آہنِ تیغ سے ہلکان نہیں ہوتے ہم
سر بھی کٹ جائے تو بے جان نہیں ہوتے ہم
سینۂ خالی میں لا رکھتے ہیں محمل کی شبیہ
دشت ہو جاتے ہیں ویران نہیں ہوتے ہم
اس قدر یاد کیا ہونے نہ ہونے کا سبق
اپنے ہونے پہ بھی حیران نہیں ہوتے ہم
سرسری آنکھ ذرا دیر ہمیں ٹھیر کے دیکھ
سہل ہونے پہ بھی آسان نہیں ہوتے ہم
یار شہ رگ سے بھی نزدیک نظر آیا تھا
اور کیا کرتے جو قربان نہیں ہوتے ہم؟
دل کے زخم چھپاتے ہیں وہ، جو بہت حساس ہیں
دن کی روشنی میں تو، مگر رات کے رازی ہیں
ہر لفظ کا وزن سمجھتے ہیں وہ خاموشی میں
ہنسی بھی ان کی کبھی کبھی گہرے غم کی بازی ہے
دھوپ میں جلنے سے ڈرتے نہیں، مگر سایہ چاہتے ہیں
اس دنیا کی گہما گہمی میں، سکون کے ساز ہیں
جو دل کی بات سن سکیں، وہی ان کے یار ہوتے ہیں
ورنہ ہر ایک دوست، کہیں ریت کے تیز کنارے ہیں
ہمارے دل کے مکاں میں سدا مکیں رہیں گے
خسارے ضد پہ اڑے ہیں کہ اب یہیں رہیں گے
ہم اپنا زاویہ ہرگز بدلنے والے نہیں
جو دلنشیں ہیں ہمیشہ ہی دلنشیں رہیں گے
ہزار وقت کا مرہم لگائیں گھاؤ پر
یہ داغِ ہجر یقیناً کہیں کہیں ، رہیں گے
ذرا شکستہ سہی ، اک نشان کی صورت
جہاں سے ہم کو ہٹایا ہے ہم وہیں رہیں گے
گلا ہی چھیل لیا ہے وضاحتیں دے کر
ہمیں گماں بھی نہ تھا آپ بے یقیں رہیں گے
پِیا ہوا ہے یہاں کب کسی نے آبِ حیات
یہ ظلم کرتے ہوئے لوگ بھی نہیں رہیں گے
زرہِ ندامت میں چھپی ہے شمعِ صفا،
ظلمتِ جُرم میں پوشیدہ ہے رُوح کا سودا۔
صبر کے سمندر میں جو ڈوبے وہی پاک،
نفس کی زنجیر سے جو کرے جدا۔
حکمتِ الٰہی میں ہے رازِ صراط،
برائی کی جوت سے بُنے ہیں ہنرِ خدا۔
ہر طرف ہے آزمائش، ہر قدم ہے امتحاں،
جو رُخ کرے حق کا، وہی ہے سچا وفا۔
دل کی دھڑکن میں ہے نغمۂ ہدایت،
اچھائی کی رہ پر چلے جو بنا صدا۔
🕯🕯😴🕯🕯
غُبارِ خیالوں کا طوفاں اُٹھتا ہے،
دل کے گہرے جزیرے ہلچل مچاتے ہیں۔
کوئی وجہ نہیں، پھر بھی کچھ منظر ہیں،
یادوں کے جنگل میں چمکتے ہوئے سائے ہیں۔
بے وجہ اضطراب، بے وجہ اذیت،
یہ کیسا سناٹا، یہ کیسا سفرِ ہجرت؟
غُبارِ خیال، ہواؤں کے سنگ رقصاں،
بے مقصد بھی کبھی کوئی قصہ سنائیں۔
فاصلے کے سناٹے میں گونجتی ہے تنہائی،
مغرور چہرے کے پیچھے چھپی ہے چاہت کی زُہائی۔
دور رہ کر بھی رہتا ہوں دل کے قریب کہیں،
خود کو پہچان نہ پاؤں، یہ حدِ غرور بھی کیا ہے۔
خاموشی کے پردے میں چھپی بے قراری ہے،
دور اور مغرور، دونوں میں کہانی ہے۔
فریبِ فاصلہ ہے، یا خود سے اجنبیت؟
یہ دوری بھی کبھی محبت کی ترجمانی ہے۔
زرد پتوں کی لپٹی ہوئی یہ کہانیاں،
ماتم کی زبان، خاموشی کی زبانیاں۔
تہمیلاتِ ہوا میں رقصاں پرچھائیاں،
خزاں کے محفل میں بکھری ہوئی اجالیاں۔
عروج و زوال کے سائے گہرے ہیں یہاں،
ہر زوال میں پنہاں ایک نویدِ جاں۔
رگِ جاں پہ لکیریں کھینچتا ہے موسمِ غم،
پت جھڑ کی گونج میں چھپی ہے حیات کا سم۔
خاموشی کی گہرائی میں کچھ بات ہے چھپی،
لفظوں سے پرے، دل کی ایک رات ہے بسی۔
دھوپ کے سائے بھی کبھی چھپ جاتے ہیں،
کہیں ہنسی کے پیچھے درد کی بات ہے۔
راستے جو تُوٹے، پھر بنے نۓ خواب،
رہگزر کے کونے میں خوشی کی ذات ہے۔
تنہا نہیں، ہم اپنے ہی ساتھ ہیں،
دھوپ میں بھی کبھی چاندنی کی بات ہے۔
رُتِ باراں میں چھپے ہیں سنہرے خواب،
اندھیرے کی چادر میں بھی جگمگاتے باب۔
بوندوں کی ہر قطرة میں خوشی کا پیغام ہے،
خاموشی کے گہرے رازوں میں بھی اک دعائیں ہیں۔
دل کے سناٹے میں کبھی دھڑکن جاگتی ہے،
گہرے اندھیرے میں بھی کوئی روشنی چمکتی ہے۔
بارش کی نمی سے جب خوشبو بکھرتی ہے،
تب پرانی یادیں نئی باتیں سناتی ہیں۔
رات کی گہری چپ میں چھپی ہے وہ بات
جو سن لے دل، مل جائے رازِ ذات
احساس کی لہروں میں بہتی ہے روشنی
ہر سانس میں ہے حضور کی قربت کی خوشبو
سناٹے کے پردے میں گونجتی ہے صدا
اللہ کی مہربانی، رحمت کی صدا
دل کے آئینے میں جب عکس ہوتا ہے صاف
روح کو ملتی ہے سکون، مِٹتا ہے ہر غم کا شائبہ
دل نے جب نامِ خدا کو ہی صدا بنانا سیکھا
تب کہیں جا کے یہ مٹی، آسماں بنانا سیکھا
ہر طلب ٹوٹ گئی تیرے درِ کامل پہ آ کر
میں نے خواہش کو بھی سجدے میں جھکانا سیکھا
عشقِ حق میں نہ سوالات رہے، نہ شکوے
میں نے خاموشی سے ہر درد اٹھانا سیکھا
تو ملا تو یہ سمجھ آیا عبادت کیا ہے
دل نے ہر سانس میں تسبیح گھمانا سیکھا
جو فنا ہو گئے تیری رضا کی خاطر
وہی سمجھے کہ بقا کیا ہے، زمانہ کیا ہے
میں جو خود سے بھی جدا تھا تری نسبت سے ملا
تو نے بکھرے ہوئے ذروں کو اکانا سیکھا
بےنور محفل میں چھپے ہیں رنگِ وصال کے فسوں،
طلسمِ خیال میں گھُرا ہوا ہے ہر جُزءِ وصال،
پوشیدہ ہے رازِ حیات کے مرے الفاظ میں،
کسی صدیف کی مانند ٹوٹتے ہیں دل کے کمال۔
ظاہر نے پردۂ رنگ و بو میں خود کو سجا لیا،
باطن نے خاموشی میں اپنا عالَم بسا لیا۔
اک نقش تھا جو نگاہ میں محدود لگتا تھا،
باطن نے دیکھا تو وہی لا مکاں ٹھہرا۔
ظاہر نے عقل سے راہِ یقیں تراشی،
باطن نے دل میں سوزِ نہاں سے خدا تراشا۔
ظاہر کو حرف و صُورت میں قیدِ خیال ملی،
باطن کو سجدۂ بے وقت میں وصال ملا۔
آخر صدا آئی —
"جو ظاہر میں کھو گیا، وہ باطن سے جُدا ہوا،
جو باطن میں مٹ گیا، وہ حقیقت بن گیا۔"
🕯🕯🕯😴🕯🕯🕯
میں وقت کے دھاگے میں الجھا ہوا خیال ہوں،
نہ آغاز میرا کوئی، نہ انجام کا ملال ہوں۔
سناٹے کے لبوں پر میرا نام لکھا ہے،
میں وہ صدا ہوں جو کبھی کہی نہ گئی۔
میرے اندر اک سمندر ہے،
جس کی موجیں سکوت میں چیختی ہیں۔
میں خود سے فرار چاہوں بھی تو کہاں جاؤں،
میرا سایہ بھی مجھ میں پناہ لیتا ہے۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain