ان کو ہوتا ہے کسی اور سہارے کا یقین
لوگ یونہی تو نہیں ہاتھ چھڑاتے ہونگے
انسان مرتا مرجائے لیکن کبھی بھی ان سہاروں پر بھروسہ نہ کرے جو کئی بار اس کی بنیادوں کو ہلا چکے ہوں
مُجھے اَمی کا خُدا پَسند ہے۔ ابو کہتے تھے کہ خُدا مارتا ہے، جلاتا ہے اور دوزخ میں ڈالتا ہے۔ مگر اَمی کہتی تھیں کہ خدا مہربان ہے، بخشتا ہے اور بچاتا ہے...
~میکسم گورکی
"صحیح وقت پر غلط جگہ سے نکل جانا بھی ایک نعمت ہے۔"
سبھی نقـــوش غلط ، خال و خَد ، بَلا کے خراب
مجھے وہ ٹھیک ، نہیں کر سکا ، بنا کے خراب
مجھے پسنــــد ہے ہر شــے جو میرے جیسی ہو
سو اچھی چیز میں رکھ آتا ہوں، اٹھا کے خراب
"بس ایک نظر پیچھے ڈال کر دیکھو، تم سمجھ جاؤ گے کہ جسے تم کبھی خیر سمجھتے تھے، دراصل اس سے بچ جانا ہی تمہاری نجات تھی.
پھر ایک دن یہ غلط فہمی میری دور ہوئی
کہ جو بُرا ہے اُسی کو بُرا کہیں گے لوگ
کسی نے مجھ سے کہا تھا نکال دو دل سے
یہ چار لفظی اذیت کہ " کیا کہیں گے لوگ"
کومل جوئیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان کے علاوہ ہر چیز ویسی ہی ہے
جیسی وہ دکھائی دیتی ہے
جب آپ اسے شہ رگ میں محسوس نہیں کرتے تو تب وہ آپکو وہاں سے محسوس کرواتا ہے، جسے تم شہ رگ سمجھتے ہو۔
مسیح و خضر کی عمریں نثار ہوں اس پر
وہ ایک لمحہ جو یاروں کے درمیاں گزرے ۔۔۔!
عربی کہاوت ہے:
وہ معذرت جو دئیے گئے زخم یا دکھ کے مطابق نہیں،
وہ ایک اور زخم ہے۔
how bad story teller some people are... just imagine reading a whole paragraph and it doesn't make any sense.... still the writer is enthusiastic like he told us such a good thing... 😶
" اس نے کہا: مجھے وہ عورت پسند نہیں جو کتابیں پڑھتی ہے اور تعلیم یافتہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے..!
- میں نے کہا: کیوں؟
اس نے کہا: کیونکہ وہ ایک فلسفی ہے، بہت زیادہ جھگڑا، اور بہت کم اطاعت ہے..! اوسط تعلیم کے ساتھ ایک سادہ عورت کتنی خوبصورت ہے.
میں نے کہا: تم پڑھی لکھی عورت سے نہیں ڈرتے..!
تم اپنی کمی سے ڈرتے ہو، جسے کوئی پڑھی لکھی عورت ظاہر کرے گی۔ "
Happy birthday zala 🎊🎈🎂
Allah pak apki har jaiz khawahish pori kry or duniya or akhirat m apko apni rehmat ky saye m rakhy ameen
اور جاننے لگتے ہیں زندگی میں خوش قسمتی سے - یا الله سے ایسا رابطہ پیدا ہو جاتا ہے جیسا اس کا تھا تو پھر وہ کیفیت اور طرح کی ہوتی ہے - ۔۔۔ #زاویہ سے اقتباس
کہ اس نے سب کے اوپر سحر کر دیا تھا - پھر وہ ختم ہو گئی - ہم نے زبان سے شکریہ ادا نہیں کیا ، کیونکہ ہم سارے اتنے جذب ہوگئے تھے کہ بولا نہیں جا رہا تھا -
البتہ ہماری نگاہوں میں ، جھکے ہوئے سروں میں ، اور ہماری کیفیت سے یہ صاف واضح ہوتا تھا کہ یہ جو کیفیت تھی ، جو گزری تھی یہ کچھ اور ہے -
تو کوشش کر کے ہمت کر کے میں نے کہا ، راہی صاحب ہم آپ کے بہت شکر گزار ہیں - پہلے آپ نے سوره مزمل سنا کر پھر آپ نے اپنے دوست کو لا کر تعارف کروایا اور قرآن سنوایا -
یہ کیفیت ہمارے اوپر کبھی پہلے طاری نہیں ہوئی تھی -
تو سلطاں راہی نے کہا ، بھا جی ! بات یہ ہے کہ میں سوره مزمل کو جانتا ہوں ، اور بہت اچھی طرح جانتا ہوں - لیکن یہ شخص مزمل والے کو جانتا ہے تو اس لئے فرق پڑا-
تو جب آپ والی کو جانتے ہیں ، اور جاننے لگتے ہیں زندگی میں خوش قسمتی سے -
میں رکھ لیا - اس کے اوپر کہنیاں رکھ کر بیٹھ گئے ، اور سورہ مزمل سنانی شروع کی -
آپ نے بیشمار کیسٹ سنے ہونگے - بیشمار قاریوں کو سنا ہوگا - انھوں نے جو سنایا اس کا اپنا ایک انداز تھا -
جوں جوں وہ سناتے چلے جا رہے تھے ، ہم سارے آدمیوں نے جو بیٹھے تھے ، یہ محسوس کیا اس بیٹھک میں تاریخ کا کوئی اور وقت آ گیا ہے -
یہ وہ وقت نہیں ہے جس میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں ، اور ہم لوگوں کو ایسا لگا کہ ہم قرون اولیٰ کے مدینے شریف کی زندگی میں ہیں ، اور یہ وہی عہد ہے وہی زمانہ ہے -
اور ہم ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جو اس عہد کی آواز کو ویسے ہی کسی آدمی کے منہ سے سن رہے ہیں -
یہ سب کا تجربہ تھا - عجیب و غریب تجربہ تھا - ہم نے یوں محسوس کیا جیسے اس کمرے میں بیٹھک میں ، عجیب طرح کی روشنی تھی -
ہو سکتا ہے یہ ہمارا خیال ہو - لیکن اس کی کیفیت ایسی تھی
سلطاں راہی نے کہا ، آپ کو اپنی کچھ قرأت سنانا چاہتا ہوں - ہم نے کہا بسم الله - انھوں نے کہا میں سوره مزمل پڑھونگا -
تو سلطان راہی نے اپنے انداز میں اپنے لہجے میں ، اور اپنی آواز میں سورہ مزمل کی تلاوت شروع کی - بہت ہی اعلیٰ درجے کی لوگوں نے بہت پسند کیا -
وہ پڑھتے رہے ہم دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر سنتے رہے اور جب ختم ہو گئی تو سب کے دل میں آرزو تھی کہ کاش ایک مرتبہ پھر سے پڑھ سکے مگر انھوں نے بند کر دیا -
پھر انھوں نے بھا رفیق کی طرف دیکھا اور ان سے کہا جی آپ بھی فرمائیں - تو بھا رفیق نے کہا جی میری آرزو بھی سوره مزمل سنانے کی تھی لیکن چونکہ انھوں نے سنا دی -
ہم نے کہا نہیں نہیں آپ بھی ہم کو یہی سنائیں - ہم تو یہ آرزو کر رہے تھے کہ دوبارہ شروع ہوتی -
انھوں نے بیٹھ کر خواتین و حضرات اپنے اس انداز میں کھیس کندھے سے اتار کر گود
اشفاق احمد کی کچھ یادیں ۔۔
میرے ایک دوست تھے سلطان راہی ان کا نام تھا - آپ نے ان کی فلمیں دیکھی ہونگیں - ایک روز مجھے ان کا پیغام ملا کہ آپ آئیں ایک چھوٹی سی محفل ہے - اس میں آپ کی شمولیت ضروری ہے اور آپ اسے پسند کرین گے - میں نے کہا ، بسم الله -
سلطان راہی کو شاید آپ جانتے ہوں یا نہیں اسے قرأت کا بڑا شوق تھا ، اور اس کا اپنا ایک انداز تھا - اس کا اپنا ایک لہجہ تھا - تو اس کے ساتھ ایک اور آدمی بھی تھا گاؤں کا پینڈو آدمی - اس نے دھوتی باندھی ہوئی تھی ، کندھے کے اوپر اس کے کھیس تھا - سادہ سا آدمی کچھ اتنا زیادہ متاثر کن بھی نہیں تھا -
تو انھوں نے کہا ان سے ملیں یہ بھا رفیق ہے - ہم دس ، پندرہ لوگ دیوار کے ساتھ ڈھو لگا کر بیٹھ گئے -
`قُرْبُ الصَّالحينَ داعٍ للصَّلاح`
نیکوں کا ساتھ نیکی کی طرف راغب کرتا ھے۔
🤍💐
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain