یہاں کا موسم انتہائی دلفریب ہے۔ ذرہ سے بادل بنے اورپل میں برس کے آسماں صاف ہو جاتا ہے البتہ سردیوں میں بارش کئی کئی روز تک جاری رہتی ہے۔[3] وادی سون کا علاقہ اپنی دلکش وادیوں۔ خوبصورت جهیلوں اور باغات اور خوشگوار موسم کی وجہ سے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ کر لے آتی ہے۔ اور ہر سال بے شمار سیاح وادی سون کا رخ کرتے ہیں۔ کھوڑہ #باؤلی قومی ورثہ (کنواں ) شیر شاہ سوری کھوڑا کو وادی سون کا دل کہا جاتاہے اور آبادی کے لحاظ سے بھی یہ وادی سون کا ایک بڑا گاؤں ہے.. کھوڑا گاؤں کے مغرب کی جانب شیر شاہ سوری کے دور کا کا یہ کنواں موجود ہے جو آج سے تقریباً پانچ سو سال قبل یہاں آج بھی موجود ھے۔
سیاحت کا مزہ دو بالا ہوتا ہے۔ سردیوں میں شدید سردی پڑتی ہے یہاں کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے ژالہ باری اور بارشیں ہونے سے سردی شدید تر ہو جاتی ہے۔ وادی سون میں سیر کے لیے انتہائی موزوں مہینے مارچ ،اپریل ،جولائی ،اگست اور ستمبر ہیں۔ وادی میں برسات کا موسم انتہائی پر لطف ہوتا ہے جب پہاڑوں سے بہتے نالوں کا شورایک خوبصورت سماں پیش کرتا ہے۔ پھولوں اور سبزے میں ایک تروتازگی آجاتی ہے اورگرمی کے موسم میں سرد ہوائیں جاڑے کا احساس دلاتی ہیں۔ برسات کا مزہ ایسی صورت میں اور بھی بڑھ جاتا ہے جب آپ کسی جھیل کے کنارے یا کسی پہاڑی پر ہوں وہاں سے وادی سون کے طول وعرض میں پھیلے ہرے بھرے کھیت جنت کا سماں پیش کرتے ہیں۔
کنارے نام کا ایک ہوٹل ہے جہاں ایک کنٹینر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دو کمرے بنائے گئے ہیں ۔ ایڈونچر کے شائقین ایک دن میں #کھڑومی_واٹر_فال کی سیر کر سکتے ہیں۔فطری حسن اور پرسکون جگہ دیکھنے کے شوقین حضرات کے لیے یہاں پر #نرسنگھ_پھوار اور #چشمہ_ڈیپ_شریف، #کنہٹی_باغ کے مقامات ہیں۔ گھر والوں کے ساتھ سیر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے کہ وہ جمعہ کی شام کو #کھبیکی_جھیل پر آ جائیں جہاں پر ٹی ڈی سی پی نے ایک اچھا ریزورٹ بنایا ہے۔ بہترین کھانے کے لیے نوشہرہ کا دیسی ڈیرہ ہوٹل جبکہ پیل چوک میں واقع ہوٹل الثرید بھی بہترین ہے۔ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے #تلاجہ_قلعہ، #اکراند_قلعہ، #امب_مندر اور #شیر_شاہ_سوری کی #چیک_پوسٹ اور دیگر مقامات ہیں۔ یہاں مارچ سے اکتوبر تک موسم انتہائی خوشگوار رہتا ہے اوریہی وۂ موسم ہے جب وادی سون میں سیر و سیاحت کا
• وادی سون کے مشہور گاؤں سوڈھی جے والی میں سرکاری #سوڈھی_ریسٹ_ہاؤس ہے جہاں مختلف خوش ذائقہ پھلوں کے درخت بھی ہیں اور قریب سے ایک چشمہ بھی گزر رہا ہے • #پھلواری_ریسٹ_ہاؤس بھی سرکاری ہے جو سکیسر پیک کے قریب ہے یہاں گھنے جنگل ہیں بکنگ کے لیے ڈپٹی کمشنر خوشاب سے اجازت لینا پڑتی ہے ۔ • کلیال گاؤں کے قریب ایک خانقاہ #حیات_المیر ہے جو کافی بلندی پر ہے لیکن وہاں تک گاڑیاں اور بائیک جا سکتی ہیں ۔ • ہر دو سودھی گاؤں سے #کوٹ_قلعہ اور وہاں سے آگے سترہ کے مقام پر کچھ چشمے اور ایک جھیل ہیں یہ رستہ جبی ڈھوکری سے گزر کر میانوالی خوشاب روڈ سے جا ملتا ہے وادی سون میں اب کافی رہائشی ہوٹل بن چکے ہیں سب سے بہتر ، معیاری اور مناسب قیمت والا مہریہ ہوٹل نوشہرہ ہے ۔ دوسرا ہوٹل اس کے قریب مدینہ ہوٹلہے ۔ جبکہ #کھبیکی_جھیل مین روڈ پر جھیل کنارے نام کا ہ
دلکش جگہ ہے • #قلعہ_کوٹ ہردوسودھی نزد کٹھوائی کے قریب ہے یہاں تک گاڑی پر جا سکتے ہیں پرانے قلعے کے آثار ہیں • #تلاجہ۔ یہ بھی ایک قدیم قلعہ ہے جہاں خوب صورت پتھروں سے بنائے گئے تقریباً250 مکانات موجود ہیں ۔ جانے کا رستہ تھوڑا مشکل ہے ۔ کھوڑہ گاؤں سے ڈھوک کسیری کے پاس سے گزرتے ہوئے پیدل جائیں تو دو گھنٹے میں قلعہ تک پہنچ سکتے ہیں ۔ خوشاب سے آئیں تو پہاڑی کے درمیان بابا کچھی والا فقیر کا بورڈ لگا ہوا ہے وہاں سے سات کلو میٹر دور دربار ہے یہاں گاڑی کھڑی کرکے بھی قلعہ تک جا سکتے ہیں • #اکراندا_قلعہ ۔ کھبیکی کے شمال میں بھی ایک بڑے قلعے کے آثار ہیں • کھبیکی سے ہی شمال کی طرف چشمے ہیں جن کا پانی نیلے رنگ کا ہے دو سے تین گھنٹے کی واک ہے ۔
جس کا رستہ تھوڑا مشکل ہے لیکن یہاں پانی بہت وافر مقدار میں موجود ہے ۔ تھوڑی سی ٹریکنگ کر کے یہاں پہنچ سکتے ہیں اور پورا ایک دن یہاں کوکنگ و نہانے میں گزارا جا سکتا ہے • #نرسنگ_پھوار چانبل کے نزدیک ہے یہاں بھی پانی کے چشمے ہیں ۔ بیس سے تیس منٹ کی پیدل واک ہے ۔ یہاں بوڑھ اور کئی دوسرے گھنے درخت ہیں وسیع و عریض گراسی لان ہیں ۔ سکھوں کے تعمیرکردہ #دو_اشنان_گھاٹ ہیں ۔ ایک #گردوارہ بھی ہے ۔ • #کھڑومی_واٹر_فال ۔ یہاں کا پانی نیچے کی طرف جاتا ہوا چار الگ الگ خوب صورت #آبشاریں بناتا ہے ۔ رستہ تھوڑا مشکل ہے ایک گھنٹے کی ٹریکنگ ہے ۔ لیکن بہترین جگہ ہے • #امب_شریف_ٹیمپل۔ یہاں جانے کا رستہ کافی خراب ہے فوروہیل جیپ جا سکتی ہے یا اوچھالی سے پیدل دو گھنٹے کا رستہ ہے جو چشمے کے ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔
#کھبیکی_جھیل ۔ #دلکش_بورڈ ، برڈز ویوپوائنٹ۔ کشتیاں ہیں ۔ ٹی ڈی سی پی کا ریسٹورنٹ پلس ہوٹل ہے 3۔ #اوچھالی_جھیل ۔ بہت ہی وسیع و عریض رقبے پر پھیلی ہوئی ہے ۔ یہاں بھی کشتیاں موجود ہیں 4۔ #مائی_والی_ڈھیری ۔ گول چوٹی والی پہاڑی جو وادی سون کے بیشتر حصوں سے دکھائی دیتی ہے یہاں سے وادی سون کی دونوں جھیلیں ، نمل جھیل اور شمالی طرف پوٹھوہار کا کچھ حصہ دیکھا جا سکتا ہے • تھوڑی بہت چلنے کی مشقت کر لی جائے تو کفری کے نزدیک چشمہ #ڈیپ_شریف دس منٹ کی پیدل واک پر ہے اس کے قریب سے گزرتے ہوئے مزید آگے چشمہ #جھال_مجھالی ہے ۔ اس سے بھی مزید آگے #وادی_گوسر ہے جہاں ہموار میدان ہیں جو نہایت سرسبزو شاداب ہیں ۔ یہیں جنوبی پہاڑی سے وادی سون کی تیسری بڑی #جاہلر_جھیل کا نظارا کیا جا سکتا ہے • سوڈھی جے والی چانبل روڈ پر #خانقاہ_حضرت_سلطان_مہدی کے قریب چشمہ ہے کا رس
رسائی بہت آسان ہے پبلک ٹرانسپورٹ لاہور یا راولپنڈی دونوں جگہ سے تین گھنٹے میں وادی سون کے مرکزی شہرنوشہرہ پہنچا دیتی ہے ۔ ذاتی ٹرانسپورٹ ہو تو لاہور سے آتے ہوئے موٹروے للہ انٹر چینج سے اتر کر 30 کلو میٹرجنوب کی طرف سفر کرکےکٹھہ گاوں سے دائیں طرف کٹھہ کے پہاڑعبورکرکے 16کلو میٹر آگے پیل چوک ہے۔ پنڈی اسلام آباد سے آنے والے سیاح کلرکہار انٹر چینج سے اتر کر جنوب کی سمت 35 کلومیٹر سفر کے بعد پیل چوک پہنچ سکتے ہیں۔جہاں سے بالکل سیدھی جانے والی سڑک صرف 8 کلو میٹر دور جابہ گاؤں پہنچا دیتی ہے جابہ گاوں سے جانب مشرق مڑ جائیں ۔ وادی سون شروع ہو چکی ہے۔ ۔ #کنہٹی گارڈن ، جہاں کئی #چشمے اور #آبشاریں ہیں۔گھنے درخت اور ویو پوائنٹ ہیں ۔ دن کا بیشتر حصہ وہاں سیروسیاحت اور کوکنگ کرتے ہوئے گزارا جا سکتا ہے ۔ کیمپنگ کی اجازت بھیہے۔ ڈ
#وادی_سون_سکیسر پاکستان کی قدیم اور خوبصورت وادی ہے جو قدرتی مناظر کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہے۔ نوشہرہ اس وادی کا صدر مقام ہے اور ضلع خوشاب کی ذیلی تحصیل ہے۔ #سکیسر پہاڑ کی چوٹی پر واقع ایک صحت افزاء مقام کا نام ہے۔ یہ ایک وسیع پہاڑی سلسلے کا عنوان ہے جس میں کئی وادیاں اور چھوٹے بڑے گاؤں ہیں۔ اس علاقے کو "#وادی_سون_سکیسر'" کہا جاتا ہے۔ عظیم مسلمان فاتح #ظہیرالدین_بابر کا پوٹھوہار کے علاقے سے گزر ہوا تھا۔ راستے میں ایک وادی تھی جس کے حسن نے بادشاہ سلامت کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اپنے لشکر کے ساتھ وہاں پڑڈالا۔ قدرتی حسن تو اس وادی کا تھا ہی بابر نے بھی اس وادی کے حسن میں اضافہ کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔ باغات اگانے کا حکم جاری کیا اور اس وادی کے بارے میں تاریخی کلمات ادا کیے۔ جو اس علاقے کے لوگوں کے لیے آج بھی باعث فخر ہیں وادی سون ت