نہیں بلکل نہیں یہ تو ایک کیفیت ہے میرے
اندر
کی نمی ہے جو مجھے لکھنے سے مسحورکن
کر دیتی ہے ۔
میری تحریریں کسی ایک فرد واحد کیلئے
نہیں
بلکہ ان سب دلوں کیلئے ہیں جو سچے
جذبوں
کی قدر جانتے ہیں،جو محبت کا مطلب
سمجھتے ہیں،جو لفظوں کہ پیچھے چھپی
دعا اور درد کو محسوس
کر سکتے ہیں
سچ یہ ہے کہ
وہ کوئی چہرہ نہیں کہ سب کو دیکھا دوں وہ
کوئی ایسا نام نہیں جس کو ہجوم کہ سامنے
پکار دوں ۔
وہ تو میری روح کی وہ روشنی ہے جو کبھی
دعا کی صورت ملی ،کبھی کسی خیال کی
صورت ،کبھی خاموشی سے دل کہ اندر اتری
اور الفاظ کی صورت بہہ کہ کاغز پہ اتر گئی ۔
اور لوگ سمجھتے ہیں کہ شائد وہ کوئی
میری محبوبہ ہے ۔
جب مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کون ہے
جس کیلئے آپ اتنی گہری ،اتنی نرم تحریریں
لکھتے ہو ؟
تو میں اندر ہی اندر مسکرا کر خاموش ہو
جاتا ہوں کیونکہ کچھ سوالوں کہ جواب
لفظوں سے نہیں احساسات سے محسوس
کئیے جا سکتے ہیں
مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں
وہ کون ہے جس کہ لئیے آپ لکھتے ہو ؟
تو چلو آج اس بارے میں
بتاتا ہوں
ہم اکثر خالی اس لیے نہیں ہوتے کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہوتا،
بلکہ اس لیے ہوتے ہیں کہ ہم اُس ایک چیز کے پیچھے الجھے رہتے ہیں
جو ہماری زندگی میں آنا ہی نہیں چاہتی۔
ہم اپنی ساری توجہ، ساری امید، اور ساری توانائی اُس ایک خلا پر مرکوز کر دیتے ہیں
جو شاید ہمارے لیے بنا ہی نہیں تھا۔
لوگوں کو آپ میں دلچسپی نہیں ہے، انھیں صرف اپنے آپ سے دلچسپی ہے
مجھے پرکھنا ہوا تو میرے پاس چلے آنا
یہ یہاں وہاں کی خبریں تجھے بدگماں کریں
گی
وہ کہتی تھی تمہیں نہیں بھول سکتی۔
اور مجھے اپنے اہم ہونے کا وہم تھا۔
اور اسی وہم نے مجھے وہاں لا پٹخا، جہاں
ہونے کا میں تصور ہی نہیں کر سکتا تھا۔
کبھی کبھی کہتی تھی تمہیں بھول گئی تو
میرے پاس یاد رکھنے کو کچھ نہیں ہوگا۔
لیکن اب وہ مطمئن ہے، وہ کہتی ہے زندگی
نہیں رکتی، تم بھی آگے بڑھ جاؤ۔
اور میں دو اڑھائی سال سے ایک ہی جگہ
کھڑا، ابھی تک خود پر حیران ہوں
وہ نئے رابطوں میں مصروف ہو گئے،
ہم پرانی یادوں کو اذیت بنائے بیٹھے
ہیں
کچھ لوگ مانند امربیل ہوتے ہیں جسے
چُھولیں اُسے کھاجاتے ہیں۔
جب اہمیت ہوتی ھے تو آپ کے "ڈاٹ" اور
"ہمم" کا جواب بھی وقت پر آتا ھے اور جب
اہمیت ہی نا رہے تو تب آپ کا ایک "جملا
لمبے لمبے پیراگراف سب اگنور کر دئیے جاتے
ہیــــــــں
شک رہتا تھا، مرنے والے کیسے جی اُٹھیں گے؟
اور پھر اک دن تیری یاد کو زندہ ہوتے دیکھا
اپنا ہی سر پکڑ کے یہ پوچھوں کہ کیا ہوا
اپنی ہی نبض دیکھ کے کہہ دوں اداس ہوں۔
ہر بات کو اتنا زیادہ سوچنا بند کریں،
کیونکہ آپ کسی اور سے زیادہ، خود اپنے دل
کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ہم سترویں منٹ میں، ہر ہفتے کے آٹھویں
دن، سال کے تیرہویں مہینے میں ملیں
گے۔
کچھ لوگ تمہارے جواب کے قابل نہیں ہوتے،
اس لیے اُن کے سامنے خاموش رہو انہیں
یقین کرنے دو کہ وہ جیت گئے ہیں
"ڈھونڈیں" تو "سکون" خود میں ہی ہے
دوسروں میں تو "فقط" الجھنیں "ہیں
آخر تم سب نے وہیں دل کیوں لگایا جہاں دل لگانا منع تھا
دس لوگوں میں سے نو تُمہارے لئے سمندر
پار کر جائیں گے،
مگر تُم ڈوب جاؤ گے اُس دسویں شخص کے
اِنتظار میں جو تُمہارے لیے پانی میں کُودا
تک نہیں
اب کچھ بھی برا ہو جائے
اب کچھ بھی برا نہیں لگتا۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain