وہ بھی ملتا جو گلے سے تو خوشی عید کی تھی
کوئی رہ رہ کے نصیر آج بہت یاد آیا
نصیر الدین نصیر شاہ
اے خدا میں مایوس تو نہیں ہوں
لیکن بتا میرے دن کب بدلیں گے
اشکوں سے داغ دھونے کو دل کرتا ہے
نجانے کیوں آج رونے کو دل کرتا ہے
برسوں مانگا تھا دعاؤں میں جس کو
اس کی یاد بھلا نے کو دل کرتا ہے
دنیا میں سب سے زیادہ درد امید دیتی ہے
اور مجھے اب تمہارے لوٹ آنے کی امید ہے
عید تو لوٹ آئی ہے مگر
بچھڑے ہوئے لوگ کب لوٹیں گے
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
میں خاموش رہنا چاہتا ہوں اتنا خاموش کہ لوگ میری آواز سننے کو ترس جائیں
میں چاہتا ہوں کہ میں صدیوں تک خاموش رہوں
سنو
اک غزل بھیجو نہ
اپنی آواز میں
ہو جس میں ہجر کا درد
کچھ وصل کے خواب
کچھ ہلکی ہلکی سرگوشیاں
کچھ ٹوٹے پھوٹے خواب
کچھ قافیے ہوں نئے وعدوں کے
کچھ ردیف بے قرار ۔۔۔
سنو اک غزل بھیجو نا۔۔۔۔۔
___🌼🖤
نجانے کون سی بدعا تعاقب میں ہے
سکون شکل دکھتا ہے چلا جاتا ہے
یہ زخم تو بھر جائے گا کسی موسم میں شاید
پر عاصم اب میرے اندھے اعتبار کا کیا ہو گا
آج میں ایسے تنہائی محسوس کر رہا ہوں جیسے قبر میں پہلی رات ہو
یا اللہ اس رمضان کے صدقے تو میری پریشانیاں دور فرما ۔۔ آمین ثم آمین
جب ضرورت ہو تو تب لوگ میسر کیوں نہیں ہوتے ہیں
ہمارے حصے میں بخت ڈھلنے کے سب ستارے عروج پر ہیں
کوئی وظیفہ، کوئی بھی آیت، کوئی دلاسہ یا دم نہیں ہے.!؟
یہ عمر جیسے کہ ٹوٹے جوتے میں ریت پتھر سی چبھ رہی ہے،
کہ اور کتنا گھسیٹنا ہے؟ مزید پیروں میں دم نہیں ہے..!!
اب تو محسن کے تصور میں اتر رب جلیل
ایسی اداسی میں تو پتھر بھی خدا لگتا ہے
وقت بھی کتنے چہروں سے نقاب اتار دیتا ہے
میں اب بھی وہی پر ہوں
تم جہاں چھوڑ کر گئے تھے تنہا
بعض اوقات
کسی شخص کی محبت ہمارے دل کو تھکا دیتی ہے۔
جب دل مکمل تھک جائے، تو روح تھکنے لگتی ہے!
اور دل و روح مکمل تھک جائیں، تو جسم ٹوٹنے پھوٹنے لگتا ہے،
روح بھی بیمار ہو جاتی ہے۔
کوئی کہتا ہے
علاج کروا لو!
کوئی کہتا ہے دم کروا لو!
دعا کرا لو۔۔!
اور محبت میں تھکے ہوئے اس انسان کی بس اتنی سی تمنا ہوتی ہے
کہ کوئی اس کے مسیحا سے کہہ دے کہ اسکی فکر کر لے
بس۔۔۔۔۔
اور وہ اتنے میں ہی آرام پا کر مکمل صحتیاب ہو جائے۔
من پسند شخص کی محبت کی کمی، پوری دنیا کے لوگ مل کر بھی پوری نہیں کر سکتے🖤
تجربہ ایک ہی عبرت کے لئے کافی تھا
میں نے دیکھا ہی نہیں عشق دوبارہ کر کے.🖤🌸
اک شہرِ خواب ہم نے بسایا تھا اور پھر
اُس میں رہے نہ اُس کے مضافات میں رہے
اظہر نقوی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain