ﻭﮦ ﺑﻬﯽ ﺍﮎ ﺷﺎﻡ ﻓﺮﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﻬﯽ ﺟﺐ ﺗﺮﯼ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﻤﺎ ﺁﻧﮑﻬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﯽ ﺩﻫﻨﮏ ﺍﺗﺮﯼ ﺗﻬﯽ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺍﺩﺭﺍﮎ ﮨﻮﺍ ﺗﻬﺎ ﻣﺠﻬﮑﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﯿﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﯿﺮﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻬﯽ ﮐﯿﺴﺎ ﺣﺴﯿﻦ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﻬﺎ ﻣﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍﮎ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﻋﮑﺲ ﺗﯿﺮﺍ ﺩﮐﻬﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﻬﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﺎﻣﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺑﻬﯽ ﮐِﻬﻠﺘﯽ ﺗﻬﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺗﺮﯼ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﻬﺎ ﺗﻮ ﮨﯽ ﻣﺤﻮﺭ ﺗﻬﺎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﯼ ﺟﺰﻭ ﻫﺴﺘﯽ ﮐﺎ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺗﻬﺎ ﺗﺠﻬﮯ ﺟﺰ ﺗﯿﺮﮮ ،ﭘﺎﺱ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻣﺮﮮ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺛﺎﺛﮧ ﺗﻬﯽ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﺟﻠﺪﯼ ﺗﻮ ﮨﮯ ﺑﭽﮭﮍﻧﮯ ﮐﯽ
ﺧﻮﻥ ﺗﮭﻮﮐﮯ ﮔﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﺅ
ﮐﯿﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ
ﺗﻢ ﺍﮔﺮ ﺟﺎﻥ ﻟﻮ ﺗﻮ ﻣﺮ ﺟﺎﺅ۔۔
.. 

دل ہی تو ٹوٹا ہے کوئی پہاڑ نہی پھر اتنا ماتم کیوں 🙄
Meri Tanhai ko Mera Shoq Na Samjhna **
bary piyar Sy kisi ne ye Tohfaa Diya hai **

نفسیات کہتی ھے کہ: 1)..اگر آپ بہت ہنستے ہیں اور وہ بھی فضول باتوں پر تو"آپ اندر سے خالی ہیں".... 2)..اگر آپ بہت سوتے ہیں تو "آپ اداس ہیں"... 3)اگر آپ کم بولتے ہیں اور تیز رفتاری سے بولتے ہیں تو"آپ بہت گہرے ہیں"... 4)اگر آپ کو رونا نہیں آتا تو "آپ کمزور ہیں " 5)..اگر آپ بے تحاشا کھاتے ہیں تو آپ "پریشان ہیں" 6)..اگر آپ بات بات پر رو پڑتے ہیں تو "آپ نرم دل اور معصوم ہیں".... 7)اگر آپ چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کر جاتے ہیں تو "آپ توجہ چاہتے ہیں ❤
"خالص وہ لوگ ہیں ، جو آپ کو بلاوجہ پیار کرتے ہیں ، صرف اس وجہ سے کہ آپ کے دُکھ ان کے دُکھوں سے ملتے ہیں۔

پہلے فرق پڑتا تھا ۔۔۔
اب تو اثر بھی نہیں ہوتا

تعارف کے لیے اتنا کافی ہے😏
۔۔۔۔ خراب ہوں اور اچھی خاصی ہوں

ﮐﺒﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﺮ ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻢ ﻧﮯ؟
ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﮭﮏ ﮐﺮ ﮐﺴﯽ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﮐﻮ ﺩﻭﺭ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﮍ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﮯ؟
ﯾﺎ ﭼﻨﺪ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﺍﭘﺲ ﻭﮨﯿﮟ ﭘﮧ ﻟﻮﭨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺲ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﻨﮯ ﺁﺋﮯ؟
ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﺎ ﻧﺎﮞ؟ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺣﺎﺟﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﻓﺘﮕﺎﮞ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﺟﮭﯿﻠﮯ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﺑﺎﺯﯼ ﮐﻮ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻠﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺷﺮﻁ ﮐﺮﻟﮯ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻓﮑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﮐﮩﺎﮞ ﭘﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻋﻤﺮ ﺑﯿﺘﯽ ﯾﺎ ﮐﯿﺴﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﮐﺎﭨﺎ؟
ﺑﭽﮭﮍ ﮐﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﺴﮯ ﻣﻠﮯ ﺗﻢ
ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻓﮑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﺗﺮﻥ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﭘﮩﻨﺎ؟

اسکی یاد کا اک دائرہ بناتی ہوں؛
پھر اس میں رہنے کی کوئی جگہ بناتی ہوں۔
وہ اپنے گرد اٹھاتا ہے روز دیواریں؛
میں اس کی سمت نیا راستہ بناتی ہوں۔
وہ گھول جاتا ہے نفرت کی تلخیاں آ کر؛
میں چاہتوں کا نیا ذائقہ بناتی ہوں۔
وہ جو تمھیں بھولے ہیں، تم پر بھی لازم ہے
خاک ڈال ، آگ لگا ، نام نہ لے ، یاد نہ کر

ﻇﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺍﻭﺭ ﻇﻠﻢ ﮐﯽ ، ﻋﺎﺩﺕ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﯽ
ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺗﮭﮯ ﮨﻢ ﺍﺱ ﺳﮯ ، ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﯽ
ﺍﺱ ﺑُﺖ ﮐﮯ ﺳِﺘﻢ ﺳﮩﮧ ﮐﮯ، ﺩِﮐﮭﺎ ﮨﯽ ﺩﯾﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ
ﮔﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﻣﯿﮟ ، ﺑﻐﺎﻭﺕ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﯽ
ﮔﻮ ﺗﺮﮎِ ﺗﻌﻠﻖ ﻣﯿﮟ ، ﺳﮩﻮﻟﺖ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﯽ
ﻟﯿﮑﻦ ﻧﮧ ﮨُﻮﺍ ﮨﻢ ﺳﮯ، ﮐﮧ ﻏﯿﺮﺕ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﯽ
ﻭﺍﻗﻒ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺭﻣﺰِ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻭﮦ ، ﻭﺭﻧﮧ
ﺩِﻝ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﯽ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﯽ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain