گرانہ ! فاصلی مو زکہ جوڑی کڑی
مینہ لیونئی دہ زڑہ، خطا نہ شی
او
دردہ زڑہ کی کینہ بیرتہ اوزہ مہ
خوند کوی بی سا زڑہ ، چی پہ سا نہ
خیال دَ عزت ساتمہ
مین زڑہ پٹ ساتمہ
بیگاہ سبا تہ رسوم
سترگو کی ٹک ساتمہ
وختہ ستا ھر یو سختی
پہ زڑہ یو گٹ ساتمہ
لمدی می سترگی نہ شی
سہ یاد ابد ساتمہ
خلق تری روان کی مطلب
زکہ خلہ چپ ساتمہ
!عزت لپارہ حیدر
ڈک زڑہ ستا ۔۔تش ساتمہ
اتنی۔۔۔ سی تو ہے
!میری تکلیف کی روداد جانم
دور سے دیکھ کے تجھے، مڑ کے چلے جاتے ہیں
☺
میں اپنی دوستی کو شہر میں رسوا نہیں کرتا
محبت میں بھی کرتا ہوں مگر چرچا نہیں کرتا
☺
دل تو اس کا بھی دھڑکتا ہوگا
ہو میرے دل کی آخری دھک جب؟
حیدر
تھوڑا ہی سا تو تھا۔۔۔
تعلق وہ عشق کا
جلنے کو اب سزا جو ملی ،
ہے وہ تا حیات
حیدر
کیا کروں؟؟
اس کو سوچوں اکیلے جب جب بھی
دل، ۔۔۔۔۔۔۔ بن کے شاعر ابھر کے آتا ہے
حیدر
ساتھ رہنے کی قسمت کہاں سے لاتا میں
صاف دکھتا ہے کسی اور کی امانت ہے
حیدر
یوں تو دوری ہے فاصلے بھی ہیں
دل ! تجھے کیوں نہیں نظر آتے
حیدر