Yaad Mehboob Ki Aur Sardi Urooj Ki,
Dekhte Hain Aaj Humein Kaun Bimar Karta Hai
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
ادا قاتل، بیاں قاتل، زباں قاتل، نگاہ قاتل
تمہارا سلسلہ شاید کسی قاتل سے ملتا ہے
مر چکا ہے دل مگر زندہ ہوں میں
زہر جیسی کچھ دوائیں چاہییں
پوچھتی ہیں آپ، آپ اچھے تو ہیں
جی میں اچھا ہوں، دوائیں چاہییں
killme
: کبھی کبھار اسے دیکھ لیں کہیں مل لیں
یہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو -
اتنی کشش تو ہو نگاہِ شوق میں ساقی
اِدھر دل میں خیال آئے اُدھر وہ بے قرار ہو جائیں
یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ
نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا
غزل کے روپ میں وہ رُوبرُو جو ہو محسن
لبوں سے لفظ اُڑیں ، ہاتھ سے کتاب گرے
umeed to he tm ao gi
Pr ye nhe pata kb ao gi
rakhi he nazar raste pe
jis raste se tm ao gi.
for someone special.
یہ جو انگار دل کی شریانوں میں ہلچل مچا رہی ہے
وہ ظالم اب بهی خود کو ائینے میں سجا رہی ہے