مل ہی جائے گا کبھی، دل کو یقیں رہتا ہے وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے اے مکاں بول، کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے اِک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جُگ بیت گئے عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن عمر بھر کون جواں، کون حسیں رہتا ہے
زندگی کے متعلق ایک ضروری بات یہ ہے کہ آپکے معاملات کو آپ نے خود حل کرنا ہے، اپنے جذبات کو آپ نے خود قابو میں رکھنا ہے، ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی آکر سب کچھ ٹھیک کرے گا۔ زندگی سراسر آپ کی اپنی ذمہ داری ہے اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھیں اور سلامت رہیں۔
اسے کہنا یہ دنیا ہے ! یہاں ہر موڑ پہ ایسے بہت سے لوگ ملتے ہیں ! جو اندر تک اترتے ہیں ! ابد تک ساتھ رہنے کی ! اکھٹے درد سہنے کی ! ہمیشہ بات کرتے ہیں ! اسے کہنا . . ! یہ دنیا ہے ! یہاں ہر شخص مطلب کی ! حدوں تک ساتھ چلتا ہے . . ! جونہی موسم بدلتا ہے ! محبت کے سبھی دعوے ! سبھی قسمیں ! سبھی وعدے ! سبھی رسمیں ! اچانک ٹوٹ جاتے ہیں !
ہم مکمل فنا نہیں ہوئے بس مدھم پڑتے گئے دن بدن۔۔۔ آہستہ آہستہ۔۔۔ بغیر کسی آخری الوداع یا چیختے ہوئے اختتام کے ہماری ذات کا کچھ حصہ ہر روز بجھتا گیا ، یہاں تک کہ روشنیاں ماند پڑیں مسکراہٹیں تمام ہوئیں اور۔۔۔۔ اداسیوں نے ہمیں ، آ گھیرا۔