بکھری زلفیں ,خاموش ہونٹ سرخی میں لپٹے نین سنوارے گئے ہم,اب ہمیں سجنابھی کہاں پڑتاہے
صورت دیکھ میرے دل کے آئینے میں اپنی آئے گی نظر تجھے اک بےوفا کی صورت
اپنا لہجہ میری بات میں شامِل نہ کرو اپنی خوشیاں میری ذات میں شامِل نہ کرو میں جو تنہا ھوں تو تنہا ہی رہنے دو مُجھے اپنی جیت میری مات میں شامِل نہ کرو
ئی تو ایسا ہو شفق جو آنکھوں میں بہتے درد کو محسوس کرے کوئی تو ایسا ہو جو مسکراہٹ کے پیچھے چھپے درد کو محسوس کر سکے کوئی تو ایسا ہو شفق جو درد بھری داستان سنے اور بس سنتا ہی جاۓ کوئی تو ایسا ہمسفر ہو کوئی تو ہو
خدا کی اتنی بڑی کائنات میں نے بس ایک شخص کو مانگا مجھے وہی نہ ملا
جس رات چلے جاتے ہو تم چھوڑ کر مجھے وہ رات نہیں عذاب ہوتی ہے مجھ پر
کتنا عجیب مزاج ہے عاشقوں کا ایک تھک جائے تو دونوں ہار جاتے ہے 😥😥😥
حالات کے قدموں میں قلندر نہیں گرتا ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا