کر رہی ہے در حقیقت کام ساقی کی نظر
میکدے میں گردشِ ساغر برائے نام ہے
کر رہی ہے در حقیقت کام ساقی کی نظر
میکدے میں گردشِ ساغر برائے نام ہے
یوں بزم زندگیِ میں اُجالا کرینگے ہم
بٹھا کہ تجھے سامنے پوجا کرینگے ہم
پوچھ کر میرا پتہ وقت رائیگاں نہ کرو
میں تو بنجارا ہوں کیا جانے کدھر جاؤنگا
ہر طرف دُھند ہے جُگنو ہے نہ چراغ کوئی
کون پہچانے گا بستی میں اگر جاؤنگا
جیسا چہرہ ویسی تھپڑ
میں ہر کسی کے ساتھ بُرا نہیں هوں
اچھوں کے ساتھ اچھا ہوں
ایک وقت تھا جب میں بہت بُرا تھا
اب کم بُرا ہوں