ختم کر یہ تماشہ، اب راکھ اڑانے دے میاں
جون ایلیا تو کب کا قبر میں جا کے سو گیا
میں اپنی ہی کھوپڑی میں قید ہوں برسوں سے
مجھ کو کسی جہنم کی اب ضرورت نہیں رہی
کتنا ہولناک ہے یہ بربادی کا رقصِ جنوں
کہ اب موت بھی مجھ سے اپنا دامن بچاتی ہے
میاں! تم نے بربادی مانگی تھی نا؟ تو لو، یہ ہے بربادی! جہاں تمہارا عشق ایک گلی سڑی لاش کی طرح تمہارے گلے میں لٹکا ہوا ہے۔ تم جس گہرائی کی تمنا کرتے تھے، وہ دراصل وہ دلدل ہے جس میں تمہاری ہڈیاں تک گھل جائیں گی اور کسی کو خبر بھی نہ ہوگی۔ وہ عورت، وہ عمر، وہ سب اب ایک پھانسی کا پھندہ ہیں جو دھیرے دھیرے تمہاری روح کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ جاؤ! اب کسی قبر کی اوٹ میں بیٹھ کر اپنی جوانی کا ماتم کرو، کیونکہ یہاں سے آگے صرف ابدی اندھیرا ہے اور تمہاری اپنی ہی چیخیں ہیں جنہیں سننے والا کوئی نہیں ہوگا، خود تم بھی نہیں
کتنی لایعنی ہے یہ تمہاری زندگی کی ہوس
یہاں تو موت بھی قطار میں کھڑی اکتا گئی ہے
ہڈیوں کے اس ڈھیر کو اب تم "جون" کہتے ہو؟
تم تو بڑے ہی کمال کے تماشائی نکلے میاں
میاں، اب تم اس مقام پر آگئے ہو جہاں
جون ایلیا اپنا سر دیوار سے دے مارتے تھے
میاں! تم جس گہرائی کا تقاضا کر رہے ہو، وہ کوئی سمندر نہیں ہے، وہ ایک سیاہ کنواں ہے جس کی تہہ میں صرف 'کڑوا سچ' اور 'سفید ہڈیاں' پڑی ہیں۔ وہ عورت جس کے تم اسیر ہو، وہ ایک روحوں کی سوداگر ہے جو تمہیں جہنم کے اس دروازے تک لے جائے گی جہاں سے واپسی کا راستہ صرف تمہاری 'تباہی' سے گزر کر جاتا ہے۔ تم اسے 'پیار' کہتے ہو؟ میاں! پیار تو زندوں کا کام ہے، ہم تو وہ مرے ہوئے فلسفی ہیں جن کی کھوپڑیوں میں اب صرف یادوں کے کیڑے رینگتے ہیں۔ جاؤ! اپنی جوانی کا گوشت کہیں اور جا کر تڑپاؤ، یہاں تو صرف 'تعفن' ہے اور 'ملال' ہے، اور وہ ابدی خاموشی ہے جو ہڈیوں کو راکھ بنا دیتی ہے
لوگ زندہ ہیں میاں، کیونکہ وہ اندھے ہیں
ہم نے سچ دیکھ لیا، سو ہم اب مردہ ہیں
میں نے اپنی قبر خود کھودی ہے میاں
تاکہ مرنے کے بعد کسی کا احسان نہ رہے
میں نے ہڈیوں کے ڈھیر پر اپنا تخت سجایا ہے
میں اس اجڑی ہوئی سلطنت کا آخری بادشاہ ہوں
یہ اجڑا ہوا قبرستان شہر ہے صاحب
یہاں زندہ وہی ہے، جو مر چکا ہے کب کا
تمہارے پاس تو اب بھی وقت بہت ہے
ہمارے پاس تو مرنے کی بھی فرصت نہیں میاں
تمہارے خط تو ہم جلا دیتے میاں
مگر سردی بہت تھی، سو ہاتھ تاپ لیے
جون! اب کس کو ہے تلاشیِ ذات؟
شہر میں اب کوئی بشر ہی نہیں
ہم نے اپنی بربادی کا جشن کچھ یوں منایا
کہ خود ہی قاتل بنے اور خود ہی مقتول میاں
ارے میاں! ہم نے تو وہ راتیں بھی گزاری ہیں
جب چاند ہمیں کسی بیوہ کی سفید چادر لگتا تھا
اور تارے کسی مقتول کی بکھری ہوئی ہڈیاں۔
آ
ہم کہ محرومِ التفات رہے
ہم کو دنیا سے کیا غرض ہے میاں
جون! اب خود سے بچھڑنا ہے
تم نے بہت ساتھ دے دیا اپنا
عجیب حادثہ ہے کہ اب ہم کو
اپنے ہونے پہ بھی یقین نہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain