سردیوں میں سورج بھی سرکاری آفیسر بن جاتا ہے صبح لیٹ آتا ہے اور شام کو جانے کی بھی جلدی ہوتی ہے
ہوں گے کچھ اور بھی اسباب تباہی کے مگر
خوش گمانی بھی کہیں کا نہیں رہنے دیتی
منتیں ،مرادیں ،حاصل ،لاحاصِل ،ملنا بچھڑنا
سب کیفیات ایک مُدّت کے بعد بے معنی ہو جاتی ہیں
"ہر انسان اپنے اندر ایک خاموش عدالت لیے پھرتا ہے، جہاں نہ کوئی گواہ ہوتا ہے، نہ کوئی منصف اور وہاں وہ خود ہی، تنہائی میں، اپنے آپ کو کڑی سزا سناتا ہے۔
"خوبصورت روحیں خوبصورت روحوں کو پہچان لیتی ہیں, بس حقیقی اور اصل بنے رہو۔
تمہارے جیسے لوگ تمہیں ڈھونڈ لیں گے۔"
"کچھ لوگ اپنے نہیں ہوتے لیکن ان کے ساتھ دل کا بہت گہرا رشتہ بن جاتا ہے اور دل چاہتا ہے کہ وہ کبھی ہم سےجدا نہ ہوں"
جن کے پاس بیٹھنے سے غم ختم ہو جائیں
اپنا آستانہ وہیں بناؤ اور وقت انہیں کے ساتھ بسر کرو
شاہ عبد الطیف بھٹائی
احباب کاکرم ہےکہ خود پہ کھلا ہوں میں
مجھ کو کہاں خبر تھی کتنا برا ہوں میں
اس کی تصویر و تصور بھی مجھے کافی ہے
وہ میسر نہ سہی، کام تو چل جاتا ہے۔
ایک مدّت ہوئی ہے تجھ سے ملے
تُو تو کہتا تھا رابطے رہیں گے
سکون کی تلاش میں ہم نے خود کو اتنا تھکا دیا
کہ اب تھک کر بیٹھنا ہی سکون لگتا ہے
ایسے غم سے مجھے خوف اتا ہے جس کی قیمت
مجھے بات کے بجائے خاموشی سے ادا کرنی پڑے
بے رحم حادثوں سے گزرنا پڑتا ہے
بازوؤں پر تعویذ باندھنے سے جگرے مضبوط نہیں ہوتے۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain