مجھے اس شخص سے اتنی چاہت ہے کہ جیسے سیپ کو بارش کی بوندوں سے کہ جیسے چاند کو سورج کی کرنوں سے کہ جیسے تتلیوں کو پھولوں کی رنگت لبھاتی ہے کہ جیسے جگنوٶں کو رات آنچل میں سجاتی ہے کہ جیسے موج ساحل کے لئے پل پل ترستی ہے کہ جیسے پھول کی خوشبو ہوا کے دل میں بستی ہے
تیری ابتدا کوئی اور تھا تیری انتہا کوئی اور تھا تیری بات ہم سے ہوئی توکیا تیرا آشنا کوئی اور تھا ہمیں شوق تھا بڑی دیر تک تیرے ساتھ شریک سفر رہیں تیرے ساتھ چل کے خبر ہوئی تیرا راستہ کوئی اور تھا