کبھی یوں بھی آ میرے روبرو
تجھے پاس پا کے میـں رو پڑوں
مجھے منزل عشق پہ ہو یقیں
تجھے دھڑکنـوں میں سنا کروں
کبھی سجالوں تجھ کو آنکھوں میں
کبھی تسبیحوں پــہ پڑھا کروں
کبھی چوم لوں تیرے ہاتھوں کو
کبھی تیرے دل میــں بسا کروں
کبھی یوں بھی آ میرے روبرو
تجھے پاس پا کے میــں روپڑوں.☺☺
❤اے عشق ! جنت نصیب نہ ھوگی تجھے❤
.
❤ بڑے مصوم لوگوں کو تونے برباد کیا ھے❤
کبھی جو تھک جاؤ دنیا کی محفلوں سے
تم_____!!!
ہمیں آواز دے لینا.......اکیلے ہم بھی ہوتے
ہیں______!!😉😉
💔✌
اب تو مجھکو میرے حال میں جینے دو🥀
اب تو میں نے تم پہ مرنا چھوڑ دیا✋
لِکھ دیا جاتا ہے مُقدر میں
صاحب
عشق ____عادتاً نہیں ہوتا💯
🔥👌

YaadaiN...
یادیں...
بھلا کیا پڑھ لیا ہے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں
کہ اس کی بخششوں کے اتنے چرچے ہیں فقیروں میں
کوئی سورج سے سیکھے، عدل کیا ہے، حق رسی کیا ہے
کہ یکساں دھوپ بٹتی ہے، صغیروں میں کبیروں میں
ابھی غیروں کے دُکھ پہ بھیگنا بُھولی نہیں آنکھیں
ابھی کچھ روشنی باقی ہے لوگوں گے ضمیروں میں
نہ وہ ہوتا، نہ میں اِک شخص کو دِل سے لگا رکھتا
میں دُشمن کو بھی گنتا ہوں محّبت کے سفیروں میں
سبیلیں جس نے اپنے خون کی ہر سو لگائی ہوں
میں صرف ایسے غنی کا نام لکھتا ہوں امیروں میں
بدن آزاد ہے، اندر میرے زنجیر بجتی ہے
کہ میں مختار ہو کر بھی گنا جاؤں اسیروں میں


My PoInT Is ( I FeEl LiKe ThErE's No PlAcE FoR Me)

سوال:دنیا میں مرد سب سے زیادہ
معافی کس سے مانگتے ہیں.. ؟
جواب : جی فقیروں سے. ویسے جو آپ نے سوچا تھا وہ بھی ٹھیک ہے. 😂😂
ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﮈﻭﺑﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ
ﮐﮧ ﻣﭽﮭﻠﯿﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﭘﻮﭼﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
ﻧﻮﺍﮞ ﺁﯾﺎ ﺍﮮ ﺳﻮﮨﻨﯿﺎ😅😄😃😂😂😂😂😂😂😂
😂😁😀
بیوی : جیسی تم ڈرائیو کرتے ہو موت کا فرشتہ بھی ساتھ ساتھ سفر میں رہتا ہے...کہ آنے میں دیر نہ ہو جائے...
شوہر : اور شام کو جب تم کھانا پکا رہی ہوتی ہو تو شیطان میرے ترلے کر رہا ہوتا ہے....
تینوں خدا دا واسطہ اے بسم اللہ پڑھ لئیں نہیں تے مینوں کھانا پینا اے 👋👋👋👋👋😄😄
ﻗﺼﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺣﺠﺎﺏ ﺳﮯ،،،، ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﻣﯿﮟ 'ﺁﭖ' ، ﻭﮦ 'ﺟﻨﺎﺏ' ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﻣﺪﺕ ﮨﻮﺋﯽ،،،،،، ﮐﺘﺎﺏ ﻣﺤﺒﺖ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺎﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﻟﻤﺒﯽ ﻣﺴﺎﻓﺘﯿﮟ ہیں ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺳﻮﺍﺭ ﮐﺎ
ﭘﺎﺅﮞ ﺍﺑﮭﯽ ﺭﻗﺎﺏ ﺳﮯ ﺍﮔﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻨﮓ ﻭ ﺧﺸﺖ ﮐﮯ ﻗﻠﻌﮯ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﮯ
ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺤﻞ ﺗﻮ،،، ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﻭﮦ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﻝ ﮈﮬﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎﮐﮩﮯ
ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺣﺘﺴﺎﺏ ﺳﮯ،،، ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﺭخساﺭ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ آنکھﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﻮﺏ ہیں
ﺩﯾﺪﺍﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﻧﻘﺎﺏ ﺳﮯ،،،، ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﻭﮦ ﻟﺬّﺕ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﮯ،،،،،،،،، ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﯽ ﺭﮨﺎ
ﺟﻮ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺛﻮﺍﺏ ﺳﮯ،،، ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ.
خاموش الفاظ
حالت جو ھماری ھے تمھاری تو نہیں ھے
ایسا ھے تو پھر یہ کوئی یاری تو نہیں ھے
جتنی بھی بنا لی ھو کما لی ھو یہ دنیا
دنیا ھے تو پھر دوست تمھاری تو نہیں ھے
تحقیر نہ کر یہ مِری اُدھڑی ھُوئی گدڑی
جیسی بھی ھے اپنی ھے ادھاری تو نہیں ھے
یہ تُو جو محبت میں صلہ مانگ رھا ھے
اے شخص تو اندر سے بھکاری تو نہیں ھے
میں ذات نہیں بات کے نشّے میں ھوں پیارے
اس وقت مجھے تیری خماری تو نہیں ھے
تنہا ھی سہی لڑ تو رھی ھے وہ اکیلی
بس تھک کے گری ھے ابھی ھاری تو نہیں ھے
مجمع سے اُسے یوں بھی بہت چڑ ھے کہ
عاشق ھے مری جان مداری تو نہیں ھے
YaadaiN...
یادیں...
بھلا کیا پڑھ لیا ہے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں
کہ اس کی بخششوں کے اتنے چرچے ہیں فقیروں میں
کوئی سورج سے سیکھے، عدل کیا ہے، حق رسی کیا ہے
کہ یکساں دھوپ بٹتی ہے، صغیروں میں کبیروں میں
ابھی غیروں کے دُکھ پہ بھیگنا بُھولی نہیں آنکھیں
ابھی کچھ روشنی باقی ہے لوگوں گے ضمیروں میں
نہ وہ ہوتا، نہ میں اِک شخص کو دِل سے لگا رکھتا
میں دُشمن کو بھی گنتا ہوں محّبت کے سفیروں میں
سبیلیں جس نے اپنے خون کی ہر سو لگائی ہوں
میں صرف ایسے غنی کا نام لکھتا ہوں امیروں میں
بدن آزاد ہے، اندر میرے زنجیر بجتی ہے
کہ میں مختار ہو کر بھی گنا جاؤں اسیروں میں
ہر شے مسافر ہر چیز راہی
کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی
تو مرد میداں تو میر لشکر
نوری حضوری تیرے سپاہی
کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی
یہ بے سوادی یہ کم نگاہی
دنیائے دوں کی کب تک غلامی
یا راہبی کر یا پادشاہی
پیر حرم کو دیکھا ہے میں نے
کردار بے سوز گفتار واہی
اقبال
دن نکلے تو سوچ الگ ، شام ڈھلے وجدان الگ
امید الگ ، آس الگ ، سکون الگ ، طوفان الگ
تشبیہ دوں توکس سے،کہ تیرے حسن کا ہر رنگ
نیلا الگ ، زمرد الگ ، یاقوت الگ ، مرجان الگ
تیری الفت کے تقاضے بھی عجب انداز کے تھے
اقرار الگ ،تکرار الگ، تعظیم الگ ، فرمان الگ
گر ساتھ نہیں دے سکتےتو بانٹ دو یکجان لمحے
مسرور الگ، نڈھال الگ، پرکیف الگ ، پریشان الگ
وقت رخصت الوداع کا لفظ جب کہنے لگے
آنسو الگ،مسکان الگ، بیتابی الگ، ہیجان الگ
جب چھوڑ گیا ، تب دیکھا اپنی آنکھوں کا رنگ
حیران الگ ، پشیمان الگ ، سنسان الگ ، بیابان الگ
#Raaz_Ankhein
غزل
کچھ یادگارِ شہر ستمگر ہی لے چلیں
آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں
یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر
سر پر خیالِ یار کی چادر ہی لے چلیں
رنجِ سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو
تھوڑی سی خاکِ کوچۂ دلبر ہی چلیں
یہ کہہ کے چھیٹرتی ہے ہمیں دل گرفتگی
گھبرا گئے ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں
اس شہرِ بے چراغ میں جائے گی تو کہاں
آ اے شبِ فراق تجھے گھر ہی لے چلیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain