اُسے کہنا !
مکمل کچھ نہیں ہوتا
ملنا بھی نا مکمل ہے
جدائی بھی ادھوری ہے
یہاں اک موت پوری ہے
اُسے کہنا !
اُداسی جب رگوں میں
خون کی مانند اترتی ہے
بہت نقصان کرتی ہے !
اُسے کہنا !
بساطِ عشق میں جب مات ہوتی ہے !
دکھوں کے شہر میں جب رات ہوتی ہے
مکمل بس ...!
خُدا کی ذات ہوتی ہے!
تیرا فِراق ، دل کی تباہی ، رُتوں کا خوف
میرے لیے گذشتہ سال قیامت کا سال تھا
✍️...محسنؔ نقوی
اے دل مرے! اتنے حادثوں کے باوجود
کیا تم اب تک بحال ہو؟ کمال ہو !!
لوگ ملتے ہیں زمانے کا سکون پاتے ہیں …
تم میرا درد بڑھاتے ہو چلے جاتے ہو
مُجھ کو سمجھنے والا یہاں کوئی اَب نہیں
تُم میرے ہم مزاج تھے، تُم کیوں چلے گئے؟
زین شکیل
میں کس سے کہوں جا کر دل بہت اداس ہے
یہ دسمبر بھی جا رہا ہے
یادیں دے کر
وہ روشنیوں کا باسی اندھیروں کا اسے کیا معلوم
رگ جاں کو کیسے کاٹتا ہے کوئی روگ اسے کیا معلوم
میں نے چاہا ہی نہیں کہ اسے پتا دوں اپنی بے بسی کا
لیکن یہ درد کا راستہ بھی کتنا کٹھن اسے کیا معلوم
تمہارے بعد پرندوں نے گاؤں چھوڑ دیا
تمہارے بعد درختوں پر گھونسلے نا رہے
تو آخری تھا جس نے بستی میں عشق کیا
تمہارے بعد لوگوں میں حوصلے نا رہے
سنو دسمبر لوٹ آیا ہے
تم بھی لوٹ آؤ نا
جو پھول شاخ سے ٹوٹ جائے اسے دسمبر کے آنے جانے سے مزید کوئی فرق نہیں پڑتا
خوشیاں بھی عارضی ہیں اور دکھ بھی مستقل نہیں رہتے
ہم کو منظور نہیں پھر سے بچھڑنے کا عذاب
اس لیے تجھ سے ملاقات نہیں چاہتے ہیں
کب تلک در پہ کھڑے رہنا ہے ان سے پوچھو...
کیا وہ محشر کا تماشا بھی یہیں چاہتے ہیں؟
مدّت سے خامشی ہے، چلو آج مر چلیں۔۔
دو چار دن تو گھر میں ذرا انجمن رہے۔۔!
۔۔۔
اب تو لوگ پوچھتے ہیں
کیا حال بنایا ہوا ہے
یہ کس کا ستایا ہوا ہے
ہوش اپنا گنوا بیٹھے ہو
کیا روگ لگا بیٹھے ہو
مرشد ہم برباد لوگ ہیں
ہم سے کنارا کیجیے
زِندگی تیرے راس آنے تک
ہم تُجھے گزار چُکے ہوں گے
اعجاؔز
جب ہم کسی شخص کو یہ بتادیں کہ ہم اسکے ساتھ ہر حال میں رہ سکتے ہیں تو وہ شخص پھر ہمیں ہر حال سے گزارتا ہے ۔
دل و دماغ الجھے ہوں، تو کہیں بھی چلے جاؤ سُکون نہیں ملتا !
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain