Damadam.pk
aasi-1's posts | Damadam

aasi-1's posts:

aasi-1
 


ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﮎ ﻋﺠﺐ ﺭﺍﮦ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ
ﻧﮧ ﺳﻔﺮ ﮐﺎ ﭘﺘﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﮐﺎ ﭘﺘﺎ ﮨﮯ

aasi-1
 


مرشد آپ تو واقف تھے میرے حال سے
مرشد آپ تو میرے درد پر واہ نہ کرتے

aasi-1
 
aasi-1
 
aasi-1
 

ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻧﮧ ﺭﺍﺱ ﺁﺋﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺭﻧﮧ
ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺻﺪﯾﺎﮞ ﺟﯽ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ

aasi-1
 

کچھ یہ سوچ کر بھی اشک روک لیے ہم نے
آنکھوں سے تیری تصویر نہ مٹ جائے جانے وال

aasi-1
 

زندگی کا سفر کٹ جائے گا مگر کچھ دوست بہت یاد آئیں گے
جب برسے گا ابر ...چشم ہو گی تر کچھ دوست بہت یاد آئیں گے

aasi-1
 


بلا لے اپنے پاس اے خدا
اب تیرے بندوں میں رہا نہیں جاتا

aasi-1
 

ﮨﻤﯿــﮟ ﺍﺑــــــ ﮐﮭــﻮ ﮐــﮯ ﮐﮩﺘــﺎ ﮨــﮯ
ﻣﺠﮭــﮯ ﺗــﻢ ﯾــﺎﺩ ﺁﺗــــﮯ ﮨــﻮ *
* ﮐﺴــﯽ ﮐﺎ ﮨــﻮ ﮐــﮯ ﮐﮩــﺘﺎ ﮨــﮯ
ﻣﺠــﮭﮯ ﺗــﻢ ﯾــﺎﺩ ﺁﺗــﮯ ﮨــﻮ *
* ﺳﻤﻨــﺪﺭ ﺗﮭــﺎ ﺗــﻮ ﺯﻭﺭ ﻭ ﺷــﻮﺭ ﺳــﮯ
ﻟﮩــﺮﯾﮟ ﺑﮩــﺎﺗﺎ ﺗﮭــﺎ *
* ﺍﺑــــــ ﻗﻄــﺮﮦ ﮨــﻮ ﮐــﮯ ﮐﮩــﺘﺎ ﮨــﮯ
ﻣﺠــﮭﮯ ﺗــﻢ ﯾــﺎﺩ ﺁﺗــﮯ ﮨــﻮ *
* ﺑــﯿﺎﮞ ﮐــﺮﺗــﮯ ﺟــﻮ ﺣــﺎﻝِ ﺩﻝ
ﺗــﻮ ﯾــﻮﮞ ﻣﺴﮑــﺮﺍ ﺩﯾﺘــﮯ *
* ﺍﺑــــــ ﻭﮨــﯽ ﺭﻭ ﮐــﮯ ﮐﮩــﺘﺎ ﮨــﮯ
ﻣﺠــﮭﮯ ﺗــﻢ ﯾــﺎﺩ ﺁﺗــﮯ ﮨــﻮ *
* ﻧــﮧ ﭘــﻮﭼــﮫ ﺍُﺱ ﮐــﯽ
ﺑــﺪ ﻧﺼــﯿﺒﯽ ﮐﺎ ﻋــﺎﻟــﻢ ﻣﺤــﺴﻦ *
* ﻭﮦ ﻣﺠــﮫ ﮐــﻮ ﮐﮭــﻮ ﮐــﮯ ﮐــﮩﺘﺎ ﮨــﮯ
ﻣﺠــﮭﮯ ﺗــﻢ ﯾــﺎﺩ ﺁﺗــﮯ ﮨــﻮ

aasi-1
 

تجھ سے اے خدا گلہ کچھ بھی نہیں
جانتا ہوں محبت کا صلہ کچھ بھی نہیں
ہاتھ اٹھائے یوں ہی کھڑا ہوں میں
اور لبوں پہ حرف دعا کچھ بھی نہیں
کیا تلاش کرتے ہو اب جلے ہے آشیانے میں
یہاں فقط راکھ کے سوا کچھ بھی نہیں
کیا جانتا میں سبب جدائی کا
اس نے بھی تو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
مقدر سے اپنا شکوہ تو بنتا ہے عاصی~
اس کا لکھا مجھے ملا کچھ بھی نہیں

aasi-1
 

ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮨﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺭﺍﺱ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ
ﮐﭽﮫ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﺩﺍﺱ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ
ﺩﻝ ﮐﮯ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﺟﺰﯾﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺍﮐﺜﺮ
ﺗﯿﺮﮮ ﻟﻮﭦ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﺱ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ

aasi-1
 

ہاتھوں کی لکیروں کو جلا دیا میں نے
جو مقدر میں لکھا تھا مٹا دیا میں نے

aasi-1
 


مانا کہ یہ سب خدا لکھتا ہے
مگر سب کے مقدر وہ جدا جدا لکھتا ہے
خود بھی بدل جاتے ہیں مقدر عاصی
وہ تقدیر کو پلٹنے کے لیے دعا لکهتا ہے

aasi-1
 

ہزاروں لوگ آئیں گے جنازے پر میرے
جب میں احساس تنہائی سے مر جاؤں گا

aasi-1
 

ہنسی میں غم کو چھپا دیتا ہوں
تیری یاد آتی ہے تو مسکرا دیتا ہوں
روز اک نیا خط لکھتا ہوں تجھے
اور روز صبر کے دریا میں بہا دیتا ہوں
نا جانے کس غلطی پر تو خفا ہے مجھ سے
میں ہر ایک بات پر خود کو سزا دیتا ہوں
نیند بھی خفا ہو کر مجھ سے دور ہو گئی ہے
میں خوابوں میں بهی تجھے ایسی صدا دیتا ہوں
شب فرقت میں آنسو بہانے کے بعد
تجھے میں خوشیوں کی دعا دیتا ہوں
یہ شاعری تو ایک بہانہ ہے عاصی~
دل سے سنو تو میں تمہیں صدا دیتا ہوں

aasi-1
 


ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺭﯾﻞ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ
ﺑﻐﯿﺮ ﭨﮑﭧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮨﻮﮞ

aasi-1
 

یاد کے ساحل پر درد کے پہرے ہیں
یہ دیوانے اس بار کہاں آ کر ٹھہرے ہیں
ابھی زخموں سے خون رستا ہے
ابھی نہ چھیڑو ابھی گهاو بہت گہرے ہیں

aasi-1
 

ابھی کچھ سانسیں باقی ہیں
ابھی کچھ اور دن رونا ہو گا

aasi-1
 

ﻭﮦ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺭ ﻧﮕﺮ ﮐﺎ ..
. ﻣﯿﮟ ﻣﻨﻈﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﭽﮯ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﺎ

aasi-1
 

ﺍﮎ ﺑﺎﺭ ﭼﻨﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﻋﺸﻖ
ﭘﻬﺮ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺳﻔﺮ ﺭﮨﺎ