اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو تیسری کا خواہشمند ہوگا، اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی، اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو (دل سے) سچی توبہ کرتا ہے۔ صحیح بخاری،۶۴۳۶
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن ( کا حاکم بنا کر ) بھیجا تو فرمایا کہ تم انہیں اس کلمہ کی گواہی کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں ۔ اگر وہ لوگ یہ بات بھی مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر کچھ صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لے کر انہیں کے محتاجوں میں لوٹا دیا جائے گا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر : 1395
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کہا میں ﷲ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہوں اس کے لیے جنت واجب ہوگئی (ابوداؤد ، 1353/1)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے۔ وہ زمانہ کو گالی دیتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ میں رات اور دن کو ادلتا بدلتا رہتا ہوں۔ صحیح بخاری : 4826
ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ صحیح بخاری،حدیث2442
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علامات قیامت میں سے یہ ہے کہ ( دینی ) علم اٹھ جائے گا اور جہل ہی جہل ظاہر ہو جائے گا ۔ اور ( علانیہ ) شراب پی جائے گی اور زنا پھیل جائے گا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر : 80 بیشک ایسا وقت چل رہا ہی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو ایک دعا حاصل ہوتی ہے (جو قبول کی جاتی ہے) اور میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو آخرت میں اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں۔ (صحیح بخاری، ۶۳۰۴)
Captan-Sheroz-Khan is boys ne Gandi galiya de girls ko phsata he apni apko Hiro foji samjh kr iski I'd band karwai bhter Hoga Meni isko block krdiya aor b girls ki post p jaki dikhlo Captan-Sheroz-Khan ko
اگر تمہارا نماز کو دل نہیں کرتا ! مگر پھر بھی تم نماز ادا کرتے ہو ! تو فخر کرو خود پر ! کہ تم نماز اپنے دل کہ لئے نہیں ! بلکہ اللہ تعالیٰ کہ لئے ادا کرتے ہو ! سو تم نماز قائم کرو ! یہی نماز تمیں سکون دے گی ! آنکھوں کو چین دے گی ! چہرے کو نور دے گی ! اور دل کو راحت دے گی ! اور ہو سکتا ہے ! تم اللہ تعالیٰ کو پسند آ جاؤ ! اور اس کہ فضل سے ! جنت الفردوس میں اعلی مقام پاؤ ! سو تم نماز قائم کرو !