مرحلے شوق کے دشوار ہوا کرتے ہیں سائے بھی راہ کی دیوار ہوا کرتے ہیں وہ جو سچ بولتے رہنے کی قسم کھاتے ہیں وہ عدالت میں گنہگار ہوا کرتے ہیں وہ جو پتھر رستے میں پڑے رہتے ہیں ان کے سینے میں بھی شاہکار ہوا کرتے ہیں جن کی آنکھوں میں صدا پیار کی صحرا چمکیں در حقیقت وہی فنکار ہوا کرتے ہیں شرم آتی ہے دشمن کسے سمجھیں دشمنی کے بھی تو معیار ہوا کرتے ہیں