Look like a girl act like a lady work like a boss
i am proud to be a woman
happy women's day to all of uhhh my brave womens
تمیں پتا ہے آنکھوں میں بھر آنے والے آنسوؤں کو واپس دھکیل کر بولنا پڑھ جاۓ تو کتنا ضبط کرنا پڑتا ہے,رونے سے کچھ نہی ہو گا أسے بھول کر آگے بڑھ جاؤ,آگے بڑھتی ہوں تو اسکی آواز میرا راستہ روکتی ہے پیچھے پلٹتی ہوں تواسکی آنکھوں کی لاتعلقی میرے وجود کے ریشے ریشے کر دیتی ہے اسکے اور میرے درمیان ناممکن کے لفظ کی گہری کھاہی ہےمیں بہت بدنصیب ہوں کہ جس کے ایک قدم کے فاصلے پر وہ کھڑا ہے مگر میں ہاتھ بڑھا کر اسے چھو نہی سکتی
ہم غریبوں کے دکھ بہت گہرے ہوتے ہیں ہمھارے کمروں کی دیواریں ساونڈ پروف نہی ہوتییں ہمیں ایک ہی کمرے میں اپنے دکھ کسی کی خوشی کسی کے سکون کی خاطر سینے میں دفن کرنے پڑتے ہیں محبت ہم جیسوں کیلیے رحم کے آپشنز نہی رکھتی ہمھارا نروس بریک ڈاؤن نہی ہوتا ہمیں موت آنے تک جینا پڑتا ہے
بے ربط آنسو تیری محبت کے
سوکھ جاہیں تو صبر آ جاۓ
ہم نے جو کی تھی محبت آج بھی ہے
تیری زلفوں کے سائے کی چاہت آج بھی ہے
رات کٹتی ہے آج بھی خیالوں میں تیرے
دیوانوں سی وہ میری حالت آج بھی ہے
کسی اور کے تصور کو اٹھتی ہی نہیں
بیمان آنکھوں میں شرافت آج بھی ہے
چاہ کے اک بار چاہے پھر چھوڑ دینا تُو
دل توڑ، تجھے جانے کی اجازت آج بھی ہے۔۔
آج میرے شہر کا موسم میرے سرکار جیسا ہے گرجتا برستا مگر سانس سانس کو بھگوتا ہوا۔😁
: وہ پھر بطور کہانی کار حاضر ہوا چاہتا تھا کہ کہانی کا "وہ" انجام رہنے دیا جائے ۔ وہ پھر اسی مسودے کو بھرپور توجہ دینے کے لیے پر تول رہا تھا لیکن لکھاری "کسی اور"کے مطابق بھلا کہاں لکھتا ہے؟ کیونکہ ! ہم دونوں ہی کہانی کار تھے اور اپنی تحاریر کا بہترین انجام جانتے تھے سو میں اپنی کہانی مکمل کر چکی تھی اور وہ میری کہانی سے نکل کر پھر ایک نئی کہانی ڈھونڈ رہا تھا...!
💔سب کو اپنا کہنے والی لڑکی کتنی تنہا تھی سب کے دل کو سننے والی لڑکی کتنی تنہا تھی سب کی آنکھوں کا تارہ تھی لیکن اپنی پلکوں سے اپنے سپنے بننے والی لڑکی کتنی تنہا تھی دن بھر گھر کے کاموں کی الجھن سے چھپ چھپ کر رونے اور جاگنے والی لڑکی کتنی تنہا تھی کتنی خوش لگتی تھی لیکن اپنے سارے رنج و غم
دل میں رکھنے والی لڑکی کتنی تنہا تھی
کتنے سارے رشتے ناطے اسکو حاصل تھے لیکن چپ چپ رہنے والی لڑکی کتنی تنہا تھی💔
تم دیس بدل لینا تم بھیس بدل لینا___
ہوسکے تو میرے ذکر سے مکر جانا___
لوگ باتوں باتوں میں میرا پوچھے تو
تم انجان بن جانا میرے وجود کو مٹا دینا___
لیکن_کیا؟تم جب خود کو بہت تنہا پاو گے___
بے دھیانی میں جب مجھے پکارو گے___
تو کیا تمکو تب میرے نا ہونے سے فرق پڑے گا؟
کیا ایسا ممکن ہے کہ تمکو میرے نا ہونے سے فرق پڑے
کبھی ہی سہی_اک پل کے لیے ہی سہی___
جب اک دن میری آنکھوں کی بینائی تمہیں دیکھنے کے لیے نا رہے گئ___
جب میرے لب تمہیں پکارنے کے لیے نا رہیں گے___جب میری وال پر مکمل سناٹا چھایا ہوگا___میرے انباکس پر جامد چپ ہوگئی اور لاسٹ سین کی جگہ کچھ بھی دکھائی نا دے گا___
جب میرے الفاظ مخاطب کرتے کرتے تھک جائینگے___
جب میرے لفظوں کی سسکیاں کی آخری سانسیں رخصت ہوجائینگی___
جب تمہارے گرد دنیا کا ہجوم ہوگا اور اس ہجوم میں میرا بے کار وجود نا دکھائی دے گا___تو کیا تمکو اک پل کو میری یاد آئے گی؟کیا میرے نا ہونے پر فرق پڑے گا؟ کیا تم بس میرے لفظوں کی سسکیاں اور اپنی بے رخی ترازوں میں تول سکو گے؟ نہہں نا___
تو تم بس اتنا یاد رکھنا___
ہجرت اک اذیت ہے جس کا راستہ کرب کا ہے
جس کے موڑ درد دیتے ہیں یہ اک تکلیف دہ مسافت ہے
جو ہجرت کی مسافت پر ہوں
وہ لوٹ کر نہہں آتے___
اُس کو شکوہ ہے میری قلتِ گویائی کا
جس نے پوچھا ہی نہیں مجھ سے کبھی! ’’کیسی ہو؟
پتہ ہے بعض دفعہ ہم خود ہی خود کو ڈی گریڈ کر دیتے ہیں کسی کی مسلسل قدر کر کے ہر بات برداشت کر کے۔۔۔ ہم اس کی انا کو ہمیشہ جیت جانے دیتے ہیں اور اپنی انا کو کچل دیتے ہیں تو کیا لازم ہے جب دوسرے کو قدر نہ ہو تو بھی آپ ہمیشہ ہی خود کو ذلیلکریں
نہیں ایک پوائنٹ ایسا بھی آتا ہے جہاں محبت ختم نہیں ہوتی سکت ختم ہو جاتی
نہ نہ انا کی بات نہیں سکت نہیں ہوتی کہ ہر بار وجود بکھرے اور ہر بار خود کو سمیٹ کر قدموں میں رکھ دیا جائے
پتہ ہے کوئی کسی کے لئے نہیں مرتا
(ایک پل محبت کے دعوے کرنے والے اگلے لمحے ایسا بدلتے ہیں کہ بے یقینی وجود لرزا دیتی ہے)نہیں اب خود کخود سمیٹنے کی طاقت نہیں ہے محبت کتنا بھی چیخے پھر سے ان راہوں میں رائیگاں ہونے کو کچھ نہیں ہوگا اذیت رہے گی، بے بسی رہے گی اور وجود بکھرا رہے گا, اسکی راہوں سے کہیں دور بہت دور
جن لوگوں کو هم آسانی سے میسر آجاتے هیں وه هماری قدر نهیں کرتے اور جن کو هم دستیاب نهیں هوتے وه همارے لیۓ مرے جارهے هوتے هیں کتنا تضاد هے نا چاهے جانے میں اور چاهنے میں.
ﻣﯿﮟ ﻓﻘﻂ ﺍﺗﻨﯽ ﺳﭽﯽ ﮨﻮﮞ
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻧﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﯼ ﮨﻮﮞ 🌚
انتقاماً معاف کرتی ہو اتنی گہری میری عدالت ہے
لوگ بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں مجھے کہ ۔۔۔
اتنی اداس مت رہا کرو ۔۔۔ اگر تمہیں پتہ چل چکا ہے کہ تم بہت سے لوگوں کی کہانیوں میں ایک "اضافی کردار" یا غیر ضروری حصہ رہی ہو تو پھر تم چپ کر کے منظر سے غائب کیوں نہیں ہو جاتی ۔۔؟ خود کو تکلیف کیوں دیتی ہو۔۔؟
اور میں جواب میں بس پھیکا سا مسکرا کے رہ جاتی ہوں ۔۔۔ اب لوگوں کو کیسے بتاؤں ۔۔۔؟ کہ خود کا استعمال کیا جانا ۔۔۔ مجھے تکلیف نہیں دیتا ۔۔۔ تکلیف دیتا ہے استعمال ہونا ۔۔۔! دوسروں کیلئے میں اضافی ہوں یا غیر ضروری ۔۔۔ مجھے اس بات سے کوئ فرق نہیں پڑتا ۔۔۔ فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ ۔۔۔۔ اگر واقعی میں غیر ضروری ، اضافی اور بے وقعت تھی تو مجھ پہ محض اپنا کام نکلوانے کیلئے "توجہ " ہی کیوں کی گئ ۔۔۔!
میں نے سب کچھ قبول ہی اتنی جلدی کر لیا ہے کہ اب کسی محرومی کا ڈر نہیں ۔۔۔ سب کی عادت چھوٹ چکی ہے ۔۔۔ ہاں بس فرق صرف یہ ہے کہ میں دوسری بار زندگی کی طرف آنے کی بجائے ۔۔۔ اداسی کی دنیا میں قدم رکھ رہی ہوں اور یقین کرو ۔۔۔ اس دنیا میں بہت سکون ہے کیونکہ اس میں حاصل کی نا قدری نہیں ہے نا ہی طلب کے پیچھے باگ دوڑ ۔۔۔ بہت اطمینان ہے مجھے جو میرے پاس بچ گیا ہے یعنی کہ میں "خود " میں اسی میں ہی خوش ہوں ۔۔۔ اب رشتوں کی طلب مجھے لوگوں کے پیچھے نہیں بھگاتی
دیکھو ناں کتنی ساری چیزوں نے تمہاری جگہ لے لی ہے ۔۔۔اب تم ۔۔۔ لوٹنے کی غلطی مت کرنا ۔۔۔ اب تم نہیں ۔۔۔! تمہارا " غم " معتبر ہے
اب تم میرے نزدیک " غم "ہو اور یہ غم میرے نزدیک بہت معتبر ہے ۔۔۔ ! معتبر کا مطلب سمجھتے ہو ۔۔۔؟ قابلِ احترام تم پہلے بھی میرے نزدیک قابلِ عزت ہی تھے ۔۔۔مگر "حیات" بن کر "غم " بن کر نہیں ۔۔۔۔۔
اب غم بن کر معتبر ہو ۔۔۔۔ پہلے تمہارا وجود ۔۔۔ جینے کی وجہ بن رہا تھا ۔۔۔۔ اب تمہاری دوری ۔۔۔۔ !!
بیچ کی چاہت نہیں مٹی ۔۔۔۔ ہاں تمہاری جگہ ضرور بدل گئ ہے ۔۔۔ کیونکہ میں بدل گئی ہوں ۔۔۔۔ پہلے تم دوا تھے میری ۔۔۔۔ اب میں دوائیوں پہ آ گئ ہوں۔۔۔۔ پہلے تم یقین تھے ۔۔۔ اب مجھے ہر انسان پہ ہنسی آتی ہے ۔۔۔ پہلے تم سکون دیا کرتے تھے ۔۔۔ اب مجھے میگرین کے اٹیک ہوتے ہیں ۔۔۔پہلے مجھے بولنا پسند تھا ۔۔۔۔ اب بولتے چہرے جھوٹے لگتے ہیں ۔۔۔ پہلے میں مسلسل اور بے اختیار ہنستی تھی ۔۔۔ اب جب تک روو ناں لوں دل ہلکا ہی نہیں ہوتا ۔۔۔ دیکھو ناں کتنی ساری چیزوں نے تمہاری
مجھے اپنے نام سے بلا کی الفت ہے نا جانے کیوں ۔۔۔؟ مگر مجھے اپنا نام بہت خوبصورت لگتا ہے ۔۔۔ میں اپنی آئ ڈی کے کئ نام بدلتی رہتی ہوں۔۔۔ اپنی زندگی میں آتے جاتے اتار چڑھاؤ کے مطابق ۔۔۔ مگر پھر بھی مجھے اپنے نام کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے ۔۔۔ شاید اسی لگاؤ کی وجہ سے میں نے اپنا کوئ قلمی نام نہیں سوچا آج تک ۔۔۔ ہوتا ہے ناں ۔۔۔کسی ایک انسان پر ، ایک نام پر ، کسی ایک خاص ڈیزائن پر انسان کی کئ سالوں کی تلاش ختم ہو جاتی ہے ۔۔ مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ میری ناموں کے متعلق تلاش ۔۔۔ میرے نام پر ختم ہو جاتی ہے ۔۔۔ میرا اصل ،میرا وجود ، میرا خیال ، میری سوچ جیسے سب کچھ بس میرا نام ہے ۔۔۔ شاید میرے نام کے معنی کی وجہ سے ۔۔۔جس کا بہت گہرا اثر ہے مجھ پر ۔۔۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain