میں جو ابھی اتک سوچ رہا تھا کہ یہ سب کہانیاں جھوٹ ہیں...!! اسے دیکھتے ہی ششد رہ گیا کہ سب کہانیاں سچ ہیں...!! وہ سچ میں اس حادثے سے بچ نہیں پائی...!! جسے میں جانتا تھا وہ یہ تو نہیں تھی...!! یہ تو چپ سادھے آنکھوں میں کوئی ویرانی لیے کسی جنگ میں مصروف تھی..!! وہ خواہشوں کے پیچھے بھاگنے والی۔ کسی ضد میں پڑ چکی ہے..!! ضد جو شاید اب اس کی ذات سے کہیں بڑی ہے...!!
نہ جانے وہ کس رستے پر ہے لیکن اس کے اندر بے تحاشہ کہانیاں ہیں...!!اس کی آنکھوں میں ویرانياں ہیں...!!!
یہاں تک کہ میں نے یہ بھی سنا کہ اس نے خودکشی کی کئی ناکام کوششیں کیں ہیں...!!
میں نے اس ملنے کی بے انتہا کوششیں کی لیکن وہ کبھی کہیں نہیں ملی..!!
یہ سر درد کاہے ختم نہیں ہوتا بے۔۔۔۔!!!
سارے کردار ،سارے سوال ساری اذیتیں ایک طرف۔۔!!!
وہ اک شخص، وہ لہجہ ، وہ الفاظ، وہ نفرت سے دیکھتی آنکھیں ایک طرف۔۔!!!
شاید اس بات پر کبھی کوئی یقین نہ کرے ۔۔!!! کہ مجھے جس سے محبت ہوئی ہے۔۔!! میں نے آج تک اس کو حاصل کرنے کا خواب بھی نہیں دیکھا ہے۔۔!! یہی سچ ہے کہ میں نے آج تک کسی کو بھی یہ نہیں بتایا کہ میں کس سے محبت کرتا ہوں ..!!! شاید وہ مجھ سے اتنی مسافت پر ہے کہ میں کبھی بھی وہ فاصلہ طے ہی نہیں کر پاؤں گا۔۔!!! میں نے کبھی چاہا ہی نہیں کہ وہ میرے قفس میں آئے ۔۔!!! بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ اک ایسا خیال ہے جسے میں خود بھی اپنی دسترس میں نہیں لے سکتا ہوں ۔۔!!! چاہتے ہوئے بھی نہیں ۔۔!!!
میں سہی تھا اس بارے میں ۔۔!!! کہ خدا کے ہاں۔۔!! میری شکایتیں لگنا شروع ہوگئی ہیں ۔
میں نہیں جانتا ہوں کہ اس شخص کے ساتھ میرا کیا رشتہ ہے ۔۔!!! لیکن نہ جانے کیوں جب بھی میں ان گنت خیالات کی زد میں ہوتا ہوں ۔۔!! میں ہر بات ہر شخص سے الجھا ہوا ہوتا ہوں ۔۔!! میں ہارنے والا ہوتا ہوں ۔۔!! مجھے موت دلکش لگ رہی ہوتی ہے ۔!! نہ جانے اسے کیسے معلوم پرجاتا ہے۔۔!! کہ میں اس کہانی کو ختم کرنے کے قریب ہوں۔۔!! وہ مجھے آواز دیتی ہے۔۔!! اس کا ایک میسج میرے وجود کی ساری تلخیاں ختم کر دیتا ہے۔۔!! مجھے نہیں معلوم کہ اسے کیسے محسوس ہوتا ہے کہ میں کس قرب سے گزر رہا ہوں ۔۔!! لیکن وہ صدیوں کے فاصلے پر بیٹھی میری ذات کی ساری تلخیاں کچھ لمحوں کی گفتگو سے ختم کر دیتی ہے ۔۔!!! مجھے اک امید دلاتی ہے کہ کہانی ابھی باقی ہے۔۔!!
میں نے کچھ نہیں کھویا۔۔!! سوائے اس بات کے کہ میں خود کی ذات کو لے کر رحم دل نہیں رہا ہوں ۔۔!!!
زندگی میری سفاکیت دیکھنے کے لیے مجھے ہر روز اک نئے حادثے کی صورت اکسا رہی ہے۔۔!!
درحقیقت اس کی یاداشت ہی اس پر عذاب ہے۔۔!! وہ کچھ بھی نہیں بھولتی ہے۔۔!!! کوئی اک چہرہ بھی نہیں..کوئی ایک نام بھی نہیں ۔۔!!!
زندگی کبھی کبھی اس مقام پر لا کے کھڑا کر دیتی ہے ۔۔!!! یہاں ہمیں خود کا اصل چہرہ نظر آنے لگتا ہے۔۔!!! میرا چہرہ اتنا بھیانک نکلا کہ میں خود بھی خود سے ڈرنے لگ گیا ہوں ۔۔!!!
اک میں تھا ۔۔!! کہ خواہشات کی زد میں آ گیا ۔۔!!
اک توں ہے کہ میرے وہم و گماں سے پرے نکلا ۔۔!!
شاید وہ دیکھنے میں خوبصورت نہ لگے ..!! لیکن وہ دنیا کی سب سے حسین ترین عورت ہے..!! جسے سننا آتا ہے..!!
وہ کسی بھی بات کو اگر ذہن نشین کر لے تو اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا ہے..!! وہ سب کچھ گنوا دے گا ..!! مگر اپنی ضد سے بغاوت نہیں کرے گا..!! میں نے ہمیشہ اسے ہر ضد پوری کرتے دیکھا ہے..!! یہ پہلی بار ہے شاید کہ اسے کسی خواب کو اس کی تعبیر دینے میں اتنا وقت لگ رہا ہے..!! وہ مسلسل ناکام ہو رہا ہے..!! میں اب اس کی جانب دیکھتا ہوں تو مجھے اس سے خوف آنے لگتا ہے..!! کہ وہ کس قدر سفاک ہوتا جا رہا ہے..!! کوئی ضد کوئی خواب اک زندگی سے بڑا کیسے ہو سکتا ہے
اسے یاداشت کا مسئلہ ہے..! وہ باتیں بھول جاتا ہیں..!! اب اس کی زہنی حالت پہلے جیسی نہیں رہی ہے..!!
میں دعا کرتی ہوں تمہاری بات سچ ہو ..!!
لیکن یہاں تک میں جانتی ہوں ..!! وہ کچھ بھی نہیں بھولتا ہے..!! بس اس کی عادت ایسی ہے کہ وہ دھیان نہیں دیتا ہے..!! وہ اکثر کہتا ہے کہ اگر زندگی پرسکون گزارنی ہے تو ہر بات ہر شخص پر دھیان مت دیا کرو..!!
لیکن وہ خود ایسا کبھی نہیں کر پایا ہے..!!
یہاں تک میں جانتی ہوں وہ ساری زندگی اندھیرے میں ہی رہا ہے..!! میں نے تم سے کہاں تھا ..!! دعا کرنا اس کا ضبط نہ ٹوٹے..!! وہ اک زنجیر کبھی نہ ٹوٹے جو اس کے اور انسانیت کے درمیان ہے ..!! وہ رحم کرنا نہیں جانتا ہے..!! وہ کرتا نہیں ہے..!! تم سمجھ نہیں پا رہی ہو ..!! جسے تم سب کچھ کھو دینا کہہ رہی ہو ..!! اسے کبھی ان چیزوں کی پرواہ کہاں رہی ہے ..!! ..!! وہ بس اک شخص کو کھونے سے ڈرتا ہے ..!! وہ اس کے لیے برسوں اس زنجیر کو چومتا رہے گا ..!!
زندگی کبھی بھی تمہیں کچھ بھی دھرانے کا دوسرا موقع نہیں دے گی...! تمہیں اپنی ساری جنگیں یہیں اسی زندگی میں ختم کر کے جانا ہوگا ...!! کبھی کبھی ایک اچھی سگریٹ پی لینی چاہیے...!!
پھر اک روز کہنے لگی ..!!
تم واپس اندھیروں میں لوٹ جاؤ..!! تم روشنیوں سے گھبرائے ہوئے صدیاں بھی یہاں گزار دو گے تو سکون نہیں پاؤ گے..!!
میں آخری بار جب اس سے ملی تھی ...!! اس کے اندر عجیب سی خواہشوں کا اک سمندر تھا...!! وہ ہر خواہش پوری کرنا چاہتا تھا ..!!! نہ جانے اس نے کیا کیا بتایا تھا ..!! اس کی آنکھوں میں اک چمک تھی ..!! ایسی چمک جیسے کسی بچے کو روتے ہوئے اس کا پسندیدہ کھلونا مل گیا ہو...!! وہ بے تحاشہ بولتا تھا ..!!
اتنا کہ کوئی بھی اس سے اکتا جائے..!! مجھے لگتا تھا کہ شاید زندگی اس کے حصے میں درد لکھنا بھول گئی ہے...!!
پھر اک روز اک کال آئی...!! سننے میں آیا کہ اسے شکست ہوئی ہے..!! اس کی خواہشوں کا سمندر کسی طوفان کے جیسے اس سے سب کچھ چھین کر لے گیا ہے..!! کئی لوگ تھے ہر اک کے پاس اس کی الگ کہانی تھی..!! کوئی کہہ رہا تھا اس کا اصل سامنے آیا ہے..!! اور کسی نے کہا کہ وہ سب سے بدتر کردار ہے کہانی کا ...!! کسی نے کہا کہ اس نے لمحوں کی خاطر صدیاں اجاڑ دی ہیں..!!
میں اس لمحے اسی چناؤ کی کشمکش میں تھا...!! سارے خواب ٹوٹ چکے تھے..!! ہر خواہش جو کبھی دل کا آرمان تھی..!! وہیں کہیں دھول میں پڑی تھیں...!! میری سوچنے سمجھنے کی ساری سکت ختم ہوچکی تھی..!! میں پہلی بار اپنے وسوسوں کی وجہ سے اکیلا بیٹھنے سے ڈر رہا تھا..!! میں وہاں پر ہر محبت ہار چکا تھا ..!! ہزاروں لوگ ہونے کے باوجود میرے پاس کوئی نہیں تھا..!! میں اپنے وجود کی حالت بتانے سے قاصر تھا...!! شکست ایسی تھی کہ اسے سن کر میرے آس پاس کا ہر وجود ڈرا ہوا تھا..!! شاید ان کے لیے یہ سب پہلی دفعہ تھا..!! شاید میرے لیے بھی..!!
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain