بیوی: (شوہر سے) ”تم سوتے ہوئے مجھے گالیاں دے رہے تھے۔“
شوہر: ”تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔“🤣🤣🤣🤣
بیوی: ”کیا غلط فہمی ہوئی ہے؟“
شوہر : ”یہی کہ میں سو رہا تھا۔“🤣🤣🤣🤣
جہاں پہ ترکش لڑکیوں کی خوبصورتی
ختم ہوتی ہے
وہاں سے ہمارے پیارے پاکستانی لڑکیوں کے حسن کا
سکہ چلنا شروع ہوتا😂
کیسا لگا میرا مذاق 😎😂😂
اس نے کہا "جی لو گے میرے بغیر؟😒😏😬
میں نے مسکرا کر جواب دیا😊😉🙃
"تم کونسا میرا ٹچ موبائل ہو"😆🤣😂
#😜😜🙈🙈
😂😂😀😀😀😀
خواتین کا میک اپ ایک ہونہار طالب علم کے سالانہ پیپر کی طرح ہوتا ہے😜♥
3 گھنٹے بعد پوچھو تو ایک ہی جواب ملتا بس 5 منٹ اور دے دیں.😂😂♥♥
😂☺😂😂😂😂
شکر ہے ہمارا دور کبوتر والا نہیں ہے 😟🙄❤
ورنہ پیغام سعدیہ کو بھجتے ملنا شازیہ کو تھا 🤣😂🤣😘
آج کل کسی کے گھر میں چلے جاو
تو چائے اتنے چھوٹے کپ میں دیتے ہیں 😐😐😐😁
جیسے چائے نہیں پولیو کے قطرے پلا رہے ہوں😒😒😒
اوۓ سن👂👂
کیوٹ بول کے جا میرےکو🙈🙈🙈🙈
تین دن کے بخار کے بعد شکل جون ایلیا جیسی
اور
بال عابدہ پروین جیسے ہو جاتے ہیں😂😂😂
😊وہ پوچھنے لگے تسی کون لوگ ہو
😋میں نے بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کےکہہ دیا😍
😎ویلے لوگ کوئی تکلیف😎
دوستی کا چلن رہا ہی نہیں اب زمانے کی وہ ہوا ہی نہیں سچ تو یہ ہے صنم کدے والو دل خدا نے تمہیں دیا ہی نہیں پلٹ آنے سے ہو گیا ثابت نامہ بر تو وہاں گیا ہی نہیحال یہ ہے کہ ہم غریبوں کا حال تم نے کبھی سنا ہی نہیں کیا چلے زور دشت وحشت کا ہم نے دامن کبھی سیا ہی نہیں غیر بھی ایک دن مریں گے ضرور ان کے حصے میں کیا قضا ہی نہیں
اس کی صورت کو دیکھتا ہوں میں میری سیرت وہ دیکھتا ہی نہیں عشق میرا ہے شہر میں مشہور
اور تم نے ابھی سنا ہی نہیں
قصۂ قیس سن کے فرماا جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں واسطہ کس کا دیں حفیظؔ ان کو
ان بتوں کا کوئی خدا ہی نہیں
۔۔۔۔۔۔
کبھی یوں بھی آ میرے روبرو
تجھے پاس پا کے میـں رو پڑوں
مجھے منزل عشق پہ ہو یقیں
تجھے دھڑکنـوں میں سنا کروں
کبھی سجالوں تجھ کو آنکھوں میں
کبھی تسبیحوں پــہ پڑھا کروں
کبھی چوم لوں تیرے ہاتھوں کو
کبھی تیرے دل میــں بسا کروں
کبھی یوں بھی آ میرے روبرو
تجھے پاس پا کے میــں روپڑوں.☺☺
❤اے عشق ! جنت نصیب نہ ھوگی تجھے❤
.
❤ بڑے مصوم لوگوں کو تونے برباد کیا ھے❤
کبھی جو تھک جاؤ دنیا کی محفلوں سے
تم_____!!!
ہمیں آواز دے لینا.......اکیلے ہم بھی ہوتے
ہیں______!!😉😉
💔✌
اب تو مجھکو میرے حال میں جینے دو🥀
اب تو میں نے تم پہ مرنا چھوڑ دیا✋
لِکھ دیا جاتا ہے مُقدر میں
صاحب
عشق ____عادتاً نہیں ہوتا💯
🔥👌
YaadaiN...
یادیں...
بھلا کیا پڑھ لیا ہے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں
کہ اس کی بخششوں کے اتنے چرچے ہیں فقیروں میں
کوئی سورج سے سیکھے، عدل کیا ہے، حق رسی کیا ہے
کہ یکساں دھوپ بٹتی ہے، صغیروں میں کبیروں میں
ابھی غیروں کے دُکھ پہ بھیگنا بُھولی نہیں آنکھیں
ابھی کچھ روشنی باقی ہے لوگوں گے ضمیروں میں
نہ وہ ہوتا، نہ میں اِک شخص کو دِل سے لگا رکھتا
میں دُشمن کو بھی گنتا ہوں محّبت کے سفیروں میں
سبیلیں جس نے اپنے خون کی ہر سو لگائی ہوں
میں صرف ایسے غنی کا نام لکھتا ہوں امیروں میں
بدن آزاد ہے، اندر میرے زنجیر بجتی ہے
کہ میں مختار ہو کر بھی گنا جاؤں اسیروں میں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain