جگہ کی قید نہیں تھی کوئی کہیں بھی بیٹھے
جہاں مقام ہمارا تھا ہم وہیں بیٹھے
پہچان ہوگئی کئیں لوگوں کی اس طرح
آئی ہے کام یوں بھی ضرورت کبھی کبھی
اچھی ہے دوستوں سےشکایت کبھی کبھی
بڑھتی ہے اس طرح بھی محبت کبھی کبھی
زندگی بھیک میں نہیں ملتی زندگی بڑھ کے چھینی جاتی ہے
اپنا حق سنگدل زمانے سےچھین پاٶ تو کوئی بات بنے۔
پوچھ کر اپنی آنکھوں سے مسکراٶ تو کوئی بات بنے
سر جھکانے سے کچھ نہیں ہوتا سر اٹھاٶ تو کوئی بات بنے۔