تجھ سے اے خدا گلہ کچھ بھی نہیں جانتا ہوں محبت کا صلہ کچھ بھی نہیں ہاتھ اٹھائے یوں ہی کھڑا ہوں میں اور لبوں پہ حرف دعا کچھ بھی نہیں کیا تلاش کرتے ہو اب جلے ہے آشیانے میں یہاں فقط راکھ کے سوا کچھ بھی نہیں کیا جانتا میں سبب جدائی کا اس نے بھی تو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں مقدر سے اپنا شکوہ تو بنتا ہے عاصی~ اس کا لکھا مجھے ملا کچھ بھی نہیں
ہنسی میں غم کو چھپا دیتا ہوں تیری یاد آتی ہے تو مسکرا دیتا ہوں روز اک نیا خط لکھتا ہوں تجھے اور روز صبر کے دریا میں بہا دیتا ہوں نا جانے کس غلطی پر تو خفا ہے مجھ سے میں ہر ایک بات پر خود کو سزا دیتا ہوں نیند بھی خفا ہو کر مجھ سے دور ہو گئی ہے میں خوابوں میں بهی تجھے ایسی صدا دیتا ہوں شب فرقت میں آنسو بہانے کے بعد تجھے میں خوشیوں کی دعا دیتا ہوں یہ شاعری تو ایک بہانہ ہے عاصی~ دل سے سنو تو میں تمہیں صدا دیتا ہوں