۔ کبھی کبھی میرا بھی جی چاہتا ہے کسی سرکش مرد کی طرح گھر کے ویران کونے یا چھت کی منڈیر پر چڑھ کر اپنے سارے غموں کو سگریٹ کے اک کش میں بھروں اور دھوئیں کے مرغولے بنا کر ہوا میں تحلیل کر دوں۔
دَفعتاً گال پہ اِک بُوند گِری، ٹُوٹ گئی کیسے خاموش چَھناکے سے ہنسی ٹُوٹ گئی کون سمجھاتا کہ یُوں وقت کہاں لوٹتا ہے سُوئیاں اِتنی گھمائِیں کہ گھڑی ٹُوٹ گئی گٹھڑیاں چِپکی ہیں ایسی کہ اُترتی ہی نہیں لاکھ کہتا ہوں کمر ٹُوٹ گئی! ٹُوٹ گئی قریہٴ جاں میں چلی تیز ہَوا، پَل بھر کو یاد کی شاخ ہِلی اور کَلی ٹُوٹ گئی کھینچ پڑتی ہے تو آ جاتا ہوں واپس لیکن کیا کروں گا! جو یہ زنجیر کبھی ٹُوٹ گئی جوڑ بیٹھا تھا مَیں اِک روز، کوئی آئینہ پھر مِرے ہاتھ کوئی شےبھی لگی،ٹُوٹ گئی بے خیالی میں اسے پھینک دیا تھا، شارِق اور وہ کانچ کی گُڑیا ہی تو تھی، ٹُوٹ گئی
سر سے لے کر پاؤں تک ساری کہانی یاد ہے آج بھی وہ شخص مجھ کو منہ زبانی یاد ہے بھول بیٹھا ہوں مَیں تیری میری ساری داستاں ہاں اگر کچھ یاد ہے تو رائیگانی یاد ہے
If there's another girl Choose her Cause Johnny Depp once said “If you loved two people at the same time, choose the second. Because if you really loved the first one, you wouldn't have fallen for the second.”
اگر مجھے تم سے آخری ملاقات کے چند پل میسر ہوں تو میں تمہارے پاؤں میں بیٹھ کر، تمہاری آنکھوں میں دیکھوں گا اور پوچھوں گا کہ "تمہیں مجھ سے محبت کیوں نا ہوئی"۔
خزاں ، خزاں ہی رہے گی ! بہار نا بنے گی ۔ مرے نصیب میں بس دکھ ہے شادمانی نہیں کوئی ہنسے تو چلو پھر بھی کوئی بات ہوئی ۔ ہم اپنے حال پہ ہنستے ہیں یہ رائیگانی نہیں؟