ہونٹوں سے مسکراتا ہوا آنکھوں سے اشکبار لگتا ہے شہرِ تمنا کا ہر ایک شخص مجھے فنکار لگتا ہے میں نے سوچا تھا کہ فقط دو چار ہوں گے یہاں تو پورا شہر ہی محبت کا بیمار لگتا ہے لوگ تعلق میں بھی اب نفع نقصان دیکھتے ہیں محبت بھی اب ............ایک کاروبار لگتا ہے نجانے تم پر کیا بیتی جو تم لکھتے ہو مجھے تو فقط اپنے لیے ہی تیرا ہر اشعار لگتا ہے کون نبھاتا سدا الفت میں کیے ہوئے عہد عاصی~ مجھے تیرا یہ وفا کا فلسفہ بے کار لگتا ہے