ایک دن یہ مسئلہ آخر کو حل ہو جائے گا
کوئی آ کر آپ کا نعم البدل ہو جائے گا
اس سے یوں کہتا ہوں اک دن بھول جاؤں گا تمہیں
دوستوں سے جیسے کہنا "بھائی کل ہو جائے گا"
عبدالوہاب عبدلٓ
طلب بڑھی ہے تو پھر نرخ بھی بڑھے ہونگے
گلی حضور کی..... بازار ہوچکی ہوگی
کواڑ کُھلنے کی امید لے کے پلٹے تھے
نہیں خبر تھی کہ دیوار ہو چکی ہوگی
آزاد حسین آزاد
اتنے ظالم نہ بنو کچھ تو مروت سیکھو
تم پہ مرتے ہیں تو کیا مار ہی ڈالو گے ہمیں
✍️ : ادریس آزادؔ
دل کے تمام خانوں میں اب گھومتی پِھرو
بَس اُس طرف نہ جانا جو خانہ خراب ہے
فیصل محمود
بانو قدسیہ کہتی ہیں !!! .........
جب کوئی اچھا لگتا ہے .... تو اس کا برا بھی اچھا لگتا ہے، محبت اندھی نہیں ہوتی فراخ دل ہوتی ہے عیب دیکھتی ہے مگر نظر انداز کر دیتی ہے.

زحمتیں پھر سے ــــــ گوارہ کرتے ہیں
آؤ کہ پھر سے محبت دوبارہ کرتے ہیں
اس دل کا تیرے ــــــــــــ بغیر کیا کروں
کاٹ کے کچھ تمہارا کچھ ہمارا کرتے ہیں
میرا کام ہے ـــــــــــ انکی تصویر دیکھنا
اسی سے ـــــــــ اجکل ہم گزارہ کرتے ہیں
یہ روز روز کے ــــ طنز اچھے نہیں دوستا
تو اگر خوش نہیں ــــ تو آؤ کنارہ کرتے ہیں
اور کیا اس سے زیادہ کوئی نرمی برتوں
دل کے زخموں کو چھوا ہے ترے گالوں کی طرح
✍️ : جاں نثاراخترؔ
(یوم وفات 18 اگست 1976)
آئے کچھ ابر، کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
فیض احمد فیض
ذِکر جہلم کا ہے، بات ہے دِینے کی
چاند پُکھراج کا، رات پشمِینے کی
کیسے اوڑھے گی اُدھڑی ہوئی چاندنی
رات کوشش میں ہے چاند کو سینے کی
کوئی ایسا گِرا ہے نظر سے کہ بس
ہم نے صُورت نہ دیکھی پھر آئینے کی
درد میں جاوِدانی کا احساس تھا
ہم نے لاڈوں سے پالی خَلِش سِینے کی
موت آتی ہے ہر روز ہی رُوبرُو
زندگی نے قسم دی ہے کل جِینے کی
گُلزار
وہ ہمیں ضائع کر رہا ہے اس طرح جیسے،
ہم کوئی مال ہوں، اور مال بھی کوئی لوٹا ہوا
وہ بھی اک دور تھا میں کہکشاں میں رہتا تھا
اب تو تارہ ہوں فقط، تارہ بھی کوئی ٹوٹا ہوا
میری وٹس ایپ کی
chat
میں تمہارا نام بہت نیچے چلا گیا ہے
اب کی بورڈ بھی تمہارے نام کا پہلا حرف لکھنے پر پورا نام
suggest نہیں کرتا
فیسبک کی بھی
search list
میں تمہارا نام نیچے جاتا جاتا کہیں گم ہو گیا ہے
اب تمہاری
dp
پر سبز نشان دیکھ کر میری
neurons
میرے ہاتھوں کو پیغام نہیں دیتیں کہ میں تمہارے انبکس میں میسج کے انبار لگا دوں
تمہارا نام سن کر آنکھوں میں نمی ضرور آ جاتی ہے
تمہاری لاپرواہی،بےرخی اور بے قدری کی وجہ سے ہر چیز مایوسی سے نڈھال ہو کر اپنے معمول کی طرف پلٹ رہی ہے
تمہاری محبت نے مجھے تھکا دیا ہے اور تمہاری بےقدری نے مجھے بےحس بنا دیا ہے
کبھی تو چونک کے دیکھے کوئی ہماری طرف
کسی کی آنکھ میں ہم کو بھی انتظار دکھے
✍️ : گلزارؔ
(یوم پیدائش 18 اگست 1936)
اگر کوئی پوچھ لے تم سے
کہ؛ کیا کِیا تم نے آج ؟
تو کترانا مت!
یہ کہنے سے کہ؛
مشکل تھا ، پر سانس لی ،
اِس دِل کو۔۔۔۔
ایک اور جُھوٹی آس دی،
سب ٹھیک ہو گا کہ نِہیں؟ پتہ نہیں!
پر۔۔۔۔ میں نے کوشش بہت خاص کی۔
یُوں بھی آتی ہے کبھی دل کے دَھڑکنے کی صَدا
دیر کا بِچھڑا ہُوا دوست پُکارے جیسے _!
محسن بھوپالی
بظاھر تو بڑی رنگیں ھے
_آنکھ کی دُنیا
ویرانی اندر کی
ایک قلب جانے، ایک رب جانے
جاتے ہی لگ نہ جانا میاں ! خاک چھاننے
ایک آدھ روز دَشت کا رُجحان دیکھنا

اگر شطرنج میں
ایک مہرہ عورت کا ہوتا ،
تو یقیناً کھیل کے دوران
بادشاہ کو اُس سے عشق ہو جاتا !
اور پھر۔۔۔ شاہ کی مات
اور موت کا سبب۔۔۔ یہی عشق بنتا
جانتے ہیں۔۔؟
شطرنج میں بادشاہ کے ہوتے ہوئے
ملکہ کا مہرہ کیوں نہیں ہوتا؟
اس لیے کہ
عورت کھیلنے کے لیے تخلیق نہیں کی گئی۔

submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain