خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکهنا کمال یہ ہے ہوا کی ضد میں دیا جلانا، جلا کے رکهنا کمال یہ ہے ذراسی لغزش پہ توڑ دیتے ہیں سب تعلق زمانے والے سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکهنا کمال یہ ہے کسی کو دینا یہ مشورہ کہ وہ دکھ بچهڑنے کا بهول جائے اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چهپا کے رکهنا کمال یہ ہے خیال اپنا، مزاج اپنا، پسند اپنی، کمال کیا ہے جو یار چاہےوہ حال اپنا بنا کے رکهنا کمال یہ ہے کسی کی راہ سے خدا کی خاطر، اٹهاکےکانٹے،ہٹاکے پتھر پهر اسکے آگے نگاہ اپنی جهکاکےرکهنا کمال یہ ہے🔥 Mahii 💔