ہے سنانا انہیں بیکار کسی اور کا دکھ
جن کو ہوتا ہی نہیں یار کسی اور کا دکھ
کوئی دکھ ہے تو مرے دل کے حوالے کر دو
اس نے برتا ہے بہت بار کسی اور کا دکھ
تاکہ مجھ کو نہ مرے دکھ کی صدائیں آئیں
اب میں سنتا ہوں لگاتار کسی اور کا دکھ
اسیرِ حیات کے بے حد شکریہ کے ساتھ
💖
ایک دن میں اچانک غائب ہو جاؤں گا_!
کسی کو کچھ خبر تک نہیں ہو گی__!
میری ٹائم لائن پہ ہفتوں مہینوں اور پھر سالوں تک
سٹیٹسoff شو ہوگا__
تب اور کچھ مت کرنا بس میرے حق میں دعا کرنا
.....
.........
............
!!جزاک اللہ خیرا کثیرا واحسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ
کر گئے اتنا تو احسان کرائے والے
رکھ گئے صحن میں گلدان کرائے والے
گھر سے مانوس نہ ہو پائے کہ بے دخل ہوئے
پھر اٹھا کر چلے سامان کرائے والے
غیر کے گھر کو بھی اپنا ہی سمجھ لیتے ہیں
کس قدر ہوتے ہیں نادان کرائے والے
اتنی عجلت میں نیا گھر وہ کہاں سے ڈھونڈیں
ہائے! پھرتے ہیں پریشان کرائے والے
جیسے ہی اذن ملا رختِ سفر باندھ لیا
ہر جگہ ہوتے ہیں مہمان کرائے والے
کل کا معلوم نہیں ہوتا کہاں جائیں گے
سو بناتے نہیں پہچان کرائے والے
کرب معلوم ہے مہوش تجھے سب ہجرت کا
کتنا کر آتے ہیں نقصان کرائے والے
مہوش ملک
بہ شرطِ زندگی ہم پر ستم کیے جائیں
ہم اس کے ماننے والے نہ کم کیے جائیں
جو اصل بات ہے وہ ہم سے پوچھ لیجئے گا
ہمارے بعد نہ قصے رقم کیے جائیں🍁
یہی ہے صورت ِ رد ِ بلا ہمارے پاس
کہ اس کے نام کا سینے پہ دم کیے جائیں✨
نہ جانے کون جگہ دفن ہو وہ تشنہ لبی
تمام راستے آنکھوں کو نم کیے جائیں🥀
ہمارے دھوکے میں ان پر نہ ظلم کیجئے گا
یہ پیڑ ہاتھ نہیں جو قلم کیے جائیں
نظر اٹھا کے اسے دیکھنا نہیں تابش
سو طے کیا ہے کہ گردن کو خم کیے جائیں🖤
اَن پَڑھ بھی پُکار اٹھے گا مَکتوب ھے سَچا...!!!
میں ایسی محبت سے تمہیں تحریر کروں گا...!!!!
❤️
*ہم نے مالی کی مشقت کا بھرم رکھنا تھا*🌹
*سو جہاں کوئی نہ مہکا وہاں ہم مہکے* ❤🩹🥰
SRRDIIIIII
🌍دائم آباد رہے گی دنیا
💝💦💝
ہم نہ ہونگے کوئی ہم سا ہوگا
🗻🏖🌋🏟🌄
*🌹سـنـہــرے الــفــاظـ🌹*
*دَھڑکنیں احساسات سے چلتی ہیں احسانات سے نہیں چلتی اس لیےجس سے جب تک رِشتہ رکھیں احساس کا رکھیں نہ کہ احسانات کا*💞💞
*من میں آپ کی ہر بات یاد رہے گی*
*بستی چھوٹی ہے مگر آباد رہے گی*
❤
*چاہے ہم بھلا دیں زمانے کو اے دوست*
*مگر آپ کی یہ دوستی ہمیشہ یاد رہے گی*
❤Dedicated to my pashton Friend❤
دوستی میں گھل گیا مطلب پرستی کا زہر !
با وفا ساتھی گۓ بے لوث یارانے گیۓ !
تمہارا حوالہ
میرے لٸے ہمیشہ باعثِ فخر رہا ہے
تمہارا ساتھ
ہمیشہ باعثِ سکون رہا ہے❤
ہم ایک دوسرے سے باہم جڑے ہوئے ہیں میں زمین اور تم اس پر رکھا ہوا قدم کوئی 💞💞
❤️ 💥
چلو کہ ہم بھی زمانے کے ساتھ چلتے ہیں
نہیں بدلتا زمانہ تو ہم بدلتے ہیں
کسی کو قدر نہیں ہے ہمارے قدروں کی
چلو کہ آج یہ قدریں سبھی بدلتے ہیں
بُلا رہی ہیں ہمیں تلخیاں حقیقت کی
خیال و خواب کی دنیا سے اب نکلتے ہیں
بُجھی ہے آگ کبھی پیٹ کی اصولوں سے؟
یہ اُن سے پوچھیے جو گردشوں میں پلتے ہیں
اُنہیں نہ تولیے تہذیب کے ترازو میں
گھروں میں جن کے نہ چولہے، نہ دِیپ جلتے ہیں
ذرا سی آس بھی تعبیر کی نہیں جن کو
دلوں میں خواب وہ کیا سوچ کر مچلتے ہیں؟
ہمیں نہ راس زمانے کی محفلیں آئِیں
چلو کہ چھوڑ کے اب اِس جہاں کو چلتے ہیں
مزاج تیرے غموں کا سدا نرالا ہے
کبھی غزل تو کبھی گیت بن کے ڈھلتے ہیں
(صدا انبالوی)
اپنی تو محبت کی اِتنی سی کہانی ھے
ٹُوٹی ھُوئی کشتی ھے ، ٹھہرا ھُوا پانی ھے
اِک پھول کتابوں میں ، دَم توڑ گیا لیکن
کچھ یاد نہیں آتا ، یہ کس کی نشانی ھے
بکھرے ھُوئے پنوں سے ، یادیں سی جَھلکتی ھیں
کچھ تیری کہانی ھے ، کچھ میری کہانی ھے
ساون کی بہاروں میں نغمہ ھے نہ جُھولے ھیں
آکاش کی آنکھوں میں ، روتا ھُوا پانی ھے
چہروں کی کتابوں میں ، الفاظ نہیں ھوتے
ھر ایک شِکن خود میں، اک پُوری کہانی ھے
چہروں سے تو لگتا ھے ، سب بُھول کے بیٹھے ھیں
ھم صِرف مسافر ھیں ، اِک رات بِتانی ھے
مانا کہ اِنہیں ایک ھی ، جَھونکے نے گرایا ھے
ھر ٹُوٹتے پتے کی ، اپنی ھی کہانی ھے۔
کوئی فریاد تیرے دل میں دبی ہو جیسے
تو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے
جاگتے جاگتے اک عمر کٹی ہو جیسے
جان باقی ہے مگر سانس رکی ہو جیسے
ہر ملاقات پہ محسوس یہی ہوتا ہے
مجھ سے کچھ تیری نظر پوچھ رہی ہو جیسے
راہ چلتے ہوئے اکثر یہ گماں ہوتا ہے
وہ نظر چھپ کے مجھے دیکھ رہی ہو جیسے
ایک لمحے میں سمٹ آیا ہے صدیوں کا سفر
زندگی تیز بہت تیز چلی ہو جیسے
اس طرح پہروں تجھے سوچتا رہتا ہوں میں
میری ہر سانس تیرے نام لکھی ہو جیسے
شاعر: فیض انور
دل کے تمام خانوں میں اب گھومتی پھرو
❤🌹❤
بس اُس طرف نہ جانا ,جو خانہ خراب ہے !!💓
_*کچھ بھی خاص نہیں مجھ میں--!!*_
_*ہاں میں عام سےبھی عام ہوں --!!🔥*_
آئے تھے اُن کے ساتھ ، نظارے چلے گئے
وہ شب ، وہ چاندنی ، وہ ستارے چلے گئے
شاید تمہارے ساتھ بھی واپس نہ آ سکیں
وہ ولولے جو ساتھ تمہارے چلے گئے
کشتی تڑپ کے حلقہ طوفاں میں رہ گئی
دیکھو تو کتنی دُور کنارے چلے گئے
شامِ وصال خانۂ غربت سے روٹھ کر
تم کیا گئے ، نصیب ہمارے چلے گئے
دیکھاتوپھروہیں تھے، چلےتھےجہاں سےہم
کشتی کے ساتھ ساتھ کنارے چلے گئے
محفل میں کس کو تابِ حضورِ جمال تھی
آئے ، تری نگاہ کے مارے چلے گئے
جاتے ہجومِ حشر میں ہم عاصیانِ دہر
اے لطفِ یار تیرے سہارے چلے گئے
دشمن گئے تو کشمکشِ دوستی گئی
دشمن گئے کہ دوست ہمارے چلے گئے
جاتے ہی اُن کے سیف شبِ غم نے آ لیا
رخصت ہوا وہ چاند ، ستارے چلے گئے
چلو کہ ہم بھی زمانے کے ساتھ چلتے ہیں
نہیں بدلتا زمانہ تو ہم بدلتے ہیں
کسی کو قدر نہیں ہے ہمارے قدروں کی
چلو کہ آج یہ قدریں سبھی بدلتے ہیں
بُلا رہی ہیں ہمیں تلخیاں حقیقت کی
خیال و خواب کی دنیا سے اب نکلتے ہیں
بُجھی ہے آگ کبھی پیٹ کی اصولوں سے؟
یہ اُن سے پوچھیے جو گردشوں میں پلتے ہیں
اُنہیں نہ تولیے تہذیب کے ترازو میں
گھروں میں جن کے نہ چولہے، نہ دِیپ جلتے ہیں
ذرا سی آس بھی تعبیر کی نہیں جن کو
دلوں میں خواب وہ کیا سوچ کر مچلتے ہیں؟
ہمیں نہ راس زمانے کی محفلیں آئِیں
چلو کہ چھوڑ کے اب اِس جہاں کو چلتے ہیں
مزاج تیرے غموں کا سدا نرالا ہے
کبھی غزل تو کبھی گیت بن کے ڈھلتے ہیں
ہمارے دم سے ہے روشن دیار فکر و سخن
🌴💥🌴
ہمارے بعد یہ گلیاں دھواں دھواں ہوں گی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain