انہیں اپنے دل کی خبریں میرے دل سے مل رہی ہیں
میں جو ان سے روٹھ جاٶں تو پیام تک نہ پہنچے
میں نے بھی بدل دئیے اصول زندگی
اب جو یاد کرے گا وہی یاد رہے گا
انسان کے دل کی خیر زمین آسماں کی خیر
ہر روز گل کھلاتے ہیں انسان نئیں نئیں ۔
دنیا میں وہی شخص ہے تعظیم کے قابل
جس شخص نے حالات کا رخ موڑ دیا ہو
تیز دھوپ کی تپش ہم کو ستاۓ گی
پیاس کی شدت ہم کو آزماۓ گی
روزے دار تم ہر حال میں صبر رکھنا
یہ آزمائش ہمیں جنت میں لیکر جاۓ گی۔