ہمیں تو سارے ہی فرشتے ملے ہیں
کوٸ غلطی کرتا ہی نہی ہے
ہمیشہ ہم ہی غلط ہوتے ہیں
یہ شکایت نہی تجربہ ہے
قدر والوں کی کوٸ قدر نہی کرتا
تیرے دیدار کی حسرت ہے وگرنہ یارب
کون چھوڑی ہوٸ جنت میں دوبارہ جاۓ
دو قبیلوں میں چھڑے جنگ مجھے پانے کو
اور اس میں کوٸ سردار بھی مارا جاۓ
دکھوں سے بھرپور کیسی تو نے غزل تراشی
سطوروں پہ خود نثار دکھ ہیں،ہزار دکھ ہیں
یہ کوٸ قتل تھوڑی ہے کہ بات آٸ گٸی ہو
میں اور اپنا نظر انداز ہونا بھول جاوں؟؟؟
تو کیا یہ آخری خواہش ہے ؟؟ اچھا ؟؟ بھول جاؤں ؟؟
جہاں بھی ، جو بھی ہے تیرے علاوہ ، بھول جاؤں ؟؟
تو کیا یہ دوسرا ہی عشق اصلی عشق سمجھوں ؟؟
تو پہلا تجربے کی ذیل میں تھا ؟؟ بھول جاؤں ؟؟
تو کیا اتنا ہی آساں ہے کسی کو بھول جانا ؟؟
کہ بس باتوں ہی باتوں میں بھُلاتا بھول جاؤں
کبھی کہتا ہوں اُس کو یاد رکھنا ٹھیک ہو گا
مگر پھر سوچتا ہوں فائدہ کیا ، بھول جاؤں !!
یہ کوئی قتل تھوڑی ہے کہ بات آئی گئی ہو
میں اور اپنا نظر انداز ہونا بھول جاؤں ؟؟
ہیں اتنی جزئیات اس سانحے کی ، پوچھیے مت !!
میں کیا کیا یاد رکھوں اور کیا کیا بھول جاؤں
کوئی کب تک کسی کی بے وفائی یاد رکھے ؟؟
بہت ممکن ہے میں بھی رفتہ رفتہ بھول جاؤں !!
تو کیا یہ کہہ کے خود کو مطمئن کر لو گے جواد ؟؟
کہ وہ ہے بھی اِسی لائق ، لہذا بھول جاؤں
اک یہ دن ہے جب اپنوں نے بھی ہم سے ناطہ توڑ لیا
اک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں
مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں
جب میرے بچپن کے دن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں
ایک یہ دن جب اپنوں نے بھی ہم سے ناطہ توڑ لیا
ایک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں
ایک یہ دن جب ساری سڑکیں روٹھی روٹھی لگتی ہیں
ایک وہ دن جب آؤ کھیلیں ساری گلیاں کہتی تھیں
ایک یہ دن جب جاگی راتیں دیواروں کو تکتی ہیں
ایک وہ دن جب شاموں کی بھی پلکیں بوجھل رہتی تھیں
ایک یہ دن جب ذہن میں ساری عیاری کی باتیں ہیں
ایک وہ دن جب دل میں بھولی بھالی باتیں رہتی تھیں
ایک یہ دن جب لاکھوں غم اور کال پڑا ہے آنسو کا
ایک وہ دن جب ایک ذرا سی بات پہ ندیاں بہتی تھیں
ایک یہ گھر جس گھر میں میرا ساز و ساماں رہتا ہے
ایک وہ گھر جس گھر میں میری بوڑھی نانی رہتی تھیں
مطلب کے بغیر رابطے میں رہنا
ہر کسی کے بس کی بات نہی ہوتی
ﭘﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﭼﺎہتی ﮨﻮﮞ ...
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﺹ ﺭﮨﻮﮞ
ﺟﺲ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﺗﮏ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﮨﻮ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍکیلی ﮨﻮﮞ
ﺟﺲ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﻣﺠﮫ ﺗﮏ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮑﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﺧﺮﯼ ﮨﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﻞ ﺍﺛﺎﺛﮧ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﮐّﻞ ﺟﮩﺎﮞ ...
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻦ ﭘﺴﻨﺪ ﭼﯿﺰ ﺍﻭﺭ ﻣﻦ ﭘﺴﻨﺪ ﻟﻮﮒ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﺟﺬﺑﮧ ﻣﺨﻠﺺ ﺭکھتی ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺗﻌﻠﻖ ﻣﺨﻠﺺ ﮨﯽ ﭼﺎﮨہتی ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺍکیلی ﮨﻮ ﺟﺎتی ﮨﻮﮞ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺟﺲ ﮐﮧ ﻟﯿﮯ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ 💔
ﺟﻮ ﮔِﻠﮧ ﮐِﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ، ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ
ﻣﺠﮭﮯ ﻏﯿﺮ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﯽ
ﺗِﺮﺍ ﺣُﺴﻦ ﮨﮯ ﯾﮕﺎﻧﮧ ، ﺗِﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﮯ ﺯﻣﺎﻧﮧ
ﻣِﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﺴﻤﺖ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﯽ
ﯾﮧ ﮐﺮﻡ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﺎ ، ﻭﮦ ﺟﻮ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ
ﮐﮧ ﮨﻢ ﭘﺮ ﻋﻨﺎﯾﺖ ، ﮐﺒﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﯽ
ستارے بن کے چمکیں گے دل برباد کے ذرے
یہ دل برباد ہو کر بھی دلیل کارواں ہوگا
ہم چھین لیں گے تم سے یہ شانِ بے نیازی
تم مانگتے پھرو گے اپنا غرور ہم سے
جن فالورز کو میری پوٸٹری یا پوسٹس سے کوٸ پروبلم ہے مجھے unfollow کر دیں
میرا اور اسکا مزاج
ھاۓ جیسے الفاظ متضاد
پریشان ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جاۓ
اِس ہِجر نے ہم سے، مت پُوچھو کیا کیا تاوان لیا جاناں
وہ رُوپ گنوایا موتی سا، جس رُوپ کے تُم شیدائی تھے…!
ایک مدت کی ریاضت سے کمائے ہوئے لوگ
کیسے بچھڑے ہیں مرے دل میں سمائے ہوئے لوگ
تلخ گوئی سے ہماری تُو پریشان نہ ہو
ہم ہیں دنیا کے مصائب کے ستائے ہوئے لوگ
اس زمانے میں مرے یار کہاں ملتے ہیں
اپنے دامن میں محبت کو بسائے ہوئے لوگ
تجھ کو اے شخص کبھی زیست کی تنہائی میں
یاد آئیں گے ہم عجلت میں گنوائے ہوئے لوگ
*ﺭﺍﺱ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺌﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ*
*ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻋﺮﺷﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺗﺎﺭﮮ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻧﺎ!!*
*ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ .... ﻣﺘﺎﻉِ ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﮞ..*
*ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺭﮮ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻧﺎ*
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain