:گھر کے مسئلے ہوں، سپنوں کا بوجھ ہو، اور اندر کہیں میں خود مر چکا ہوں—ان سب کے بعد جب کوئی پوچھتا ہے ”کیسے ہو؟“ تو زبان پر بس ایک ہی جواب آتا ہے: ”بہت ٹھیک ہوں.“ کیونکہ سچ بتانے کی ہمت برداشت نہیں ہوتی۔ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو شور نہیں کرتے، بس انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ خواب آنکھوں میں جاتے ہیں مگر حقیقت کی دیوار سے ٹکرا کر بکھر جاتے ہیں، اور دل چاہ کر بھی چھپ نہیں پاتا۔ وقت گزرتا ہے، چہرہ بنستا رہتا ہے، مگر اندر ایک تھکن بسی رہتی ہے جو کسی نیند سے نہیں اترتی۔ لوگ سمجھتے ہیں خاموشی مضبوطی ہے، جبکہ یہ سب سے گہرا روب ہوتی ہے۔ اس لیے جب کوئی پوچھتا ہے ”کیسے ہو؟“ تو ہم ٹھیک ہیں، کیونکہ دنیا کو دکھانے کے لیے مسکراہٹ کافی ہوتی ہے، اور سچ سننے کے لیے بہت کم لوگ تیار ہوتے ہیں. Arfa ch ✍️
*سرِ لا مکاں سے طلب ہوئی ۔۔۔* *سوئے منتہیٰ وہ چلے نبی ﷺ ۔۔۔* *کوئی حد ہے ان کے عروج کی ۔۔۔* *صَلُّوا علَیہِ وَ آلِہٖ ۔۔۔* 🫀❤️🔥 , Apni duaon mn yad rikhia ga sab Request hai ... Arfa