دو سوندھے سوندھے سے جسم جس وقت ایک مٹھی میں سو رہے تھے لبوں کی مدھم طویل سرگوشیوں میں سانسیں الجھ گئی تھیں مندے ہوئے ساحلوں پہ جیسے کہیں بہت دور ٹھنڈا ساون برس رہا تھا بس ایک روح ہی جاگتی تھی بتا تو اس وقت میں کہاں تھا؟ بتا تو اس وقت تو کہاں تھی
تمہی کو خاص رکھا ہے، تمہی مخصوص ٹھہرے ہو...! جگہ اب بھی وہی پہلی ، عنایت پہلے جیسی ہے...!!! سنو! کیا خوف ہے تم کو اگرچہ لوٹنا چاہو...!!! تمہارے واسطے اب بھی، رعایت پہلے جیسی ہے...!! ابھی بھی منتظر ہوں میں ، ابھی بھی تیری خواہش ہے یہاں کچھ بھی نہیں بدلا، روایت پہلے جیسی ہے...!!!
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے🥀 سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے 🥀 میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا🥀 میں ہوں میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے🥀 عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی🥀 میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے🥀 مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر🥀 تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے🥀 تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے 🥀
naa jaaney kaisi hawa chali hay k shehar saara badal gaya hay kisi ki aankhain badal gayi hain kisi ka chehra badal gaya hay haseen din thay jameel raatain naa khatam hoti theen apni baatain ajeeb chup see thehar gayi hay woh jub say lehjaa badal gaya hay fazayain beynoor horahi hain hawayain chup chaap ro rahi hain bus ik judaayi say apnay ghar ka tamaam naqsha badal gaya hay ab apni manzil nahin hay koi ab apna rasta nahin hay koi kisi say manzil badal gayi hay kisi say rasta badal gaya hay nazar say guzrey to daikh laina jo yaad aayey to soch laina kabhi to shak saa guzarney lagta hay jaisey rishta badal gaya hay
انسان تنہا تب نہیں ہوتا جب وہ اکیلا ہوتا ہے بلکے انسان تنہا تب ہوتا ہے جب اسکی بات سننے والا کوئی نہیں ہوتا ...اگر انسان کے ساتھ لوگوں کی بھیڑ بھی ہو مگر اس کو سمجھنے والا کوئی نہ ہو تو یہ بھی ایک تنہائی ہوتی ہے