بھی میرے پسندیدہ کلر یعنی سفید کی ترجمانی کر رہے تھے۔
اتنی محبت اور چاہت میرے لیے حیران کن تھی
مجھے پوچھنے لگی کہ یہ کیا بن کے آئے ہو
عرض کیا کہ تمھیں پیلا کلر پسند تھا نا اسی لیے بس تمھاری پسند کا خیال رکھا ہے۔
اور ساتھ ہی مسکرا دیا۔
اور مسکراہٹ سے جیسے ہی اس نے میری محبت
کی ایک اور نشانی دیکھی تو نظریں جھکا لی۔
شاید محبت سے مرعوب ہو گئی تھی۔
میں نے سوال کیا کہ کیسا لگ رہا ہوں ان پیلی چیزوں میں؟
کہنے لگی جیسے "کڑی" میں جلا ہوا پکوڑا لگتا ہے۔
برجستہ جواب دیا کہ تم بھی کسی میت سے کم نہیں لگ رہی اس سفید لباس میں۔
کہنے لگی تمھارے لیے میں میت ہوں اب۔۔
اور جانے لگی۔
پیچھے سے آواز دی کہ اپنے پسندیدہ کلر کی انگوٹھی تو لیتی جاؤ جو تمھارے لیے اسپیشل لایا تھا۔
وہ فوراً واپس پلٹی جیسے کڑی میں پکوڑا نہیں بلکہ بریانی میں لیگ پیس دیکھ لیا ہو۔
لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ پیلی انگوٹھی جو پورے 30 روپے کی لی تھی ریڑھی سے اسے پاس ہی کے کچرا دان میں پھینکا اور نکل آیا وہاں سے۔
آخری نظر جو میری اس پہ پڑی تو وہ کچرا دان میں جھانک رہی تھی۔
منقول
ایک نوجوان کہتا ہے
میرا کسی بات پر اپنے والد سے کچھ ایسا اختلاف ہوا کہ ہماری آوازیں ہی اونچی ہو گئیں۔ میرے ہاتھ میں کچھ درسی کاغذات تھے جو میں نے غصے میں ان کے سامنے میز پر بیٹے اور دروازہ دھڑام سے بند کرتے ہوئے اپنے
کمرے میں آگیا۔
بستر پر گر کر ہونے والی اس بحث پر ایسا دماغ الجھا کہ نیند ہی اڑ گئی۔ صبح یونیورسٹی گیا تو بھی دماغ کل والے واقعے پر اٹکا رہا۔ ندامت اور خجالت کے مارے، دوپہر تک صبر جواب دے گیا، میں نے موبائل نکالا اور اپنے اباجی
کو یوں پیغام بھیجا:
ہے کہ پاؤں کا تلوہ پاؤں کے اوپر کے حصے سے زیادہ نرم ہوتا ہے، گھر آ رہا ہوں، قدم بوسی کرنے دیجیئے گا تاکہ کہاوت کی تصدیق ہو سکے۔"
میں جب گھر پہنچا تو ابا جی صحن میں کھڑے میرا ہی انتظار کر رہے تھے، اپنی نمناک آنکھوں سے مجھے گلے سے لگایا اور کہا: قدم بوسی کی تو میں تمہیں اجازت نہیں دیتا، تاہم کہاوت بالکل سچی ہے کیونکہ جب تم چھوٹے سے تھے تو میں خود جب تیرے پاوں چوما کرتا تھا تو مجھے پاؤں کے تلوے اوپر والے ھے سے زیادہ نرم لگا کرتے تھے۔ یہ سن کر رونے کی اب میری باری تھی۔
والدین کی قدر کرو اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے
روٹی لینے تندور پر گیا تو دیکھا کہ تندور والے نے پنکھے کے ساتھ سگریٹ کی خالی ڈبیا باندھ رکھی تھی۔
میں اور پروفیسر آپس میں تکرار کرنے لگے۔
میرا کہنا تھا کہ پنکھے کا توازن بگڑ گیا ہے لہٰذا متوازن کرنے کے لئے ڈبیا باندھی گئی ہے جبکہ پروفیسر کا خیال تھا کہ پروں کی گردشی حرکت کو مطلوبہ رد عملی قوت مہیا کرنے کے لئے ڈبیا باندھی گئی ہے۔
ہاں ایک بات پر ہم دونوں متفق تھے کہ ڈبیا کا پروں کی آر پی ایم کی کمی بیشی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بحث طوالت پکڑنے لگی تو تندور والا کہنے لگا کہ صاحب میں بھی اپنا نظریہ پیش کروں کہ اس ایجاد کا میں ذمہ دار ہوں۔
ہم یک زبان ہو کر بولے کہو۔
وہ کہنے لگا کہ آٹے والے گودام میں بلی نے بچے دے رکھے ہیں، یہ ڈبیا میں نے ان کے کھیلنے کے لئے باندھ رکھی ہے۔
ہر بات پر نیوٹن بننے کی کوشش نہیں کرتے۔۔
منقول۔
تیڈی زیارت کرنڑ میڈا حق بنڑ دے
۔
میڈا حق نہ کھا میکو ں ملیا کر
یا تیرا تذکرہ کر ے ہر شخص
۔
یا کوئی ہم سے گفتگو نہ کرے
"میں آپ کو کچھ بتانے جا رہا ہوں، خیالات کبھی ایماندار نہیں ہوتے، البتہ جذبات ہوتے ہیں"
شب بخیر
ہم پاکستانی اگر بلاوجہ کے غرور اور انّا کو تھوڑا کم کرلیں، ماتھے کی شکنوں کو خندہ پیشانی میں بدل لیں، تو ہمارے ریاستی معاملات، پروفیشنل اور عام زندگی میں مچائی بد تہذیبی کافی کم ہوسکتی ہے، تعمیر و ترقی کے کئی باب وا ہوسکتے ہیں لیکن ہماری " آکڑ" ہمارے راستے کا کانٹا ہے، ہمیں بہرحال نفرت ڈاٹ کام بننے سے باز آنا ہوگا۔ ورنہ ہم ایک دوسرے کے راستے روکتے خود بھی اجتماعی طور سے رُکے رہینگے۔۔۔!
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain