Damadam.pk
SILENT---EYES's posts | Damadam

SILENT---EYES's posts:

SILENT---EYES
 

کبھی یوں بھی آ میرے روبرو
تجھے پاس پا کے میـں رو پڑوں
مجھے منزل عشق پہ ہو یقیں
تجھے دھڑکنـوں میں سنا کروں
کبھی سجالوں تجھ کو آنکھوں میں
کبھی تسبیحوں پــہ پڑھا کروں
کبھی چوم لوں تیرے ہاتھوں کو
کبھی تیرے دل میــں بسا کروں
کبھی یوں بھی آ میرے روبرو
تجھے پاس پا کے میــں روپڑوں.☺☺

SILENT---EYES
 

❤اے عشق ! جنت نصیب نہ ھوگی تجھے❤
.
❤ بڑے مصوم لوگوں کو تونے برباد کیا ھے❤

SILENT---EYES
 

کبھی جو تھک جاؤ دنیا کی محفلوں سے
تم_____!!!
ہمیں آواز دے لینا.......اکیلے ہم بھی ہوتے
ہیں______!!😉😉
💔✌

SILENT---EYES
 

اب تو مجھکو میرے حال میں جینے دو🥀
اب تو میں نے تم پہ مرنا چھوڑ دیا✋

SILENT---EYES
 

لِکھ دیا جاتا ہے مُقدر میں
صاحب
عشق ____عادتاً نہیں ہوتا💯
🔥👌

Broken hearts
S  : Broken hearts - 
SILENT---EYES
 

YaadaiN...;)
یادیں...;)
بھلا کیا پڑھ لیا ہے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں
کہ اس کی بخششوں کے اتنے چرچے ہیں فقیروں میں
کوئی سورج سے سیکھے، عدل کیا ہے، حق رسی کیا ہے
کہ یکساں دھوپ بٹتی ہے، صغیروں میں کبیروں میں
ابھی غیروں کے دُکھ پہ بھیگنا بُھولی نہیں آنکھیں
ابھی کچھ روشنی باقی ہے لوگوں گے ضمیروں میں
نہ وہ ہوتا، نہ میں اِک شخص کو دِل سے لگا رکھتا
میں دُشمن کو بھی گنتا ہوں محّبت کے سفیروں میں
سبیلیں جس نے اپنے خون کی ہر سو لگائی ہوں
میں صرف ایسے غنی کا نام لکھتا ہوں امیروں میں
بدن آزاد ہے، اندر میرے زنجیر بجتی ہے
کہ میں مختار ہو کر بھی گنا جاؤں اسیروں میں

Oye Iam Sad
S  : Oye Iam Sad - 
Really truth
S  : Really truth - 
SILENT---EYES
 

My PoInT Is ( I FeEl LiKe ThErE's No PlAcE FoR Me)

😔😔😔😔 sorry
S  : 😔😔😔😔 sorry - 
SILENT---EYES
 

سوال:دنیا میں مرد سب سے زیادہ
معافی کس سے مانگتے ہیں.. ؟
جواب : جی فقیروں سے. ویسے جو آپ نے سوچا تھا وہ بھی ٹھیک ہے. 😂😂

SILENT---EYES
 

ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﮈﻭﺑﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ
ﮐﮧ ﻣﭽﮭﻠﯿﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﭘﻮﭼﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
ﻧﻮﺍﮞ ﺁﯾﺎ ﺍﮮ ﺳﻮﮨﻨﯿﺎ😅😄😃😂😂😂😂😂😂😂

SILENT---EYES
 

😂😁😀
بیوی : جیسی تم ڈرائیو کرتے ہو موت کا فرشتہ بھی ساتھ ساتھ سفر میں رہتا ہے...کہ آنے میں دیر نہ ہو جائے...
شوہر : اور شام کو جب تم کھانا پکا رہی ہوتی ہو تو شیطان میرے ترلے کر رہا ہوتا ہے....
تینوں خدا دا واسطہ اے بسم اللہ پڑھ لئیں نہیں تے مینوں کھانا پینا اے 👋👋👋👋👋😄😄

SILENT---EYES
 

ﻗﺼﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺣﺠﺎﺏ ﺳﮯ،،،، ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﻣﯿﮟ 'ﺁﭖ' ، ﻭﮦ 'ﺟﻨﺎﺏ' ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﻣﺪﺕ ﮨﻮﺋﯽ،،،،،، ﮐﺘﺎﺏ ﻣﺤﺒﺖ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺎﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﻟﻤﺒﯽ ﻣﺴﺎﻓﺘﯿﮟ ہیں ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺳﻮﺍﺭ ﮐﺎ
ﭘﺎﺅﮞ ﺍﺑﮭﯽ ﺭﻗﺎﺏ ﺳﮯ ﺍﮔﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻨﮓ ﻭ ﺧﺸﺖ ﮐﮯ ﻗﻠﻌﮯ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﮯ
ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺤﻞ ﺗﻮ،،، ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﻭﮦ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﻝ ﮈﮬﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎﮐﮩﮯ
ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺣﺘﺴﺎﺏ ﺳﮯ،،، ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﺭخساﺭ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ آنکھﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﻮﺏ ہیں
ﺩﯾﺪﺍﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﻧﻘﺎﺏ ﺳﮯ،،،، ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﻭﮦ ﻟﺬّﺕ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﮯ،،،،،،،،، ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﯽ ﺭﮨﺎ
ﺟﻮ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺛﻮﺍﺏ ﺳﮯ،،، ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ.
خاموش الفاظ

SILENT---EYES
 

حالت جو ھماری ھے تمھاری تو نہیں ھے
ایسا ھے تو پھر یہ کوئی یاری تو نہیں ھے
جتنی بھی بنا لی ھو کما لی ھو یہ دنیا
دنیا ھے تو پھر دوست تمھاری تو نہیں ھے
تحقیر نہ کر یہ مِری اُدھڑی ھُوئی گدڑی
جیسی بھی ھے اپنی ھے ادھاری تو نہیں ھے
یہ تُو جو محبت میں صلہ مانگ رھا ھے
اے شخص تو اندر سے بھکاری تو نہیں ھے
میں ذات نہیں بات کے نشّے میں ھوں پیارے
اس وقت مجھے تیری خماری تو نہیں ھے
تنہا ھی سہی لڑ تو رھی ھے وہ اکیلی
بس تھک کے گری ھے ابھی ھاری تو نہیں ھے
مجمع سے اُسے یوں بھی بہت چڑ ھے کہ
عاشق ھے مری جان مداری تو نہیں ھے

SILENT---EYES
 

YaadaiN...;)
یادیں...;)
بھلا کیا پڑھ لیا ہے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں
کہ اس کی بخششوں کے اتنے چرچے ہیں فقیروں میں
کوئی سورج سے سیکھے، عدل کیا ہے، حق رسی کیا ہے
کہ یکساں دھوپ بٹتی ہے، صغیروں میں کبیروں میں
ابھی غیروں کے دُکھ پہ بھیگنا بُھولی نہیں آنکھیں
ابھی کچھ روشنی باقی ہے لوگوں گے ضمیروں میں
نہ وہ ہوتا، نہ میں اِک شخص کو دِل سے لگا رکھتا
میں دُشمن کو بھی گنتا ہوں محّبت کے سفیروں میں
سبیلیں جس نے اپنے خون کی ہر سو لگائی ہوں
میں صرف ایسے غنی کا نام لکھتا ہوں امیروں میں
بدن آزاد ہے، اندر میرے زنجیر بجتی ہے
کہ میں مختار ہو کر بھی گنا جاؤں اسیروں میں

SILENT---EYES
 

ہر شے مسافر ہر چیز راہی
کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی
تو مرد میداں تو میر لشکر
نوری حضوری تیرے سپاہی
کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی
یہ بے سوادی یہ کم نگاہی
دنیائے دوں کی کب تک غلامی
یا راہبی کر یا پادشاہی
پیر حرم کو دیکھا ہے میں نے
کردار بے سوز گفتار واہی
اقبال

SILENT---EYES
 

دن نکلے تو سوچ الگ ، شام ڈھلے وجدان الگ
امید الگ ، آس الگ ، سکون الگ ، طوفان الگ
تشبیہ دوں توکس سے،کہ تیرے حسن کا ہر رنگ
نیلا الگ ، زمرد الگ ، یاقوت الگ ، مرجان الگ
تیری الفت کے تقاضے بھی عجب انداز کے تھے
اقرار الگ ،تکرار الگ، تعظیم الگ ، فرمان الگ
گر ساتھ نہیں دے سکتےتو بانٹ دو یکجان لمحے
مسرور الگ، نڈھال الگ، پرکیف الگ ، پریشان الگ
وقت رخصت الوداع کا لفظ جب کہنے لگے
آنسو الگ،مسکان الگ، بیتابی الگ، ہیجان الگ
جب چھوڑ گیا ، تب دیکھا اپنی آنکھوں کا رنگ
حیران الگ ، پشیمان الگ ، سنسان الگ ، بیابان الگ
#Raaz_Ankhein

SILENT---EYES
 

غزل
کچھ یادگارِ شہر ستمگر ہی لے چلیں
آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں
یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر
سر پر خیالِ یار کی چادر ہی لے چلیں
رنجِ سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو
تھوڑی سی خاکِ کوچۂ دلبر ہی چلیں
یہ کہہ کے چھیٹرتی ہے ہمیں دل گرفتگی
گھبرا گئے ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں
اس شہرِ بے چراغ میں جائے گی تو کہاں
آ اے شبِ فراق تجھے گھر ہی لے چلیں