ایک لڑکی دو پاگل
کچھ نفسیات کے طلبا ایک پاگل خانے میں ریسرچ کے لئے گئے۔۔وہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک فرقت زدہ نوجوان ایک ربڑ کی گڑیا کو سینے سے لگائے بیٹھا ہے۔۔۔ گاہے بگاہے وہ گڑیا کو چومتا ہے اور کہتا ہے کہ روبی۔۔۔ روبی۔۔۔ پلیز آ جائو۔۔میری پیاری! تم بن میری دنیا اندھیری ہے۔۔۔۔۔۔ پلیز آ جائو۔۔۔طلبا پر اس المناک منظر کا گہرا اثر پڑا۔۔۔ انہوں نے ڈاکٹر سے اس نوجوان کی کہانی پوچھی۔۔۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ نوجوان ایک روبی نامی لڑکی سے محبت کرتا تھا۔۔ وہ بھی اس کی محبت کا دم بھرتی تھی۔۔۔دونوں میں شادی کے عہد و پیمان بھی ہو چکے تھے لیکن اس لڑکی نے اس نوجوان سے بیوفائی کی۔۔۔ اس
نے اسے چھوڑ کر دوسرے نوجوان سے شادی کرلی۔۔۔ اس صدمے نے اس نوجوان کا دماغ فیل کر دیا اور اب یہ اس گڑیا کو سینے سے لگا کر کبھی روتا ہے کبھی آہیں بھرتا ہے۔۔۔۔۔یہ دردناک کہانی سن کر طلبا کا گروہ آگے چل دیا۔۔۔۔دو چار کمرے گزرنے کے بعد ان کو ایک اور نوجوان ایک کوٹھری میں بند نظر آیا، جو دیواروں سے سر ٹکراتا تھا، گریبان پھاڑا ہوا تھا، کبھی اپنے گالوں پر طماچے مارتا تھا، منہ سے غصہ کی شدت میں تھوک نکل رہا تھا،، بار بار چلاتا تھا'' دفع ہو جائو، نکل جائو میری زندگی سے، لعنت ہو تم پر۔۔۔ گیٹ لاسٹ''۔۔۔ ڈاکٹر نے اس نوجوان کی کوٹھری کے سامنے رک کر کہا ۔۔'' اور یہ وہ نوجوان ہے جس سے روبی نے شادی کی تھی
اسے کیا چاند سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ساجد
وہ اپنی کھڑکیوں کو بند کیوں دن رات رکھتا ھے
ایکس ۔ حرف آخر نہیں ھے۔
زندگی ایکس کے بعد آپ کو وائی اور زی کا آپشن بھی دیتی ھے۔
زندگی میں گنجائش رکھیں ۔
یہ آپ کو آسانیاں دے گی ۔
بکھیرتا کون ھے گلی میں خشک پتوں کو
ھوا کی بات مت کرنا ھوا تو پاگل ھے
تتلیاں پکڑنے کو دور جا نا پڑتا ہے
زندگی کتنی مختصر ھے۔ کتنی چھوٹی ھے۔ خواب ، خواہشیں، فرائض ، ذمہ داریاں اور مقاصد کتنے بڑے ہیں۔ کتنے وسیع ھیں۔ ہم ہر صبح تھنگز ٹو ڈو کی طویل لسٹ کے ساتھ اٹھتے ھیں۔ اور گھنٹے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس لسٹ کے ساتھ ٹک مارک لگاتے چلے جاتے ھیں۔ پھر بھی رات گئے تک ان میں سے بہت سے کام پینڈنگ کی لسٹ میں چلے جاتے ھیں۔ یوں چوبیس گھنٹے کام کرنے کے باوجود پینڈنگ لسٹ کا گراف بڑھتا ہی چلا جاتا ھے۔ اور ڈن لسٹ کا گراف کہیں نیچے ہی رہ جاتا ھے۔ ہم اس گراف کو برابر کرنے کے چکر میں ہانپنے لگتے ھیں ۔ تھکنے لگتے
ہیں۔ اپنی سانسیں تک درست نہیں کر پاتے۔ کہ اچانک سے واپسی کا بزر بج اٹھتا ھے۔ لال بتی جل جاتی ھے۔ اور ہمیں سب کچھ ادھورا چھوڑ کر جانا پڑتا ھے۔ نہ چاہتے ھوئے بھی۔ یوں ایک ادھورا انسان ادھورے مقاصد کے ساتھ ادھوری زندگی گزار کر چلا جاتا ھے۔ اور پیچھے صرف ایک گونج رہ جاتی ھے۔
ان الانسان فی الخُسر
کبھی خاموش بیٹھو گے کبھی کچھ گُنگناؤ گے
میں اُتنا یاد آوں گا مجھے جتنا بُھلاؤ گے
کبھی دُنیا مُکمل بن کے آئے گی نگاھوں میں
کبھی میری کمی دُنیا کی ھر شئے میں پاوُ گے
کوئی جو پوچھ بیٹھے گا خاموشی کا سبب تم سے
بہت سمجھانا چاہو گے مگر سمجھا نا پاؤ گے
کہیں بھی رہیں ھم تم محبت پھر محبت ھے
تمہیں ھم یاد آئیں گے ہمیں تم یاد آؤگے
میں نے طویل گفتگو کے اختتام پر ان سے پوچھا۔ رائٹر ہونے کے لیئے سب سے پہلے جو چیز ضروری ھے ۔ وہ کیا ھے ؟
انھوں نے گہرا کش لیا۔ اور ایک لمبے توقف کے بعد مختصرا بولے۔ کاغذ اور پین
