شبِ برات کی فضیلت و اہمیت ماہِ شعبان کی پندرہویں شب ”شبِ برأت“ کہلاتی ہے، برات کے معنی ”رستگاری وچھٹکارا“ کے ہیں- احادیث شریفہ میں شبِ برات کی بہت زیادہ فضیلت اور اہمیت بیان کی گئی ہے، جن میں سے چار حدیثیں پیش کی جاتی ہیں: (۱) بے شمار لوگوں کی مغفرت: عَنْ عَائِشَةَ قالت فَقَدتُّ رسولَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لَیْلَةً فَخَرَجْتُ فَاِذَا ہُوَ بِالبَقِیْعِ فَقَالَ أَکُنْتِ تَخَافِیْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰہُ عَلَیْکِ؟ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ظَنَنْتُ اَنَّکَ اَتَیْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ فَقَالَ اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وتَعَالٰی یَنْزِلُ لَیْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ اِلٰی سَمَاءِ الدُّنْیَا فَیَغْفِرُ لِاَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ․ (ترمذی شریف ۱/۱۵۶، ابن ماجہ ،ص۹۹) ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے، فرماتی ہیں:
(۳) کن لوگوں کی مغفرت نہیں ہوتی: عَنْ اَبِیْ مُوسیٰ الاشْعَرِیِّ عَنْ رسولِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: اِنَّ اللّٰہَ لَیَطَّلِعُ فی لَیْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَیَغْفِرُ لِجَمِیْعِ خَلْقِہ اِلاَّ لِمُشْرِکٍ او مُشَاحِنٍ․ (سنن ابن ماجہ ص۹۹، شعب الایمان للبیہقی ۳/۳۸۲)ترجمہ: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ جھانکتے ہیں یعنی متوجہ ہوتے ہیں نصف شعبان کی رات میں، پس اپنی تمام مخلوق کی مغفرت فرمادیتے ہیں سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔ شبِ برات میں کیا کیا جائے؟ (۱) شب برات میں عبادت کریں اس سلسلے میں چند باتیں پیش نظر رہنی ضروری ہیں: (الف): نفلی عبادت تنہائی میں اور اپنے گھر میں ادا کرنا افضل ہے؛ لہٰذا شب برات کی عبادت بھی گھر میں کریں، مسجد میں ن
(۲) صبح تک اللہ تعالیٰ کی ندا: عَنْ عَلِیِّ بنِ اَبِیْ طالبٍ قال قال رسولُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اِذَا کانَتْ لَیْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُوْمُوا لَیْلَہَا وصُوْمُوْا نَہَارَہَا فَاِنَّ اللّٰہَ یَنْزِلُ فِیْہَا لِغُرُوْبِ الشَّمْسِ اِلٰی سَمَاءِ الدُّنْیَا فیَقُولُ اَلاَ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِیْ فَاَغْفِرَ لَہ اَلاَ مِنْ مُسْتَرْزِقٍ فَاَرْزُقَہ اَلاَ مُبْتَلاً فَاُعَافِیْہِ کَذَا اَلاَ کَذَا حتّٰی یَطْلُعَ الْفَجْرُ․ (ابن ماجہ ص۹۹، شعب الایمان ۳/۳۷۸، حدیث ۳۸۲۲) ترجمہ: حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جب نصف شعبان کی رات آجائے تو تم اس رات میں قیام کیا کرو اور اس کے دن (پندرہویں تاریخ) کا روزہ رکھا کرو؛ اس لیے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے سے طلوعِ فجر تک قریب کے آسمان پ
شبِ برات کی فضیلت و اہمیت ماہِ شعبان کی پندرہویں شب ”شبِ برأت“ کہلاتی ہے، برات کے معنی ”رستگاری وچھٹکارا“ کے ہیں- احادیث شریفہ میں شبِ برات کی بہت زیادہ فضیلت اور اہمیت بیان کی گئی ہے، جن میں سے چار حدیثیں پیش کی جاتی ہیں: (۱) بے شمار لوگوں کی مغفرت عَنْ عَائِشَةَ قالت فَقَدتُّ رسولَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لَیْلَةً فَخَرَجْتُ فَاِذَا ہُوَ بِالبَقِیْعِ فَقَالَ أَکُنْتِ تَخَافِیْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰہُ عَلَیْکِ؟ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ظَنَنْتُ اَنَّکَ اَتَیْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ فَقَالَ اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وتَعَالٰی یَنْزِلُ لَیْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ اِلٰی سَمَاءِ الدُّنْیَا فَیَغْفِرُ لِاَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ․ (ترمذی شریف ۱/۱۵۶، ابن ماجہ ،ص۹۹) ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے، فرماتی ہیں: می
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شعبان کا مہینہ رجب اور رمضان کے درمیان کا مہینہ ہے، لوگ اس کی فضیلت سے غافل ہیں؛ حالاں کہ اس مہینے میں بندوں کے اعمال پروردگارِ عالم کی جانب اٹھائے جاتے ہیں، لہٰذا میں اس بات کو پسند کرتاہوں کہ میرا عمل بارگاہِ الٰہی میں اس حال میں پیش ہو کہ میں روزہ دار ہوں۔ (شعب الایمان حدیث ۳۸۲۰، فتح الباری ۴/۲۵۳) مرنے والوں کی فہرست کا ملک الموت کے حوالے ہونا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! آپ ماہِ شعبان میں اس کثرت سے روزے کیوں رکھتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: اس مہینے میں ہر اس شخص کا نام ملک الموت کے حوالے کردیا جاتا ہے جن کی روحیں اس سال میں قبض کی جائیں گی؛ لہٰذا میں اس بات کو پسند ک
اور ہماری بے اعتدالیاں ماہِ شعبان ایک بابرکت مہینہ ہے، ”شعبان“ عربی زبان کے لفظ ”شَعّْبْ“ سے بنا ہے، جس کے معنی پھیلنے کے آتے ہیں اور چوں کہ اس مہینے میں رمضان المبارک کے لیے خوب بھلائی پھیلتی ہے اسی وجہ سے اس مہینے کا نام ”شعبان“ رکھا گیا۔ (عمدة القاری، باب صوم شعبان۱۱/۱۱۶، فیض القدیر۲/۳) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے کے اکثر حصے میں روزے رکھتے تھے؛ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مَا رَأَیْتُ رسولَ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اِسْتَکْمَلَ صِیَامَ شَہْرٍ قَطُّ الَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَیْتُہ فِيْ شَہْرٍ اَکْثَرَ مِنْہُ صِیَامًا فِيْ شَعْبَانَ (صحیح بخاری ۱/۲۶۴، صحیح مسلم ۱/۳۶۵) یعنی میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پورے اہتمام کے ساتھ) رمضان المبارک کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے ر
aki rat ki dua abhi maghrib ki taim teesra klma 41 bar nimaz maghrib ki bad do nfal niyat si prhna umar ki nyat si do nfal jub prhlo uski bad teen bar drod parhna phir ek yaseen ahrif phir asa krna aor do nfal prhna niyat krna musibat mushklato ki niyat si prhna phir darood pak teen bar phir yaseen ek bar phir do nfaal prhna barqat ki niyat si bad mi teen bar drood shrif prhna phir teen bar yaseen parhna phir parhan YA hayo YA Qyumoh birahmtek astaghisoo ek tasbi phir parhna ek tasbi darood pak ki koi b ho drood ok miry lyi b dua krna bhaiyo bhino
Qismat Badal Jayegi Zara Dil Se Dua Karo, Dunya Bhi Hil Jayegi Agar Dil Se Dua Karo, Din Raat Main Ik Lamha Qabuliyat Ki Ghari Hai, Manzil Bhi Mil Jayegi Agar Dil Se Dua Karo. Shab-e-Barat Mubarak
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain