دکھ اور بےسکونی اس وقت تک باقی ریتے ہیں جب تک گناہ باقی رہے
گناہ چھوڑتے ہی دکھ دور ہوجاتے ہںں
کیونکہ دکھ کا سبب باقی نہیں رہتا
ہوا کے تیز جھونکے سے وہ ٹہنی ٹوٹ جاتی ہے
جسے اپنی بلندی پر ذرا بھی ناز ہوتا ہے
نہیں ہوتے مگر ہوتے ہیں
کچھ تعلق عجیب ہوتے ہیں
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
عجیب لطف کچھ آپس کی چھیڑ چھاڑ میں
کہاں ملاپ میں وہ بات جو بگاڑ میں ہے