سنو! آفس کو جاتے کیوں نہیں سنو ! یہ غم بھلاتے کیوں نہیں دل خزاں رسیدہ برگ-ساکن ہے تیرا تم اپنے غم کوسولی چھڑھاتے کیوں نہیں مسمار ہونے کا بہت شوق ہے مجھ کو تم سنگ یہ مجھ پر گراتے کیوں نہیں یادیں رہ گئی ہیں جو یاد کرنے کو انہیں کل پر اٹھاتے کیوں نہیں محبت روٹھنے کی خواہش کر رہی ہے تم اس کو آخر مناتے کیوں نہیں مرے سب زخم تاروں کی طرح ہیں اپنے ماتھے پہ یہ جھومر سجاتے کیوں نہیں نقصان ہوتی ہیں جلدیاں اتنی تم ہتھیلی پہ سرسوں جماتے کیوں نہیں🔥 Mahii 💔