اب اُس کے ستم سہنے کا یارا بھی نہیں ہے اور اُس کے بغیر اپنا گزارا بھی نہیں ہے یہ معرکہء عشق ہے اور اس میں ازل سے جیتا بھی نہیں ہے کوئی ہارا بھی نہیں ہے ہر تازہ مصیبت پہ خیال آتا تھا جس کا اِس بار اُسے دل نے پکارا بھی نہیں ہے بے دم ہوئے دریائے محبت کے شناور اور دور تلک کوئی کنارا بھی نہیں ہے وہ کیسے سمجھ پائے خم و پیچ غزل کے جس نے تری زلفوں کو سنوارا بھی نہیں ہے گو عشق میں ہے دین کا دنیا کا بھی نقصان دیکھیں تو کوئی ایسا خسارہ بھی نہیں ہے بجنے لگا پھر کوچ کا نقارہ یکایک سر سے ابھی سامان اتارا بھی نہیں ہے