اے رنجِ آگہی ، کوئی چارہ تو ہوگا ناں چل، خوش نہ رہ سکیں گے ، گزارا تو ہوگا ناں یہ آرزو بھی وقت کے دھارے میں بہہ گئی اب ناں سہی ، کبھی وہ ہمارا تو ہوگا ناں جاتی ہے جو متاعِ دل و جاں تو کیا ملال یہ عشق کی دکاں ہے ، خسارہ تو ہوگا ناں ہر آن جسکا ذکر ہے، اس بےنیاز نے بُھولے سے میرا نام ، پکارا تو ہوگا ناں میں زادِ رہ کے طور پہ بس خواب لائی ہوں اے ہمسفر تجھے یہ گوارا تو ہوگا ناں کیا اجنبی بنیں گے اگر پھر کبھی ملے؟ کیا بات بھی نہ ہوگی ؟ اشارہ تو ہوگا ناں کرنا کرانا چھوڑ ، زبانی ہی ساتھ دے تنکے کا ہو اگرچہ ، سہارا تو ہوگا ناں
موسم تھا بے قرار تجھے سوچتے رہے کل رات بار بار تجھے سوچتے رہے مدت کے بعد پھر تری یادوں کے ساتھ ساتھ بارش ہوئی تو گھر کے دریچے سے لگ کے ہم چپ چاپ سوگوار تجھے سوچتے رہے آنگن میں بیٹھ کر تو کبھی رہگزار میں پیڑوں سے لگ کے اور کبھی دیوار و در کے ساتھ کر کر کے انتظار تجھے سوچتے رہے دل بھی جلا جلا سا تھا آنکھیں بجھی بجھی اس حال میں بھی ساجناں خواب و خیال پر جتنا تھا اختیار تجھے سوچتے رہے کل رات بار بار تجھے سوچتے رہے ۔۔۔! فرحت عباس شاہ