آنکھ دیکھے گی تو اُس حسن سے ٹھنڈک لے گی
ہونٹ چومیں گے تو اُس آگ سے جل جائیں گے
جانتا ہوں تیرے معیار کو لیکن میرے دوست
ساتھ رکھے گا تو ہم خود ہی بدل جائیں گے
زندگی سے بہت بدظن ہیں
کاش! اک بار مر گئے ہوتے
آساں نہی ہے میری ازیت کے داو پیچ
مرتا ہوں اور جان سے جاتا نہی ہوں میں
تو کیا یہ دوسرا ہی عشق اصلی عشق سمجھوں ؟؟
تو پہلا تجربے کی ذیل میں تھا ؟؟ بھول جاؤں ؟؟
کوئی کب تک کسی کی بے وفائی یاد رکھے ؟؟
بہت ممکن ہے میں بھی رفتہ رفتہ بھول جاؤں !!
تمہیں یہ فخر تو حاصل ہے تمہیں چاہا گیا
ہمارے پاس یہ۔۔۔ احساس بھی ادھورا ہے
سَر اگر سَر ھے تو نیزوں سے شکایت کیسی..
دِل اگر دِل ھے تو دَریا سے بڑا ھونا ھے..
تم کو پتہ ہے تم سے بچھڑنے پہ کیا ہوا
ہم کو اکیلے چھوڑ کے ہمت چلی گئی
کل ہم تلاش میں تھے کوئی آئینہ ملے
اب آئینہ ملا ہے تو صورت چلی گئی
علاج ان کا میں جانتا ہوں اگر کرو تم
تمھارے آنے کی مار دکھ ہیں ہزار دکھ ہیں
دکھوں سے بھر پور کیسی تو نے غزل تراشی
سطوروں پر خود نثار دکھ ہیں ہزار دکھ ہیں
بڑے بڑے قہقہے یہ اسکے بتا رہے ہیں
کہ اسکے اپنے ہزار دکھ ہیں ہزار دکھ ہیں
جدا نہ ہونے کے ساتھ میرے کیے جو تم نے
وہ سارے قول و قرار دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں
تسلی ہنس کے جو دے رہا تھا پتہ چلا یہ
کہ اسکے بھی بےشمار دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں
یہ دیکھنے میں جو چار دکھ ہیں
ہزار دکھ ہیں
جو سر پہ میرے سوار دکھ ہیں
ہزار دکھ ہیں
نوچ ڈالوں گی اسے اب کے یہی سوچا ہے
گر میری آنکھ کوٸ خواب سجانا چاہے
کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں.....
تم کہہ دینا کوئی خاص نہیں.....
اک دوست ہے کچا پکا سا......
اک جھوٹ ہے آدھا سچا سا.....
اک خواب ادھورا پورا سا.....
اک پھول ہے روکھا سوکھا سا.....
اک اپنا ہے اندیشہ سا.....
اک رشتہ ہے انجانا سا.....
حقیقت میں افسانہ سا.....
کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں......
تم کہہ دینا کوئی خاص نہیں......
بات نہ کرنے سے تعلق نہی ٹوٹتا
تعلق تب ٹوٹتا ہے جب ایک دوسرے کے بغیر صبر آ جاۓ
خوفناک لمحے وہ ہوتے ہیں جب
ہر چیز میسر ہو سواۓ زہنی سکون کے
ﺯﻣﯿﻦ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﻇﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ۔۔۔۔۔۔ ﺯﻣﯿﻦ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﯽ ﻇﻠﻢ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻡ ﺍﻟﯿﻘﯿﻦ ﺍﺯ ﺳﻤﯿﺮﺍ ﺣﻤﯿﺪ
ﺩﺭﺩ ﮨﻠﮑﺎ ﮨﮯ ﺳﺎﻧﺲ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﮨﮯ
ﺟﺌﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﺳﻢ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ
ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﺮ ﮔﮭﮍﯼ ﮨﻢ ﻧﮯ
ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﮔﺰﺍﺭﯼ ﮨﮯ
ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﺗﻮ ﺍﻭﮌﮬﺎ ﺩﻭ
ﺩﻥ ﮐﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﮨﮯ
ﺷﺎﺥ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﺗﻮ ﮐﮭﻠﮯ
ﮐﯿﺴﯽ ﭼﭗ ﺳﯽ ﭼﻤﻦ ﭘﮧ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﮯ
ﮐﻞ ﮐﺎ ﮨﺮ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ
ﺁﺝ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﮞ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮨﮯ
ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﻟﮯ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻓﻮﻥ ﭘﺮ ﮐﺎﻝ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﮐﺎﻝ ﺍﭨﯿﻨﮉ ﮐﺮﮐﮯ ﻓﻮﻥ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺁﮔﮯ ﺳﮯ ﺑﺲ ﻭﮦ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮩﮯ ﮐﮧ ﺳﻨﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ .... ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮐﺎﻝ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﮨﯿﻠﻮ ﮐﮩﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻝ ﭘﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﺘﺎ ﮐﮧ ﮐﺎﻝ ﻣﻨﻘﻄﻊ ﮐﺮﺩﮮ ﮐﮧ :
" She is no more"
زندگی کیا ہے تمناوں کا کھارا پانی۔۔
ہر کوئی پی کے یہاں مانگے دوبارہ پانی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain