ہمیں بھی نیند آ جاےْ گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
ابھی کچھ بےکراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
وہ شخص دور سے دیکھا تو بہت دیدہ زیب تھا
دیکھا قریب سے تو سراسر فریب تھا
میری زندگی کا مقصد میرے دین کی
سرفرازی
میں اس لیے مجاہد میں اس لیے غازی
لوگ کیا خوب وفاؤں کا صلہ دیتے ہیں
ہر نئے موڑ پہ اک زخم نیا دیتے ہیں
غضب کیا جو تجھ پہ اعتماد کیا
تم نے ہمارے اعتماد کو برباد کیا