تو ہی نہیں تو کون کرے میری رہبری
کٹتی نہیں حیات کی منزل____ ترے بغیر
آج پھر خود سے ملنے کی تمنا جاگی
آج پھر اداسی کے سوا____ کچھ نہ ملا
بڑا مشکل ہوتا ہے کسی کو یوں بھلا دینا
جب وہ جذب ہو جائے رگوں میں خون کی مانند

جسے چھوڑے ہوئے مدت ہوئی شہرِ محبت میں
مجھے ہر موڑ پر وہ راستہ _________آواز دیتا ہے
مت نوچ میری آنکھوں سے وہ خواب تیرا
صحرائے دشت میں___ سبز پیڑ لگا رہنے دے
جانے کس------ قدر بچے گا وہ
اس سے جب ہم گھٹائے جائیں گے
ہم پرندے ہیں نہ مقتول ہوائیں پھر بھی
آکسی روز کسی دُکھ پہ____ اکھٹے روئیں
مُریدوں میں کر شمار ___ ہمیں
تیری عقیدت میں__ دِل ہارے ہیں
زیست آسـان هـــو بهی سکتی تهی , لیــکن هم نے
تیری چاهت کو , ___هر اِک بات سے بڑھ کر چاہا
دل کے ٹانکے اُدھڑ گئے شاید
آج روئے تو ___ سُرخ تھے آنسو
حوصلے گرے ہیں ٹوٹ کر
تیرا جانا _____قیامت کر گیا
یہ عمر بھر کی مسافت ہے،دل بڑا رکھنا
کہ لوگ ملتے بچھڑتے رہیں گے___،راستے میں
آج پھر چھین لیا تیری یاد نے ہوش و حواس
فنا ھو جائیں گے_____ اگر یہ ہی سلسلہ رہا تو
صحرا میں ڈھونڈتا ھوں سمندر کی ادائیں
مجھ کو میرے مزاج کی___ دنیا نہ مل سکی
راکھ سے آج بھی اٹھتا نظر آتا ہے دھواں
دل جلا تھا کبھی_____ الفاظ کے انگاروں پر
میرے قہقہے دیکھ کے ایک فقیر بولا
صدقہ دیا کر ______اپنی اداسی کا
شدید اتنا رہا تیرا انتظار مجھے
کہ وقت مِنّتیں کرتا رہا__ گزار مجھے
یــہ بھـــی مُمــــکن ہـے کــسی روز نــہ پہــچانوں اُسـے
وہ جـــو ہـــر بار نـــیا بھـــــیس_____ بــــدل لـــیتا ہـــــے
ہزاروں غم ہیں لیکن آنکھ سے ٹپکے نہیں آنسو
ہم اہل ظرف ہیں پیتے ہیں جھلکایا نہیں کرتے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain