اک آنسو گرا تو میں ہنس پڑی
میری کوشش تھی کہ دوسرا نہ گرے
ہم نے کب مانگا ہے تم سے اپنی وفاؤں کا صلہ
بس درد دیتے رہا کرو محبت بڑھتی جائے گی
سانسوں کے سلسلے کو نہ دو زندگی کا نام
جینے کے باوجود بھی مر جاتے ہیں کچھ لوگ
مجھ سے روٹھ جاتے ہیں اکثر میرے اپنے
شاید میرے خلوص میں کمی سی ہے
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے ایک مکمل
ٹوٹ جاتا ہے اور دوسرے کو کچھ بھی نہیں ہوتا
good morning
ہم نے کب تم سے ملاقات کا وعدہ چاہا
دور رہ کر بھی تمہیں تم سے زیادہ چاہا
ہمیں تو پیار کے دو پل بھی نصیب نہ ہوئے
اور بدنام ایسے ہوئے جیسے پیار ایجاد کیا ہم نے ہو
میری تحریر سے وہ ڈھونڈنے نکلے ہیں مجھے
میں نے بھی الفاظ لکھے ہاتھ نہ آنے والے
میری ہر ایک امید کا قاتل
تیرا اک لفظ خدا حافظ
اب وہ انگلیاں اٹھاتے ہیں سائیں
جن کو ہاتھ اٹھا کر مانگا تھا
بڑھ جاتی ہے کچھ اور بھی مٹھاس
تیری یاد ملا کر جو پی لوں کبھی چائے
میرے لفظوں میں قید ماتم کو
لوگ سن سن کر داد دیتے ہیں
وہ جو تعمیر ہونے والی تھی
لگ گئی آگ اس عمارت کو
حاصل کر کیجئیے یا گنوا دیجئے
مگر محبت کو استعمال مت کیجئے
ہم تسلیم کرتے ہیں ہمیں فرصت نہیں ملتی
مگر جب یاد کرتی ہوں تو زمانہ بھول جاتی ہوں
جو ملا اس سے گزارا نہ ہوا
جو ہمارا تھا ہمارا نہ ہوا
ہم کسی اور سے منسوب ہوئے
کیا یہ نقصان تمہارا نہ ہوا
بےتکلف بھی وہ ہو سکتے تھے
ہم سے کوئی اشارہ نہ ہوا
دونوں ایک دوسرے پے مرتے رہے
کوئی بھی اللہ کو پیارا نہ ہوا
ہمیں گرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں لوگ
ہمارا سہارا لے کر اٹھنے والے لوگ
تم نے دیکھی ہی نہیں عشق قلندر کی دھمال
پاؤں پتھر پے بھی پڑتا ہے تو دھول اڑتی ہے
چاہتوں کا مان کون رکھتا ہے
ضرورت کے مارے ہیں لوگ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain