Damadam.pk
PrInce-zaIn's posts | Damadam

PrInce-zaIn's posts:

PrInce-zaIn
 

ختم کر یہ تماشہ، اب راکھ اڑانے دے میاں
جون ایلیا تو کب کا قبر میں جا کے سو گیا

PrInce-zaIn
 

میں اپنی ہی کھوپڑی میں قید ہوں برسوں سے
مجھ کو کسی جہنم کی اب ضرورت نہیں رہی

PrInce-zaIn
 

کتنا ہولناک ہے یہ بربادی کا رقصِ جنوں
کہ اب موت بھی مجھ سے اپنا دامن بچاتی ہے

PrInce-zaIn
 

میاں! تم نے بربادی مانگی تھی نا؟ تو لو، یہ ہے بربادی! جہاں تمہارا عشق ایک گلی سڑی لاش کی طرح تمہارے گلے میں لٹکا ہوا ہے۔ تم جس گہرائی کی تمنا کرتے تھے، وہ دراصل وہ دلدل ہے جس میں تمہاری ہڈیاں تک گھل جائیں گی اور کسی کو خبر بھی نہ ہوگی۔ وہ عورت، وہ عمر، وہ سب اب ایک پھانسی کا پھندہ ہیں جو دھیرے دھیرے تمہاری روح کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ جاؤ! اب کسی قبر کی اوٹ میں بیٹھ کر اپنی جوانی کا ماتم کرو، کیونکہ یہاں سے آگے صرف ابدی اندھیرا ہے اور تمہاری اپنی ہی چیخیں ہیں جنہیں سننے والا کوئی نہیں ہوگا، خود تم بھی نہیں

PrInce-zaIn
 

کتنی لایعنی ہے یہ تمہاری زندگی کی ہوس
یہاں تو موت بھی قطار میں کھڑی اکتا گئی ہے

PrInce-zaIn
 

ہڈیوں کے اس ڈھیر کو اب تم "جون" کہتے ہو؟
تم تو بڑے ہی کمال کے تماشائی نکلے میاں

PrInce-zaIn
 

میاں، اب تم اس مقام پر آگئے ہو جہاں
جون ایلیا اپنا سر دیوار سے دے مارتے تھے

PrInce-zaIn
 

میاں! تم جس گہرائی کا تقاضا کر رہے ہو، وہ کوئی سمندر نہیں ہے، وہ ایک سیاہ کنواں ہے جس کی تہہ میں صرف 'کڑوا سچ' اور 'سفید ہڈیاں' پڑی ہیں۔ وہ عورت جس کے تم اسیر ہو، وہ ایک روحوں کی سوداگر ہے جو تمہیں جہنم کے اس دروازے تک لے جائے گی جہاں سے واپسی کا راستہ صرف تمہاری 'تباہی' سے گزر کر جاتا ہے۔ تم اسے 'پیار' کہتے ہو؟ میاں! پیار تو زندوں کا کام ہے، ہم تو وہ مرے ہوئے فلسفی ہیں جن کی کھوپڑیوں میں اب صرف یادوں کے کیڑے رینگتے ہیں۔ جاؤ! اپنی جوانی کا گوشت کہیں اور جا کر تڑپاؤ، یہاں تو صرف 'تعفن' ہے اور 'ملال' ہے، اور وہ ابدی خاموشی ہے جو ہڈیوں کو راکھ بنا دیتی ہے

PrInce-zaIn
 

لوگ زندہ ہیں میاں، کیونکہ وہ اندھے ہیں
ہم نے سچ دیکھ لیا، سو ہم اب مردہ ہیں

PrInce-zaIn
 

میں نے اپنی قبر خود کھودی ہے میاں
تاکہ مرنے کے بعد کسی کا احسان نہ رہے

PrInce-zaIn
 

میں نے ہڈیوں کے ڈھیر پر اپنا تخت سجایا ہے
میں اس اجڑی ہوئی سلطنت کا آخری بادشاہ ہوں

PrInce-zaIn
 

یہ اجڑا ہوا قبرستان شہر ہے صاحب
یہاں زندہ وہی ہے، جو مر چکا ہے کب کا

PrInce-zaIn
 

تمہارے پاس تو اب بھی وقت بہت ہے
ہمارے پاس تو مرنے کی بھی فرصت نہیں میاں

PrInce-zaIn
 

تمہارے خط تو ہم جلا دیتے میاں
مگر سردی بہت تھی، سو ہاتھ تاپ لیے

PrInce-zaIn
 

جون! اب کس کو ہے تلاشیِ ذات؟
شہر میں اب کوئی بشر ہی نہیں

PrInce-zaIn
 

ہم نے اپنی بربادی کا جشن کچھ یوں منایا
کہ خود ہی قاتل بنے اور خود ہی مقتول میاں

PrInce-zaIn
 

ارے میاں! ہم نے تو وہ راتیں بھی گزاری ہیں
جب چاند ہمیں کسی بیوہ کی سفید چادر لگتا تھا
اور تارے کسی مقتول کی بکھری ہوئی ہڈیاں۔
آ

PrInce-zaIn
 

ہم کہ محرومِ التفات رہے
ہم کو دنیا سے کیا غرض ہے میاں

PrInce-zaIn
 

جون! اب خود سے بچھڑنا ہے
تم نے بہت ساتھ دے دیا اپنا

PrInce-zaIn
 

عجیب حادثہ ہے کہ اب ہم کو
اپنے ہونے پہ بھی یقین نہیں