رستہ بدل لیا میں نے اب میری جگہ یہی ہے
تیری جگہ نہیں ہوں میں تیری سزا یہی ہے
ادھورے خواب کی دہلیز پہ سویا نہیں کرتے
کسی بھی ایک غم پہ بار ہا رویا نہیں کرتے
آخر کتنا چاہنا پڑتا ہے ایک شخص کو
کے وہ کسی اور شخص کو نہ چاہے
حسرتیں روگ بن گئیں مرشد
لوگ ذہنی مریض کہتے ہیں اب
اور پھر کچھ راتیں ایسی بھی ہوتی
ہیں کہ سانس لینا وبال لگتا ہے
دوا بھی چل رہی ہے مرض بھی بڑھ رہا ہے
جانے کون میرے مرنے کی دعا کر رہا ہے