سنا رہا تھا کوئی قصہ اداس لوگوں کا،🔥 پھیلتا جا رہا ہے فتنہ اداس لوگوں کا۔ سسک سسک کے رو کر کہہ رہا تھا وہ،🔥 کبھی نا ختم ہو گا فرقہ اداس لوگوں کا۔ چھوڑو دل دکھانا دل میں رہنا سیکھو،🔥 حسن والوں کو ہے مشورہ اداس لوگوں کا۔ یہ جو شاعری پر کرتے ہیں واہ واہ لوگ،🔥 یہ داد بھی تو ہے صدقہ اداس لوگوں کا۔ ہنسی خوشی مسکان چین و سکوں قرار سب🔥 ملتا ہے تمہیں یہ حصّہ اداس لوگوں کا۔ آنسو غم آہیں چیخ و پکار درد،🔥 سب سے الگ تھلگ ہے قصبہ اداس لوگوں کا آؤ انہیں اپنا لو یا پھر زہر دے دو،🔥 ہو جائے تمام قصہ اداس لوگوں کا !!! 💔💔💔💔💔💔