تم میرا خواب دیکھتی رھی ہو رات بھر
۔
۔
تمہاری آنکھیں روئی روئی سی اداس کیوں ہیں
تجربہ تخلیقیت کا دوسرا نام ھے۔ اور ہر تجربے کے آخر میں کامیابی یا ناکامی ھوتی ھے۔ کامیابی تو بذات خود کامیابی ہی ھے۔ مگر ناکامی کے ساتھ میٹریل اور وقت کا ضیاع مایوسی افسوس اور ملال بھی ھوتا ھے۔ مگر اگر اس ملبے کو ٹٹولا اور پھر ولا جائے تو اس کے نیچے ایک غلطی بھی چھپی بیٹھی ھوتی ھے۔ وہی اس ناکام تجربے کا حاصل ھے۔جو آپ کو آئندہ ناکامیوں سے بچاتی یا ان کے امکان کو کم کرتی ھے۔ سیکھنے کے عمل میں سیلف لرننگ سے اچھا استاد کوئی اور نہیں ۔ اس کا دیا ھوا سبق انسان تمام زندگی یاد رکھتا ھے۔
کچھ لوگ خوبصورت نہیں ہوتے
مگر ۔ ان میں ایک عجیب طرح کا اسرار ہوتا ھے
ان کے پھیلے نقوش کسی مورت کی طرح تراشیدہ ہوتے ھیں
ان کی گہری سانولی رنگت میں کندنی سی ملاحت گھلی ھوتی ھے
ان کی عام سی کالی آنکھیں جادو نگریوں کے دریچے معلوم ہوتی ہیں
ان کے بے چمک بالوں میں سیاہ رات سوئی ھوتی ھے
وہ جو بے خبری کے عالم میں گم صم بیٹھے ہوں تو
کسی مجسمے کی طرح ایستادہ لگتے ھیں
اور ۔ جو وہ اچانک سے چونک جائیں تو
ٹھہرے طلسم ٹوٹ جاتے ھیں !!!
زندگی میں سچ کی مقدار جتنی زیادہ ہو۔ خوف اتنا ہی کم ہوتا ھے ۔
محبت اور خوف وہ محدب عدسے ہیں ۔جو کرداروں کو ان کی اصل تجسیم سے کئی گنا بڑا دکھاتے ہیں
سپہر کا اک چپ چاپ سا پہر
میری سیڑھیوں پہ بیٹھا تھا
اس گھر کی کھلی چھت پہ چمکتے ہوئے تارو
.
.
.
کہتے ہو کبھی بات وہاں جا کےیہاں کی
ایتھوپیا کے بندروں اور بھیڑیوں میں بہت دوستی ہے. ایتھوپیا کے بڑے سائز کے بندروں کی خوراک گھاس ہے جبکہ بھیڑیا گوشت خور ہے. بظاہر فطرتاً تو بندر کو بھیڑیا دیکھتے ہی دوڑ لگا دینی چاہئے ہے لیکن ایتھوپیا کے بندر اور بھیڑیے گھاس کے میدانوں میں ساتھ ساتھ رہتے ہیں. دور سے آپ دیکھیں گے تو بندروں کا غول گھاس کھا رہا ہو گا جبکہ بھیڑیے ان کے ساتھ ایسے ٹہل رہے ہوں گے جیسے ان کے رکھوالے ہوں.
لیکن بات اتنی سادہ نہیں
ہے. بھیڑیے گھاس میں چھپے چوہوں پر نظر رکھ رہے ہوتے ہیں. بندر جب اونچی گھاس اکھاڑنے لگتے ہیں تو چوہے گھبرا کر بھاگتے ہیں. بھیڑئے ان چوہوں کا شکار کرتے ہیں. طویل تعلق نے بھیڑیوں کو یہ عقل سکھا دی ہے کہ بندروں کو نہیں چھیڑنا. خوراک چوہوں سے پوری کرو. اسی لئے ایتھوپیا کے بندر اور بھیڑیے باہم شیر و شکر ہیں.
ایک پاکستانی جاپان گیا اور اس کی ترقی و تعمیر کے نظم و ضبط سے متاثر ہو کر اس نے اپنے جاپانی دوست سے کہا تم لوگ واقعی عقل مند ہو. جاپانی دوست نے کہا نہیں جناب عقل مند تو آپ لوگ ہیں. ہمارے ہاں ہر دس میں سے ایک عقل مند نو بے وقوف ہوتے ہیں. ہم اس ایک عقل مند کو لیڈر بنا دیتے
ہیں. وہی پھر ہمیں چلاتا ہے. تمہارے ملک میں نو عقل مند ایک بے وقوف ہوتا ہے. بس تم لوگ اسی ایک بے وقوف کو لیڈر بنا دیتے ہو.
پتہ نہیں جاپانی سچ کہا رہا تھا کہ نہیں لیکن یہاں کے بھیڑیوں نے بندروں کو البتہ دوست ضرور بنا لیا ہے. غریب عوام اس میدان کے چوہے بن گئے ہیں. مہنگائی کے سانپ ہوں یا طاقتور بھیڑیے سب ہی ان کو کاٹ کھا رہے ہیں. عوامی نمائندے ہمارے وہ بندر ہیں جن کے ہاتھ میں ماچس ہے اور وہ چوہوں کو ڈرا ڈرا کر بھیڑیوں کے سامنے ڈال رہے ہیں. یہ عقل مند بندر یہ نہیں سوچ رہے جس دن میدان میں چوہے ختم ہو جائیں گے پھر بھیڑئے کس کو کھائیں گے.؟
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain