ہم یوسفِ زماں تھے ابھی کل کی بات ہے تم ہم پہ مہرباں تھے ابھی کل کی بات ہے وہ دن بھی تھے کہ ہم ہی تمہاری زباں پہ تھے موضوعِ داستاں تھے ابھی کل کی بات ہے اے کاروانِ انقلاب و گل تم کو یاد ہو ہم میرِ کارواں تھے ابھی کل کی بات ہے جن دوستوں کی آج کمی ہے حیات میں وہ اپنے درمیاں تھے ابھی کل کی بات ہے کچھ حادثوں سے گر گٸے محسن زمین پر ہم رشکِ آسماں تھے ابھی کل کی بات ہے🔥AY JAAN E ALI G💔
قصور وار ہیں سب، اعتراف کون کرے سزا کا فیصلہ اپنے خلاف کون کرے بڑے خلوص سے مِلتے ہیں ظاہراً سب دوست کسی کے دل میں ہے کیا، انکشاف کون کرے ہزار تلخ سہی، ذائقہ حقائق کا حقیقتوں سے مگر انحراف کون کرے کھڑی ہے راہ میں کہنہ روایتوں کی فصیل ہے کس میں حوصلہ، اس میں شگاف کون کرے ہو صاف آئینۂ دل تو کچھ نظر آئے اس آئینے سے مگر گَرد صاف کون کرے محاسبہ بھی ضروری تو ہے، مگر دؔ خود اپنے آپ کو، اپنے خلاف کون کرے🔥 Mahii 💔