زہر کی بوتل، نیند کی گولی، پنکھا رسی سب کچھ ہے....! موت کا جذبہ، زیست سے نفرت اور اداسی سب کچھ ہے... اک تیرے دیدار کی خاطر، باقی ہے جان آنکھوں میں... ورنہ دل رکنا، دم گھٹنا، موت کی ہچکی سب کچھ ہے.. میرے بعد زمیں والوں سے میرا خالق نپٹے گا... جس کے پاس، عقیم، جہنم، آگ اور مٹی سب کچھ ہے... تیرے جانے سے جانانہ، کچھ بھی نہیں تبدیل ہوا... بکھری زلفیں، سوجھی آنکھیں، بے ترتیبی سب کچھ ہے....
جتنے اپنے تھے سب پراٸے تھے ہم ہوا کو گلے لگاۓ تھے جتنی قسمیں تھیں سب تھیں شرمندہ جتنے وعدے تھے سب سر جھکاۓ تھے جتنے آنسوں تھے سب تھے بیگانے جتنے مہمان تھے بن بلاۓ تھے سب کتابیں پڑھی پڑھاٸ تھی سارے قصے سنے سناۓ تھے حاشیے پہ کھڑے ہوۓ ہیں ہم ہم نے خود حاشیے بناۓ تھے