ایک دن ایک چرسی نے مجھ سے چرس کے لیے پیسے مانگے۔ میں نے کہا میں تجھے کھانا کھلاتا ہوں مگر چرس کے پیسے نہیں دوں گا۔اس نے کہا کھانا کھلانے والا کوئی اور ہے. تم بس چرس کے لیے کچھ دو۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اس کو چند روپے دے دیے۔ جب وہ چلا گیا تو میں اسے دیکھنے لگا کہ یہ کہا جاتا ہے اور کیا کرتا ہے۔ قریب میں کہیں شادی کا پروگرام تھا۔ لوگ کھانے کے برتن ادھر سے ادھر لے کے جارہے تھے۔ ایسے میں ایک آدمی کے ہاتھ سے ایک برتن چھوٹ کے گر گیا.اس نے اپنا برتن اٹھایا اور چل دیا۔ وہ چرسی اسی چاول کے سامنے بیٹھ گیا اور کھانے لگ گیا۔ جب اس کی نظر مجھ پہ پڑی تو اس نے ایک جملہ کہا جو آج بھی مجھے یاد ہے۔ اس نے کہا: "اس کے ساتھ تعلقات آج کل کچھ خراب ہیں ورنہ برتن میں ھی دیتا ھے💔 کریم اتنا ہے کہ ناراض بھی ھو تو بھوکا نہیں دیکھ سکتا۔" Úme®🥀